اسرائیل کا’ای ون‘ منصوبہ فلسطینی ریاست کے خاتمے کا اعلان؟ ۔ قادر خان یوسف زئی
ای ون بظاہر ایک مختصر سا نام ہے لیکن حقیقت میں یہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مستقبل کی سیاست اور سرحدوں کے تعین میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کوئی نظریاتی یا جذباتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تکنیکی نام ہے جو ”ایسٹ ون” (East 1) پلاننگ زون سے نکلا۔ اسرائیلی وزارتِ ہاؤسنگ اور سول ایڈمنسٹریشن نے نوّے کی دہائی میں اس بارہ مربع کلومیٹر علاقے کو ایسٹ ون زون قرار دیا تھا، جو مشرقی یروشلم اور بڑی اسرائیلی بستی ماعالیہ ادومیم کے درمیان واقع ہے۔ بعد میں یہی مختصر کوڈ ”E1” عالمی سفارت کاری میں ایک باضابطہ اصطلاح کے طور پر استعمال ہونے لگا۔اس علاقے کی منصوبہ بندی سب سے پہلے 1994 میں وزیراعظم اسحاق رابین کے دور میں سامنے آئی تھی لیکن اس وقت امریکا کے دباؤ پر اسے روک دیا گیا۔ ایک دہائی بعد وزیراعظم اریئل شیرون نے اسے دوبارہ فعال کیا اور بستیوں کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اسی لمحے سے ای ون صرف ایک فائل کا کوڈ نہ رہا بلکہ مشرق وسطیٰ کی سیاست کا وہ شعلہ بن گیا جو آج تک بجھنے کا نام نہیں لیتا۔
ای ون کی اہمیت محض اس کے جغرافیائی محلِ وقوع میں چھپی ہے۔ یہ خطہ مشرقی یروشلم کے دروازے پر واقع ہے اور اگر یہاں اسرائیلی بستی قائم ہو جاتی ہے تو مغربی کنارے کے شمال اور جنوب کے درمیان رابطہ ٹوٹ جائے گا۔ فلسطینی ریاست کے لیے مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کا خواب بھی یوں ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لیے فلسطینی رہنما اسے”’ریڑھ کی ہڈی“ قرار دیتے ہیں اور عالمی ادارے اسے دو ریاستی حل کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔یوں ای ون دراصل East 1 پلاننگ زون کا مخفف ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تین حروف عالمی سیاست کے سب سے بڑے تنازعے کا استعارہ بن گئے ہیں۔
اسرائیل کی حکومت نے اگست 2025 میں متنازع ای ون منصوبے کی منظوری دے کر دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں فلسطینی ریاست کے خواب کو دفن کرنے کا اعلان کھلم کھلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ محض رہائشی منصوبہ نہیں بلکہ سیاسی جنگ کا وہ ہتھیار ہے جس نے کئی دہائیوں سے زیرِ بحث دو ریاستی حل کو عملاً ناممکن بنانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ای ون منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم اور ماعالیہ ادومیم کے درمیان بارہ مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں 3400 یونٹس کی تعمیر منظور کی گئی ہے جسے ماہرین ”اسٹریٹجک کوریڈور“ کہتے ہیں۔ اس کوریڈور کا مطلب یہ ہے کہ مغربی کنارے کے شمال اور جنوب کو ہمیشہ کے لیے کاٹ دیا جائے اور مشرقی یروشلم فلسطینیوں کی دسترس سے نکل جائے۔
یہ منصوبہ دراصل اسرائیل کی اس طویل حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں 1967 کے بعد سے ایک سو ساٹھ کے قریب بستیاں بسائی جا چکی ہیں، جن میں سات لاکھ سے زیادہ یہودی آباد ہیں۔ ای ون اس سلسلے کی آخری کڑی ہے جس کے ذریعے”حقائق زمین پر“ ایسے بنا دیے جائیں گے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ہی ختم ہو جائے۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اسے”پلاننگ ایز وار فیئر“ یعنی منصوبہ بندی کو بطور جنگ استعمال کرنا قرار دیتے ہیں، اور یہ سچ ہے کہ یہاں مکانات کی تعمیر سیاسی نقشے کو بدلنے کا ذریعہ ہے۔ قانونی طور پر یہ منصوبہ واضح خلاف ورزی ہے۔ چوتھا جنیوا کنونشن کسی قابض طاقت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی آبادی کو مقبوضہ علاقوں میں منتقل کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرارداد 2334 نے اسرائیلی بستیوں کو”قانون کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف نے 2024 میں اپنے مشاورتی فیصلے میں کہا کہ اسرائیل کی موجودگی ہی غیر قانونی ہے اور اسے فی الفور یہ قبضہ ختم کرنا چاہیے۔ لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے”جھوٹ“’ قرار دے کر رد کیا اور کہا کہ ”یہودی اپنی زمین پر قابض نہیں ہو سکتے“۔
ای ون میں سب سے زیادہ متاثر فلسطینی بدو ہیں، جن کی تعداد تین ہزار ہے اور جو اس علاقے میں نسلی و ثقافتی شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ وہی بدو ہیں جنہیں پچاس کی دہائی میں نقب سے نکالا گیا تھا اور اب وہ دوسری بار جلاوطنی کے دہانے پر ہیں۔ 2009 سے اب تک پانچ سو سے زیادہ ڈھانچے گرائے جا چکے ہیں، آٹھ سو بیالیس افراد بے گھر ہوئے، جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان ڈھانچوں میں سے ایک سو سے زیادہ تو وہ تھے جو عالمی اداروں نے بطور انسانی امداد فراہم کیے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور نے بتایا کہ صرف الزعیم بدو بستی میں سب سے زیادہ ڈھانچے مسمار ہوئے۔ عورتیں، بچے، معذور اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بچوں پر بار بار کی بے گھری کے اثرات نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ یہ سب محض مکانات کی مسماری نہیں بلکہ ایک ”جبری ماحول” ہے جس میں زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی جاتی ہے۔ تعلیم، صحت، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ سب کچھ روک دیا گیا تاکہ یہ لوگ اپنی مرضی سے علاقہ چھوڑ دیں۔ ماہرین اسے ”ڈارک سائیڈ آف پلاننگ“ یعنی منصوبہ بندی کا سیاہ چہرہ کہتے ہیں۔
