کیا ماڈرن ہونے کے لیے چھوٹے کپڑے پہننا ضروری ہے؟ – اقبال عیسیٰ خان
یہ سوال محض فیشن یا لباس کا نہیں، یہ ہماری فکری سمت، سماجی ترجیحات اور اجتماعی خوداعتمادی کا سوال ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے جدیدیت کو اس قدر سطحی بنا دیا ہے کہ وہ اکثر کپڑوں کی تراش خراش تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ گویا سوچ بدلنے کے بجائے صرف ظاہر بدل لینا ہی ترقی کہلاتا ہے۔
میں اس الجھن کو محسوس کرتا ہوں جو ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ میں پل رہی ہے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ مخصوص انداز میں نہ دکھائی دیں تو وہ “پیچھے رہ گئے” ہیں۔ یہ دباؤ خاموش ہے، مگر گہرا ہے اور یہی دباؤ شخصیت کو نکھارنے کے بجائے اسے توڑ دیتا ہے۔ جدیدیت اگر آزادی کا نام ہے تو پھر سب سے پہلے ذہن کو آزاد ہونا چاہیے، نہ کہ صرف لباس کو۔
قومیں فیشن سے نہیں بنتیں، وژن سے بنتی ہیں۔ جدید قوم وہ ہوتی ہے جو تعلیم میں سرمایہ کاری کرے، تحقیق کو فروغ دے، قانون کو مضبوط کرے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھے۔ اگر جدید ہونے کا معیار صرف لباس ہوتا تو اخلاقی دیوالیہ پن بھی ترقی کہلاتا اور یہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں۔
معاشروں کو کمزور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا دی جائے۔ جب بحث روزگار، انصاف، صحت اور تعلیم کے بجائے صرف اس بات پر اٹک جائے کہ کون کتنا “ماڈرن” نظر آ رہا ہے، تو اصل ایجنڈا کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ ایک دانستہ یا نادانستہ چال ہو سکتی ہے مگر نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔
کیا ماڈرن ہونا تقلید کا نام ہے یا تخلیق کا؟ کیا جدید وہ ہے جو دوسروں کے بنائے ہوئے سانچوں میں خود کو فِٹ کرے، یا وہ جو اپنی اقدار کے ساتھ دنیا میں اپنی جگہ بنائے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پائیدار ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں، نہ کہ وہ جو شناخت سے دستبردار ہو جائیں۔
جدید اداروں میں معیار لباس نہیں، قابلیت ہوتی ہے۔ وہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا پہنا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کیا جانتے ہیں، کیا کر سکتے ہیں اور کس قدر دیانت دار ہیں۔ پیشہ ورانہ دنیا میں عزت کام سے ملتی ہے، نہ کہ فیشن سے۔
یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ لباس ذاتی انتخاب ہے، اور کسی پر جبر چاہے وہ کسی بھی سمت میں ہو قابلِ قبول نہیں۔ مسئلہ آزادی کا نہیں، مسئلہ تعریفِ جدیدیت کا ہے۔ جب ہم جدید ہونے کی واحد شرط چھوٹے کپڑوں کو بنا دیتے ہیں تو ہم فکر، کردار اور علم کی توہین کرتے ہیں۔
ہمیں خود سے سچ بولنا ہوگا، کیا ہم واقعی جدید بننا چاہتے ہیں، یا صرف جدید دکھائی دینا چاہتے ہیں؟ کیونکہ دکھاوا وقتی ہوتا ہے، مگر سوچ کی جدیدیت ہی قوموں کو مستقبل دیتی ہے۔

