The Voice of Chitral since 2004
Monday, 20 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرینڈ جرگہ، متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق

Chitral Times

مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرینڈ جرگہ، متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق

مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرینڈ جرگہ، متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق

مالاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرینڈ جرگہ، متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق
صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا

۔

پشاور ( نمائندہ چترا ل ٹائمز ) وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صوبائی حکومت کے زیر اہتمام ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی کابینہ کے اراکین، خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، سیاسی جماعتوں کے صوبائی صدور و جنرل سیکرٹریز، منتخب عوامی نمائندوں، ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے قومی و صوبائی پارلیمنٹیرینز، اور ضم شدہ اضلاع و مالاکنڈ ڈویژن کی تاجر تنظیموں کے صدور نے شرکت کی۔ گرینڈ جرگے میں ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آراء اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ گرینڈ جرگے کا مقصد ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اور مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع میں کوئی ٹیکس نہیں لے رہی جبکہ صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی ٹیکس واپس لینے کا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں، عوام ہی ہماری طاقت اور ترجیح ہیں، اس لیے ہمارے فیصلوں کا محور بھی عوامی مفاد ہی ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے مسائل پر ساتھ دینے پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کلچر تبدیل ہو رہا ہے اور عوامی مسائل پر سب اکٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاق سے بات کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو صوبے کی تمام سیاسی قوتیں خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوں گی اور ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر احتجاج کیا جائے گا اور اگر اسلام آباد جانا پڑا تو وہاں بھی جا کر صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرگے میں ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف ہم نے صوبائی ایکشن پلان بنایا ہے، اگر اس پر عملدرآمد ہو تو چار ماہ میں امن آسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ امن و امان کے موضوع پر بھی جلد ایک الگ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں امن کے قیام، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور درکار اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی حقوق، بشمول این ایف سی ایوارڈ، نیٹ ہائیڈل منافع اور وفاق کے ذمہ دیگر واجبات کے حصول کے لیے بھی اسلام آباد میں ایک بڑا جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ سیاسی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا تاکہ صوبے کا مالی مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکے۔

.

وفاق کے سامنے ایک مشترکہ، مضبوط اور مؤثر مؤقف پیش کیا جائے گا۔  گورنر خیبرپختونخوا 

۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے حقوق اور مفادات سے متعلق ہر معاملے پر وہ صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صوبے کے تمام اہم معاملات پر پہلے باہمی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے گا، جس کے بعد وفاق کے سامنے ایک مشترکہ، مضبوط اور مؤثر مؤقف پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وفاق کی جانب سے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے خلاف صوبائی حکومت کے زیر اہتمام منعقدہ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ، جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، منتخب عوامی نمائندوں، تاجر برادری کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس اور گرینڈ جرگے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا نہایت مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد کے معاملات سیاست سے بالاتر ہیں اور ان پر اتحاد، اتفاقِ رائے اور مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گورنر نے کہا کہ اس سے قبل بھی سی این جی اور گندم کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا، جبکہ آج بھی خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے صوبے کے مسائل پر متفقہ مؤقف اختیار کیا ہے اور وفاق سے مضبوط دلائل، آئینی تقاضوں اور حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے گی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق فاٹا کے لیے سالانہ سو ارب روپے فراہم کرنے کا وفاقی وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا، جبکہ ان علاقوں کے عوام اور تاجروں سے مزید مالی بوجھ برداشت کرنے کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں تو وہاں کے تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی ملک کے دیگر بڑے شہروں کی طرح یکساں کاروباری سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں۔