اپرچترال؛ ہزہائی نس پرنس رحیم آغا خان کی آمد کی خوشی میں اسماعیلی والنٹیئرز کے زیراہتمام سڑکوں کی مرمت وصفائی کا سلسلہ جاری
۔
اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) اسماعیلی کمیونٹی کی روحانی پیشوا ہز ہائی نس پرنس شاہ رحیم الحسینی آغاخان کی متوقع چترال آمد کے سلسلے میں ضلع اپر چترال کے مختلف علاقوں میں اسماعیلی رضا کاروں کی جانب سے سڑکوں کی صفائی، مرمت اور بحالی کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ راغین ریشن کے اسماعیلی رضا کاروں نے ڈومن گول سے زئیت تک سڑک کی ہنگامی مرمت، گڑھوں کو بھرنے اور اطراف کی صفائی کا کام انجام دیا، جبکہ ریشن اور لون ویلی کے والنٹیئرز نے بھی دیدار گاہ آنے والے زائرین اور عام مسافروں کی سہولت کے لیے سڑکوں کو محفوظ اور بہتر بنانے میں بھرپور حصہ لیا۔
اسی سلسلے میں لوکل کونسل لاسپور اپر چترال کے تحت گشت، شاہی داس اور اونشت کے اسماعیلی رضاکار بھی متحرک ہیں، جہاں گشت سے مستوج کنوس تک سڑکوں کی فلنگ اور صفائی مہم جاری ہے۔ مقامی رضا کار سڑکوں کی بھرائی، صفائی اور راستوں کی بحالی کے کام میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق بیشتر مقامات پر کام تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح مستوج خاص کے رضاکار بھی مستوج یارخون ویلی روڈ کی مرمت اور بحالی میں مصروف ہیں۔
رضا کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں امام سے محبت، عقیدت اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق سماجی خدمت، صفائی اور عوامی سہولیات کی بہتری امام کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے، اسی جذبے کے تحت نوجوان، بزرگ اور بوائے اسکاؤٹس مشترکہ طور پر اس مہم میں شریک ہیں۔
جاری اس مہم کا ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے مختلف مقامات پر دورہ کیا۔ انہوں نے ریشن میں اسماعیلی والنٹیئرز سے ملاقات کی اور ان کی بے لوث خدمات، جذبۂ خدمت اور عوامی فلاح کے جذبے کو سراہتے ہوئے اسے پورے چترال کے لیے ایک مثبت مثال قرار دیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہز ہائی نس پرنس شاہ رحیم الحسینی آغاخان کی تشریف آوری پر اسماعیلی برادری کو مبارکباد بھی پیش کی اور خدمتِ خلق میں مصروف والنٹیئرز کو اپنی جانب سے بطور “ٹوکن آف اپریسی ایشن” انعامات بھی دیے۔
عوامی حلقوں نے اسماعیلی رضا کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی مرمت، صفائی اور سماجی خدمت کے ایسے اقدامات نہ صرف علاقے کی خوبصورتی اور سفری سہولت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ بھائی چارے، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

