جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں – تحریر: قریش خٹک
.
لندن اسکول آف اکنامکس اور ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر نے حال ہی میں ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک مختصر مگر نہایت معنی خیز بات لکھی، جو جدید ریاستی نظم و حکمرانی کے لیے گہری اہمیت رکھتی ہے:’’جہاں پریشر (دباؤ) بڑھ رہا ہو، وہاں حفاظتی راستے یا سیفٹی والوز فراہم کرنا ہمیشہ دانش مندی ہے کیونکہ جہاں پریشر والو موجود نہ ہو یا کام نہ کر رہا ہو تو پھر یہ توقع رکھنا فطری ہے کہ چیزیں پھٹ پڑیں گی۔‘‘
سائنسی علوم سے معمولی واقفیت رکھنے والا ہر شخص حرکیاتِ حرارت (Thermodynamics) کے اس بنیادی اصول کو سمجھتا ہے کہ جب کسی بند برتن کے اندر دباؤ بڑھتا جائے تو اس کا محفوظ اور قابو میں رہنے والا اخراج انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اگر حفاظتی والو موجود نہ ہو، جان بوجھ کر بند کر دیا جائے یا محض خراب ہو کر کام کرنا چھوڑ دے، تو دباؤ سے پیدا ہونے والی توانائی غائب نہیں ہوتی۔ وہ خاموشی سے مسلسل بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ بالآخر برتن پھٹ کر شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔
اگرچہ سیاست مکینیکل انجینئرنگ نہیں، لیکن دباؤ کے جمع ہونے اور خارج ہونے کے معاملے میں انسانی معاشرے بنیادی طور پر اس اصول سے مختلف نہیں۔ مذکورہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کا اس سائنسی استعارے سے رجوع محض اتفاق یا خالصتاً علمی مشق نہیں تھا۔ ایسے ماحول میں جہاں ریاستی طاقت پر براہِ راست تنقید خطرات اور واضح پابندیوں سے دوچار ہو، محتاط انتباہ کے لیے استعارہ ہی اظہار کا نسبتاً محفوظ وسیلہ بن جاتا ہے۔
اس استعارے کا بنیادی نکتہ اختلاف سے بالاتر ہے:سیاسی طور پر منقسم معاشرے رگڑ (سیاسی تضاد) پیدا کرتے ہیں، اور یہ رگڑ حرارت کو جنم دیتی ہے۔ جب عوام کی شکایات، سیاسی اخراج ،معاشی مشکلات، نظامی ناانصافی، روزمرہ کی تذلیل اور اختلافِ رائے کے جائز راستوں کی مکمل بندش ایک معاشرے میں جمع ہوتی چلی جائے تو بے پناہ سیاسی دباؤ جنم لیتا ہے۔
ایک بالغ اور مضبوط سیاسی نظام کبھی یہ فرض نہیں کرتا کہ یہ دباؤ سرے سے موجود ہی نہیں، اور نہ ہی وہ ان قوتوں کو طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا ہے جو اس دباؤ کو جنم دے رہی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، وہ مضبوط آئینی اور ادارہ جاتی حفاظتی راستوں پر انحصار کرتا ہے؛ ایسے راستے جن کے ذریعے شہری اپنی بے اطمینانی کا اظہار کر سکیں، اقتدار کو چیلنج کر سکیں، پُرامن طور پر منظم ہو سکیں، سستا و فوری انصاف حاصل کر سکیں اور اصلاحِ احوال کے لیے بامعنی اقدامات کا مطالبہ کر سکیں۔ جب یہ راستے اپنے اصل مقصد کے مطابق کام کرتے ہیں تو سیاسی دباؤ کو قابو میں رکھتے ہوئے اسے تعمیری ادارہ جاتی تبدیلی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اشرافیہ ریاست کو محض ایک سخت گیر اور جابر طاقت سمجھنے لگے اور یہ یقین کر لے کہ ان حفاظتی راستوں کو بلا کسی عواقب کےبند کیا جا سکتا ہے، تو دباؤ جمع ہوتا رہتا ہے اور یہی بے چینی بالآخر ایک خطرناک اور غیر مستحکم قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
فعال جمہوریتیں ایسے ہی حفاظتی راستوں کے ایک مربوط اور کثیر سطحی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ اس نظام میں پارلیمان کا بنیادی کردار یہ ہے کہ وہ قومی سطح پر ایسا فورم فراہم کرے جہاں متضاد مفادات، علاقائی شکایات اور گہرے نظریاتی اختلافات کا حل سڑکوں کے بجائے بحث و مباحثے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ جب انتخابات قابلِ اعتبار ہوں اور نمائندہ ادارے حقیقی معنوں میں عوامی خواہشات کے عکاس ہوں، تو پارلیمان سیاسی دباؤ کے اخراج کا سب سے مؤثرذریعہ بن جاتی ہے۔ تاہم، وطنِ عزیز میں انتخابی عمل کی ساکھ اور پارلیمان کے مسلسل کمزور ہوتے کردار نے بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ ادارے اپنی اس آئینی ذمہ داری کو مؤثر طور پر ادا کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔
اسی طرح، ایک آزاد عدالتی نظام بھی ایک اہم حفاظتی راستہ فراہم کرتا ہے، جو شہریوں کو ان کے حقوق کے ازالے کے لیے ایک پُرامن طریقہ مہیا کرتا ہے۔ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاستی مقتدرہ کو ایک غیر جانب دار عدلیہ کے ذریعے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے، تو وہ غیر ادارہ جاتی راستے اختیار کرنے کے بجائے قانون کی حکمرانی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایک آزاد اور بے خوف میڈیا ریاست کے لیے ابتدائی انتباہی نظام(Early Warning System) کا کام کرتا ہے۔ وہ سرکاری نااہلی کو بے نقاب کرتا ہے، عوامی غصے کو کسی بڑے دھماکے سے پہلے منظرِ عام پر لاتا ہے، اور عوامی احتساب و مباحثے کے لیے ایک کھلا فورم فراہم کرتا ہے۔
