The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جنگ جیت کر بھی انسانیت ہار جاتی ہے – اقبال عیسیٰ خان

Chitral Times

جنگ جیت کر بھی انسانیت ہار جاتی ہے – اقبال عیسیٰ خان

جنگ جیت کر بھی انسانیت ہار جاتی ہے – اقبال عیسیٰ خان

جنگ جیت کر بھی انسانیت ہار جاتی ہے – اقبال عیسیٰ خان

.

تاریخ کے اوراق جب بھی پلٹے جاتے ہیں تو ان میں صرف فتوحات کی کہانیاں نہیں بلکہ خون، آنسو اور انسانی المیوں کی داستانیں بھی نظر آتی ہیں۔ تلواروں کی جھنکار، توپوں کی گرج اور ماؤں کی سسکیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جنگ ہمیشہ تباہی اور دکھ کا پیغام لاتی ہے۔ معصوم بچوں کے خواب بارود کے دھوئیں میں جل جاتے ہیں اور وہ زندگی جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی، لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔

انسان نے صدیوں کی محنت سے تہذیب، علم اور ترقی کی بنیاد رکھی۔ ویران زمینوں کو آباد کیا، علم کے چراغ روشن کیے اور خوابوں کے شہر بسائے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے ان سب کامیابیوں کو بارہا مٹی میں ملا دیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے دنیا کو تباہی کے ایسے مناظر دکھائے جن کے زخم آج تک نہیں بھر سکے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی اس بات کی علامت ہیں کہ جب طاقت جنون میں بدل جائے تو سب سے پہلے انسانیت ہی جلتی ہے۔
تاریخ میں اس سے پہلے بھی کئی تباہ کن جنگیں ہوئیں۔ منگول حملوں نے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا اور بغداد جیسے علمی مرکز کو تباہ کر دیا۔ نپولین کی جنگوں اور تیس سالہ جنگ نے یورپ کو میدانِ جنگ میں بدل دیا جہاں بے شمار خاندان اجڑ گئے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں بھی انسان نے ان المیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ کوریا، ویتنام، عراق اور افغانستان کی جنگوں نے لاکھوں جانیں لے لیں جبکہ روس اور یوکرین کی جاری جنگ دنیا کو ایک بار پھر تباہی کی یاد دلا رہی ہے۔

آج ایران بمقابلہ اسرائیل و امریکہ اور اسکے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کی جنگ اور پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اسی خطرناک راستے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ میزائل حملوں، تباہ شدہ عمارتوں اور بے گھر خاندانوں کے مناظر یہ بتاتے ہیں کہ جنگ کبھی صرف فوجوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان اٹھاتا ہے۔ اگر ایسے تنازعات پھیل جائیں تو پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

جنگ کی تباہی صرف ہلاکتوں کی تعداد تک محدود نہیں ہوتی۔ اصل المیہ وہ درد ہے جو خاندانوں کے دلوں میں رہ جاتا ہے۔ ایک باپ کے ہاتھوں میں اپنے بیٹے کی لاش، یا ملبے کے نیچے اپنی ماں کو پکارنے والے بچے کی آواز، وہ زخم ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اکثر جنگیں کسی اعلیٰ مقصد کے لیے نہیں بلکہ طاقت، وسائل اور اقتدار کی خواہش کے لیے لڑی جاتی ہیں، مگر اس کی قیمت ہمیشہ معصوم لوگ ادا کرتے ہیں۔

جوہری دور میں ایک بڑی جنگ صرف چند شہروں کی تباہی نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے انسانیت کے پاس واحد راستہ مذاکرات، برداشت اور باہمی احترام ہے۔ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ اور سمجھداری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں کوئی بھی حقیقی معنوں میں فاتح نہیں ہوتا۔ جو قوم خود کو جیتنے والی سمجھتی ہے وہ بھی اپنے نقصان، تباہ معیشت اور کھوئی ہوئی جانوں کے سامنے ہار جاتی ہے۔ انسانیت کی اصل فتح اسی دن ہوگی جب بندوقوں کی جگہ قلم اور نفرت کی جگہ محبت کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ تحریر صرف ماضی کا ماتم نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک پیغام ہے۔ اگر انسان واقعی اشرف المخلوقات ہے تو اسے اس زمین کو جنگ کا میدان نہیں بلکہ امن کا گھر بنانا ہوگا۔ آنے والی نسلوں کو ملبہ اور قبرستان نہیں بلکہ امن، امید اور انسانیت کی روشن میراث چاہیے۔