جماعت اسلامی لوئر چترال کا مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف عوامی تحریک کا اعلان
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)جماعت اسلامی لوئر چترال نے ضلع میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی لوئر چترال کا اجتماعِ ارکان 21 دسمبر بروز اتوار ضلعی دفتر میں امیر ضلع وجیہہ الدین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔
جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اجتماع میں کہا گیا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری اور عوامی حقوق کا ضامن ہوتا ہے، تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل نہ کر کے جمہوریت دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات 2021 کے نتیجے میں منتخب ہونے والے عوامی نمائندے پانچ سالہ مدت اختیارات کے بغیر مکمل کرنے پر مجبور ہیں۔
اجتماع میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے بلدیاتی نظام کو مضبوط اور بااختیار بنانے کے لیے ملک بھر میں ڈویژنل سطح پر دھرنوں کے آغاز کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بااختیار بلدیاتی نظام تشکیل دے کر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرے، بصورت دیگر جماعت اسلامی کی عوامی تحریک ڈویژنل سطح سے لے کر ویلج کونسل سطح تک پھیلائی جائے گی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص ضلع چترال میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مبینہ طور پر کرپشن کا بازار گرم ہے، جس سے ہر شعبۂ زندگی متاثر ہو رہا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں خردبرد، گھوسٹ منصوبوں اور پہلے سے مکمل شدہ اسکیموں کے نام پر فنڈز نکالنے جیسے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
جماعت اسلامی لوئر چترال نے ان مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف 26 دسمبر بروز جمعہ پریس کانفرنس کے ذریعے “کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ تحریک” کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجتماعِ ارکان میں اپر چترال کے علاقوں تورکہو اور تریچ میں روڈ فورم کے رہنماؤں کے خلاف مبینہ ریاستی جبر کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ روڈ فورم کے رہنما عمیر خلیل کو شیڈول فور میں شامل کرنا حکومتی فسطائیت کا ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تحریک کے ذمہ داران کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور عمیر خلیل کو فوری طور پر شیڈول فور سے نکالا جائے۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اس قسم کی کارروائیاں عوامی شعور اور بیداری کو دبانے میں ناکام رہیں گی۔

