جب فرد، ریاست پر غالب آ جائے – تحریر:حفیفہ بیگ
پاکستانی معاشرے میں مختلف سوچ اور نظریات رکھنے والے طبقات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہوتا ہے، لیکن جب یہ اختلاف شدت اختیار کر جائے اور ذاتی وابستگی قومی مفاد پر غالب آ جائے، تو یہ ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو اپنی انا، ذاتی پسند اور مخصوص شخصیات کی اندھی تقلید میں اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی، معیشت اور حتیٰ کہ مذہبی اقدار کو بھی پسِ پشت ڈالنے سے دریغ نہیں کرتا۔
یہ طبقہ کسی ایک شخصیت کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ اس کی ہر بات کو بلا تنقید قبول کر لیتا ہے۔ تنقیدی سوچ کا فقدان انہیں اس مقام تک لے آتا ہے جہاں وہ صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا ہی مقبول یا بااثر کیوں نہ ہو، ریاست اور اس کے اداروں سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ جب کسی شخصیت کو حد سے زیادہ تقدس دیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اداروں کی کمزوری اور انتشار جنم لیتا ہے۔
مزید برآں، اس طبقے کی ایک اور تشویشناک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات اور وابستگیوں کے دفاع میں مذہب کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ مذہب، جو کہ امن، رواداری اور اخلاقیات کا درس دیتا ہے، اسے ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف مذہبی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جب مذہب کو شخصیت پرستی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو معاشرے میں تقسیم اور شدت پسندی بڑھنے لگتی ہے۔
معاشی لحاظ سے بھی اس رویے کے منفی اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کردار ادا کرے، لیکن جب کوئی طبقہ اپنی ذاتی وابستگیوں کی بنیاد پر ایسی سرگرمیوں کی حمایت کرتا ہے جو معیشت کو نقصان پہنچائیں، تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کاری میں کمی، کاروباری عدم استحکام اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہونا ایسے ہی رویوں کے نتائج ہو سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ شعور اور ترجیحات کا ہے۔ جب قومیں افراد کے بجائے اصولوں کو اہمیت دیتی ہیں تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ لیکن جب افراد کو اصولوں پر فوقیت دی جائے تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے اجتماعی سوچ، برداشت، اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا۔
تعلیم، مکالمہ اور تنقیدی سوچ کے فروغ کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی رہنما اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عوام کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ ریاست کی مضبوطی ہی دراصل ہر فرد کی مضبوطی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی قوم کی بقا اس کے اجتماعی شعور، اتحاد اور اصولوں کی پاسداری میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر ہم نے ذاتی انا اور شخصیت پرستی کو قومی مفاد پر ترجیح دینا جاری رکھا، تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
