عزت دار – تحریر: میر سیما آ مان
لفظ عزت دار ہم میں سے چھوٹے بڑوں نے اتنی بار سنا ہے کہ اگر میں کہوں کہ ہمارے کان پک گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔لیکن اس لفظ کے معنی ہیں کیا اور حقیقتا عزت دار کون لوگ ہوتے ہیں اسکے لیے یقیناً ہر شخص الگ نظریہ رکھتا ہے ۔میں نے اس لفظ پر کافی غور کیا اور میں اس نتیجے پر پہنچی کہ پرانے وقتوں میں جب بہت ذیادہ غربت کا دور تھا ۔اور صرف شاہی ،چودھری وڈیرہ سائیں ٹائپ طبقے ایسے تھے جو کھاتے پیتے طبقے تھے اور ایکا دکا لوگ کچھ تعلیم کچھ سرکاری نوکریوں کے عوض اپنے حالات کچھ بہتر بنا پائے ۔یوں ہائر مڈل اور لوئر کلاس وجود میں آئے ۔اب جو لوئر کلاس تھا اس نے ہائر کلاس کی دولت ان شان و شوکت پینا اوڑھنا پہننا دیکھ کر اسکو بے تحاشہ عزت دینا شروع کیا اسی عزت کی وجہ سے یہ طبقہ دار نہ صرف خود عزت داری کے زعم میں مبتلا ہوگئے بلکہ معاشرہ بھی انکو عزت دار کا لقب دینے لگے ۔۔
سادہ زمانہ تھا عزت داری اور صاحب حیثیت ہونے کے درمیاں فرق کو نہیں سمجھ سکے ۔۔حالانکہ یہ دونوں ہی بہت مختلف چیزیں ہیں ۔پھر کیا ہوا کہ انکی دیکھا دیکھی لوئر مڈل کلاس کا پورے ہی طبقے نے اپنی وضح قطع بہتر کرنے کی کوششوں میں لگ گئی اور یوں پوری دنیا میں چھوٹے بڑے عزت داروں کی سمجھیں لا ئن لگ گئی۔۔ اب ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں لیکن مجال ہے جو تعلیم نے ہماری ذہنیت کا ذرا بھی کچھ بگاڑا ہو ۔ آج بھی ہر خاندان ہر قبیلہ ہر طبقہ اپنی اپنی عزت داری کے زعم میں مبتلا ہر طرف بکھرے پڑے ہیں ۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اصلی عزت داروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اور جالی عزت دار جنھوں نے قیمتی پوشاک پہن کر اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے ہیں ،گرمیوں میں نکلنے والے لال بیگوں کی طرح ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ عزت دار ہیں کون ۔۔۔تو میں بتاتی چلوں کہ ہر وہ شخص چاہے وہ جھونپڑی میں رہتا ہو یا ایکڑ زمینوں کا مالک ہو اگر وہ دوسروں کی عزت محض انسانیت کی بنا پر کرتا ہے تو وہ عزت دار ہے لیکن اگر کسی کا لحاظ کرنے کے لیے تعلقات کے لیے احترام کے لیے حتی کے رشتہ داری کے لیے آپ دوسروں کی مالی حیثیت دیکتھے ہیں۔ تو آپ سے زیادہ نیچ قابل افسوس اور بے عزت کوئی دوسرا نہیں ۔۔ لہزا کسی دن وقت نکالیں اور ذرا دیکھیں پرکھیں کہ آپ کے گڈ بک میں کون لوگ ہیں کن بنیادوں پر ہیں ور خود ہی فیصلہ کر لیں کہ آپ اصلی عزت دار ہیں یا جالی ۔۔۔۔۔

