The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 24 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جماعت اسلامی کے زیراہتمام چترا ل  لوئر اور اپر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، 

Chitral Times

جماعت اسلامی کے زیراہتمام چترا ل  لوئر اور اپر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، 

جماعت اسلامی کے زیراہتمام چترا ل  لوئر اور اپر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، 

جماعت اسلامی کے زیراہتمام چترا ل  لوئر اور اپر میں پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر ملک بھر کی طرح چترال میں بھی پٹرولیم لیوی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی چترال وجیہ الدین نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی یقین دہانی پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے احتجاجی تحریک اور اسلام آباد مارچ مؤخر کیا تھا، لیکن وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امیر جماعت اسلامی کی ہدایت پر اسلام آباد کی طرف مارچ بھی کیا جائے گا۔
وجیہ الدین نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کو جمہوری نظام پر ضرب قرار دیتے ہوئے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عرصۂ دراز سے کرپشن کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ چترال میں ترقیاتی منصوبوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور بیوٹیفکیشن کے نام پر مبینہ کرپشن کے شواہد سامنے لائے جا چکے ہیں، مگر افسوس کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے احتساب کے بجائے سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم کی انکوائری رپورٹ مبینہ کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ حکومت اگر واقعی بدعنوانی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے سیاسی انتقام کے بجائے اس رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات اور شفاف احتساب کا چترال سے آغاز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترال کے ترقیاتی فنڈز اور عوامی وسائل میں خردبرد کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

امیر جماعت اسلامی چترال نے دروش اور چترال میں جاری لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 106 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے علاقے کے عوام کا لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رہنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے بجلی کے محکمے میں عملے کی شدید کمی، میٹر ریڈنگ میں تاخیر اور کئی کئی ماہ کے یک مشت بھاری بلوں کو عوام کے لیے سنگین مشکلات کا سبب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف تین لائن مینوں اور تین میٹر ریڈرز کے ذریعے پورے علاقے کے نظام کو چلانا عوام اور محکمے، دونوں کے ساتھ مذاق ہے۔

وجیہ الدین نے مطالبہ کیا کہ چترال اور دروش میں غیر ضروری لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، بجلی کے میٹر ہر ماہ باقاعدگی سے چیک کیے جائیں، بروقت بل جاری کیے جائیں اور متعلقہ محکمے میں عملے کی کمی دور کی جائے تاکہ غریب عوام کو ناقابلِ برداشت مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چترال کے عوام کے حقوق، وسائل اور بنیادی سہولیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت سیاسی انتقام کے بجائے حقیقی احتساب کرے، عوامی مسائل حل کرے اور پسماندہ ضلع چترال کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کا خاتمہ یقینی بنائے۔

دریں اثنا اپرچترال میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی اپرچترال اسد الرحمن نے کی ،

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین، جن میں ڈپٹی سیکریٹری شجاع الدین لال،نائب امیر مختار احمد لال اور جنرل سیکریٹری اشفاق احمد ، یوتھ صدر موڑکھؤ امین الرحمٰن سمیت دیگر رہنما شامل تھے، نے پیٹرولیم لیوی کو ٹیکس کے نام پر بھتہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر غریب، مظلوم اور مفلوک الحال عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم اشرافیہ کی عیاشیوں میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر اس ناجائز بوجھ کو ختم کرے۔جلسے کے صدر اور امیرِ جماعتِ اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہماری جدوجہد طویل عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ لانگ مارچ کو امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی ہدایت پر مؤخر کیا گیا تھا، لیکن چونکہ تاحال مسئلہ حل نہیں ہوا،
اس لیے اگر امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان دوبارہ لانگ مارچ کی کال دیتے ہیں تو جماعتِ اسلامی اپر چترال کے کارکنان اس میں شرکت اور دھرنے کے لیے تیار ہیں اور اپنے امیر کے حکم کے منتظر ہیں۔انہوں نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کھیل تماشوں اور ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں، لیکن اس وقت قانون حرکت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس جب عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو دفعہ 144 کو رکاوٹ بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔

chitraltimes jamat islami protest rally against petrolium levy 8 chitraltimes jamat islami protest rally against petrolium levy 5