جشنِ آزادی ۔ ہم کس منہ سے جشنِ آزادی منائیں؟ ۔ تحریر: گل عدن
.
سمجھ میں نہیں آیا کہ پاکستان بھر میں 14 اگست کو اتنے جوش و جذبے کے ساتھ کیوں اور کس منہ سے منایا گیا۔ میرے پاس اس سب کا صرف ایک ہی جواب بنتا ہے کہ شاید ملک بے حس، پتھر دل اور بے رحم لوگوں سے بھر گیا ہے۔ ملک میں کوئی ایک ایسا انسان، ایک ہمدرد دل رکھنے والا انسان نہیں بچا، کوئی ایک غیرت مند اور با ضمیر انسان جو کسی ایک پلیٹ فارم سے اٹھ کر یہ کہہ سکے کہ اب تک جو ہوا سو ہوا، لیکن 2026 کے ان آٹھ ماہ میں ملک میں جو درندگی، جو شرمناک اور افسوس ناک واقعات ہوئے اور ابھی بھی تسلسل سے ہو رہے ہیں، کیا ہم آزادی کا جشن منانے کے قابل رہے ہیں؟
ہم کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں؟ ہم کس سے آزاد ہیں؟
خواتین کو چھوڑ دیں، ملک میں ہونے والی لوٹ مار، مہنگائی اور بے روزگاری بھی ایک طرف، صرف معصوم بچوں کے ساتھ پچھلے چند ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے، کیا ایک آزاد اسلامی ریاست میں یہی سب ہوتا ہے؟ کیا ایسی گھٹیا تاریخ رقم کرنے کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا؟ اتنے گھناؤنے جرائم تو شاید زمانۂ جاہلیت میں بھی نہیں ہوئے تھے۔
کیا آزادی کا مطلب امن، عزت، سکون، تحفظ اور بہتر مستقبل نہیں ہے؟ جشنِ آزادی کا مقصد مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی بھی تو ہوسکتی ہے۔ مگر نہیں، ایک طرف معصوم جانوں پر ظلم کی انتہا ہے تو دوسری طرف 24 کروڑ عوام کی بے حسی اور سنگدل خاموشی۔
چودہ اگست منانے کے لیے گلی محلوں میں چراغاں کرنے والی، جلسے جلوس کرنے والی یہ بے حس عوام ایک دن نہ سہی، ایک گھنٹہ بھی نکال کر معصوم بچوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے اکٹھی نہیں ہوسکی۔ افسوس ہے اس بے حسی پر، افسوس ہے ایسی آزادی پر جس کی قیمت آج معصوم بچے ادا کر رہے ہیں۔
ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر یہ ملک حاصل تو کیا گیا ہے، لیکن یہاں بسنے والے لوگ رسولِ پاک ﷺ کی امت کی تعلیمات پر چلنے میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ قوم کسی بے رحم فرعون کی نسل معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ ان بے حس درندوں کے سامنے تو فرعون بھی شرما جائے۔
اور بالکل ٹھیک سنا تھا کہ لوگوں پر انہی کے جیسے حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ یہ جشن منانے والی قوم، جو اپنے بچوں کو آج سکول تک نہیں بھیج سکتی، ایسے ہی حکمرانوں کی مستحق ہے جو سال میں آزادی کے نام پر انہیں ایک مفت کا کیک کھلا سکیں اور جھوٹے نعروں اور کھوکھلے وعدوں کا لولی پاپ تھما کر چلتے بنیں۔
شاید ہم ایسے ہی حکمرانوں کے قابل ہیں۔
دل کی گہرائیوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں اور ہم سب کی اجتماعی بے حسی پر افسوس ہے۔
منصور آفاق نے شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے ایک بار لکھا تھا:
ترے لباس نے دنیا برہنہ تن کردی
ترے ضمیر پہ تھو، ترے اختیار پہ تف
یہی دعا ہے ترا سانپ پر قدم آئے،
ہزارہا ترے کردارِ داغ دار پہ تھو