معاشی پہلو بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ مغربی کنارے کا ساٹھ فیصد حصہ ایریا سی میں آتا ہے، جس پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہاں فلسطینیوں کو تعمیر اور ترقی کی اجازت نہیں لیکن اسرائیلی بستیاں بڑھتی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے اسے”اکانومک اپارتھائیڈ“’ قرار دیا ہے۔ کھیتی باڑی پر پابندیاں، جانور چرانے پر قدغن اور مقامی معیشت کی بربادی بدوؤں کی صدیوں پرانی طرزِ زندگی کو ختم کر رہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی معیشت پر بھی اسرائیل نے ٹیکس اور کسٹمز کے ذریعے کنٹرول رکھا ہوا ہے تاکہ دباؤ برقرار رہے۔
بین الاقوامی ردعمل غیر معمولی طور پر سخت تھا۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے کہا کہ یہ منصوبہ ”بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی“ ہے۔ یورپی یونین کے ہائی ریپریزنٹیٹو جوزپ بوریل نے کہا کہ”ای ون دو ریاستی حل کو دفن کر دے گا“۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ”ای ون فلسطینی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دے گا اور امن کے ہر امکان کو ختم کر دے گا“۔ پوپ فرانسس نے ویٹیکن سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ”مقدس سرزمین میں امن انصاف کے بغیر ممکن نہیں، اور انصاف زمین چھین کر نہیں بلکہ واپس کر کے قائم ہوتا ہے“۔ عرب دنیا میں بھی اتفاقِ رائے نظر آیا۔ سعودی عرب نے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، ترکی نے فلسطینی ریاست کی تسلیم شدگی پر زور دیا، قطر نے اسے ”جبری بے دخلی“ قرار دیا۔ لیکن فیصلہ کن کردار امریکا کا ہے۔ امریکی سفیر مائیک ہکبی نے کہا کہ ”یہ اسرائیلی حکومت کا معاملہ ہے اور اس میں کوئی خلاف ورزی نہیں“’۔ یہی وہ جملہ ہے جو اسرائیل کو سب سے بڑی سہولت دیتا ہے۔ امریکا نے 1972 سے اب تک 53 بار سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں ویٹو استعمال کیا ہے۔ 2011 میں امریکا نے اکیلا ہی بستیوں کے خلاف قرارداد ویٹو کی جسے باقی 14 ارکان نے منظور کیا تھا۔ یہ وہ ڈھال ہے جو اسرائیل کو بین الاقوامی قانون سے بچاتی ہے۔
ای ون کو غزہ کی تباہی کے تناظر میں دیکھنا بھی اہم ہے۔ اگست 2025 تک غزہ میں 62,819 فلسطینی ہلاک اور 158,629 زخمی ہو چکے ہیں جن میں 83 فیصد عام شہری تھے۔ 95 فیصد اسپتال بند ہو گئے، معیشت 83 فیصد سکڑ گئی، 47 ملین ٹن ملبہ اکٹھا ہوا، 292,000 گھر تباہ ہو گئے۔ عالمی بینک کے مطابق تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر درکار ہیں۔ غزہ جو کبھی فلسطینی معیشت کا 17 فیصد تھا، اب صرف 3 فیصد رہ گیا ہے۔ عرب لیگ اور مصر نے چھ سالہ منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ملبہ ہٹانے اور 200 ہزار عارضی گھر بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگلے مرحلوں میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور صنعتی زونز کی تعمیر کا خاکہ ہے۔ لیکن اسرائیلی فوجی کنٹرول اور بستیوں کی پالیسی اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اسرائیلی وزراء کے بیانات منصوبے کی اصل نیت ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ نے کہا کہ ”ای ون فلسطینی ریاست کے امکان کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا“۔ ان کے مطابق بستیوں کی توسیع ایسے حقائق پیدا کرتی ہے جنہیں دنیا ماننے پر مجبور ہو گی۔ یہ بیانات بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسی کوئی حادثاتی پیش رفت نہیں بلکہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ ٹائمنگ کے اعتبار سے بھی خاص ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ اس وقت امریکا اس کے ساتھ ہے، لہٰذا یہ بہترین موقع ہے کہ ناقابلِ واپسی تبدیلیاں کر لی جائیں۔ پہلے غیر قانونی چھوٹے ”آؤٹ پوسٹ” قائم کیے جاتے ہیں، پھر انہیں قانونی قرار دیا جاتا ہے، عارضی ڈھانچے مستقل ہو جاتے ہیں۔ ای ون اسی حکمت عملی کو بڑے پیمانے پر دہرا رہا ہے۔کچھ ماہرین پیچیدہ ”لینڈ سوئپ” یعنی زمین کے تبادلے یا سرنگوں کے ذریعے فلسطینی ریاست کے امکانات باقی مانتے ہیں۔ لیکن فلسطینی قیادت انہیں مسترد کرتی رہی ہے کیونکہ یہ خودمختاری کے بجائے محض جزوی رعایتیں ہیں۔ ایک ریاست کا خواب تب ہی ممکن ہے جب سرزمین متحد اور متصل ہو، ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں۔
