مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرینڈ جرگہ، متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق
صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا
۔
پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صوبائی حکومت کے زیر اہتمام ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی کابینہ کے اراکین، خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، سیاسی جماعتوں کے صوبائی صدور و جنرل سیکرٹریز، منتخب عوامی نمائندوں، ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے قومی و صوبائی پارلیمنٹیرینز، اور ضم شدہ اضلاع و مالاکنڈ ڈویژن کی تاجر تنظیموں کے صدور نے شرکت کی۔ گرینڈ جرگے میں ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آراء اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گرینڈ جرگے کا مقصد ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اور مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع میں کوئی ٹیکس نہیں لے رہی جبکہ صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں، عوام ہی ہماری طاقت اور ترجیح ہیں، اس لیے ہمارے فیصلوں کا محور بھی عوامی مفاد ہی ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے مسائل پر ساتھ دینے پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کلچر تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی مسائل پر سب اکٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاق سے بات کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو صوبے کی تمام سیاسی قوتیں خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں گی اور ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر احتجاج کیا جائے گا اور اگر اسلام آباد جانا پڑا تو وہاں بھی جا کر صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرگے میں ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف ہم نے صوبائی ایکشن پلان بنایا ہے، اگر اس پر عملدرآمد ہو تو چار ماہ میں امن آسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ امن و امان کے موضوع پر بھی جلد ایک الگ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں امن کے قیام، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور درکار اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی حقوق، بشمول این ایف سی ایوارڈ، نیٹ ہائیڈل منافع اور وفاق کے ذمہ دیگر واجبات کے حصول کے لیے بھی اسلام آباد میں ایک بڑا جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ سیاسی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا تاکہ صوبے کا مالی مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکے۔
.
وفاق کے سامنے ایک مشترکہ، مضبوط اور مؤثر مؤقف پیش کیا جائے گا۔ گورنر خیبرپختونخوا
۔