جب ترقی نہیں، تو ٹیکس کیوں؟ – تحریر۔ فیض العزیز فیض
.
ہر سال وفاقی بجٹ آتے ہی ملاکنڈ ڈویژن کا ٹیکس استثنا ایک بار پھر بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ پورے اعتماد سے یہ رائے دیتے ہیں کہ اب اس خطے پر بھی ٹیکس نافذ کر دینا چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں جب پورا ملک ٹیکس دیتا ہے تو ملاکنڈ ڈویژن کیوں مستثنیٰ رہے۔ بظاہر یہ بات بڑی پرکشش محسوس ہوتی ہے مگر جب تاریخ، قانون اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محض ٹیکس کا نہیں بلکہ انصاف، آئینی حیثیت اور ریاستی ذمہ داریوں کا بھی ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کو حاصل ٹیکس استثنا نہ کسی حکومت کا احسان ہے اور نہ ہی کسی مخصوص طبقے کو دی گئی غیر معمولی رعایت۔ یہ ایک قانونی اور تاریخی حقیقت ہے جس کی بنیاد ریاست سوات، ریاست دیر اور ریاست چترال کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد کیے گئے انتظامی فیصلوں اور بعد میں نافذ ہونے والے قوانین پر ہے۔ اسی بنیاد پر ملاکنڈ ڈویژن کو بعض وفاقی ٹیکسوں سے استثنا دیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ یہاں کے لوگ بلاوجہ ٹیکس نہیں دیتے، تاریخ اور قانون دونوں سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ استثنا ہر شخص اور ہر قسم کی آمدنی پر لاگو نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخص کی آمدنی ملاکنڈ ڈویژن سے باہر پیدا ہو رہی ہے تو وہ عام پاکستانی قوانین کے مطابق ٹیکس ادا کرتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست نے اس خطے کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو ملک کے دوسرے علاقوں کے ساتھ کیا گیا۔ کیا ملاکنڈ ڈویژن کو وہی ترقیاتی منصوبے ملے، وہی صنعتی زون قائم ہوئے، وہی موٹرویز بنیں، وہی اعلیٰ تعلیمی ادارے اور جدید ہسپتال قائم ہوئے اور وہی روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے جن سے دوسرے علاقے مستفید ہوئے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر صرف ٹیکس کی بات کرنا انصاف نہیں بلکہ یک طرفہ سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی چترال، دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ کے بہت سے علاقے بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سڑکیں، صحت، تعلیم، صنعت اور سرمایہ کاری جیسے شعبے وہ توجہ حاصل نہیں کر سکے جس کے وہ مستحق تھے۔ سیاحت کی بے پناہ صلاحیت رکھنے کے باوجود بنیادی سہولتوں کی کمی اس شعبے کو بھی مکمل ترقی نہیں دے سکی۔ ہزاروں نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنے گھروں سے دور شہروں اور بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ کم فہم لوگ ان تمام حقائق سے نظریں چرا کر صرف ایک ہی مطالبہ دہراتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے۔ ایسے لوگوں سے کوئی پوچھے کہ کیا ٹیکس صرف عوام کی ذمہ داری ہے اور ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا نظام موجود ہے جہاں پہلے ٹیکس وصول کیے جائیں اور بعد میں یہ سوچا جائے کہ سڑکیں بھی بنانی ہیں، ہسپتال بھی قائم کرنے ہیں، صنعتیں بھی لگانی ہیں اور روزگار بھی پیدا کرنا ہے؟ اگر ریاست نے اس خطے کو ترقی کے یکساں مواقع نہیں دیے تو پھر صرف محصولات کی بات کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام ٹیکس سے بھاگنے والے لوگ نہیں۔ یہی وہ خطہ ہے جس کے نوجوان پاک فوج، پولیس اور دیگر قومی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ یہی لوگ ملک کے مختلف شہروں اور بیرون ملک محنت مزدوری کرکے زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور قومی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اگر آج بھی اس خطے کے لوگ اپنے قانونی حق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو اسے ٹیکس سے فرار کا نام دینا دیانت داری نہیں بلکہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
ریاست اگر واقعی چاہتی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قومی محصولات میں زیادہ حصہ ڈالے تو سب سے پہلے اسے اس خطے کو ترقی کے برابر مواقع دینا ہوں گے۔ مضبوط سڑکیں، جدید ہسپتال، معیاری جامعات، صنعتی زون، سرمایہ کاری کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب یہ ذمہ داریاں پوری ہوں گی تو یہاں کے لوگ بھی قومی ذمہ داریوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اصل مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انصاف ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ حقوق اور فرائض دونوں میں توازن ہو۔ صرف ذمہ داریوں کا مطالبہ اور حقوق سے صرفِ نظر کسی بھی مہذب ریاست کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنا کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ محض مالی معاملہ نہیں بلکہ تاریخ، قانون، مساوی ترقی اور ریاستی انصاف کا سوال ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ جذباتی نعروں اور سطحی تبصروں کے ذریعے اسے نظرانداز کرنے کی۔