قومی اور صوبائی سطح کے رسمی ڈھانچوں کے علاوہ مقامی حکومتیں، مزدور و طلبہ یونینیں، پیشہ ورانہ تنظیمیں، بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے ادارے معاشرے میں سیاسی شرکت کو وسعت دیتے ہیں۔ یہ ادارے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مقامی نوعیت کی شکایات کسی قومی بحران میں ڈھلنے سے پہلے ہی مقامی سطح پر حل ہو جائیں۔ جب یہ ادارے دیانت داری اور مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں تو معاشرہ مسلسل اپنی اصلاح کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے، اور یوں سیاسی ٹوٹ پھوٹ یا پُرتشدد انتشار کے مقابلے میں آئینی اصلاحات ایک قابلِ عمل متبادل بنی رہتی ہیں۔
آمرانہ مزاج حکمرانوں کی سب سے مہلک غلطی یہ سمجھنا ہے کہ حفاظتی راستے بند کر دینے سے دباؤ بھی ختم ہو گیا ہے۔ پریس پر پابندی عائد کرنے سے بدعنوانی یا عوامی غصہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ صرف حکمران عوامی ناراضی کی شدت سے بے خبر ہو جاتے ہے۔ سیاسی اجتماعات پر پابندی، انتخابی نتائج کو متاثر کرنا یا عدلیہ کی آزادی کو مجروح کرنا ریاست کے ساتھ حقیقی وفاداری پیدا نہیں کرتا؛ اس کے برعکس یہ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور آئینی نظام میں ان کوشراکت سے محروم کر دیتا ہے۔
جب اختلافِ رائے کے قانونی اور پُرامن راستے منظم انداز میں بند کر دیے جائیں تو اس کے کئی خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں:اول، جب پارلیمان سیاسی کشمکش کے حل کا بامعنی فورم نہ رہے، تو لوگ مجبوراًاپنے مسائل لے کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔دوم، ریاست کی اخلاقی اتھارٹی متاثر ہو جاتی ہےاور قوانین کی پاسداری شہری رضامندی کے بجائے محض خوف پر مبنی ہو کر رہ جاتی ہے۔سوم، سیاسی توانائی غیر یقینی اور غیر مرئی راستوں سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔ انتخابات، آزاد میڈیا اور کھلے مباحثوں جیسے رسمی ذرائع سے محروم ہو کر بے اطمینانی زیرِ زمین تحریکوں اور انتہاپسندانہ سیاسی متحرک کاری میں منتقل ہو جاتی ہے۔چہارم، جو نظام مسلسل جبر پر انحصار کرتا ہے، وہ بظاہر طاقتور نظر آنے کے باوجود اندر سے کھوکھلا اور بے لچک ہو جاتا ہے۔
عوامی جذبات میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت سے محروم ایسا نظام اچانک آنے والے بحرانوں کو جذب نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بحران آتا ہے، تو اس نظام میں پیدا ہونے والی دراڑیں بتدریج نہیں پھیلتیں، بلکہ وہ اچانک، دھماکہ خیز اور بے قابو صورت اختیار کر لیتی ہیں۔لہٰذا، کسی بھی نظامی تباہی سے بچنے کے لیے آئینی اصولوں اور ادارہ جاتی برداشت کی طرف شعوری واپسی ناگزیر ہے۔ ریاستی حکمرانی بنیادی طور پر سماجی دباؤ کو دبانے کا نہیں، بلکہ اسے تعمیری دھارے میں موڑنے کا فن ہے۔ ان حفاظتی راستوں کو دوبارہ کھولنا ریاستی کمزوری کی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی طاقت اور سیاسی اعتماد کی علامت ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ شدید معاشی و سیاسی ہنگامہ خیزی سے کامیابی سے گزرنے والے نظام عموماً وہی ہوتے ہیں جن کے اداروں میں اختلافِ رائے کو سمیٹنے، عوامی ردِعمل کو جذب کرنے اور وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی لچک موجود ہوتی ہے۔سیفٹی والو کا یہ استعارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ توازن کے بنیادی اصول مشینوں اور انسانی معاشروں، دونوں پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ سیاسی دباؤ کے بنیادی اسباب کو نظرانداز کرتے ہوئے محض علامات کو دبانے کی حکمتِ عملی نہ تو دیرپا ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج فائدہ مند رہتے ہیں۔کسی ریاست کا حقیقی استحکام ناقدین اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے، یا ان پرزبردستی اتفاقِ رائے مسلط کرنے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کے ادارے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے کس قدر مضبوط، مؤثر اور شہریوں کی دسترس میں ہیں۔
آج کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اختلافِ رائے کے لیے آئینی راستے فراہم کرنا سیاسی مخالفین اور اپوزیشن جماعتوں پر کوئی احسان یا رعایت نہیں، بلکہ یہ طویل المدت قومی استحکام کی بنیادی شرط ہے۔ اگر یہ حفاظتی راستے کھلے رہیں، تو سیاسی تناؤ کو قومی تعمیرِ نو اور ارتقا کی توانائی میں بدلا جا سکتا ہے؛ لیکن اگر یہ راستے بند رکھے گئے، تو اندرونی دباؤ بالآخر اپنے اخراج کے لیے خود راستہ بنائے گا، جس کی قیمت پورے نظام کو چکانی پڑ سکتی ہے۔