انتہاپسندی کا پائیدار حل، اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ کلچر – اقبال عیسیٰ خان
.
گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال جغرافیائی طور پر دور افتادہ ضرور ہیں، مگر آبادی کے اعتبار سے یہ خطے نوجوان توانائی کا خزانہ ہیں۔ یہاں کے نوجوان فطری ذہانت، محنت اور جدوجہد کی روایت رکھتے ہیں، لیکن محدود معاشی مواقع، صنعتی پسماندگی اور جدید روزگار کے راستوں کی کمی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جو وقت کے ساتھ سماجی بے چینی اور فکری انتشار کو جنم دیتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں منفی اور انتہاپسند بیانیے اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اب عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے کہ انتہاپسندی محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج ہے۔ جہاں نوجوان خود کو معاشی نظام سے کٹا ہوا محسوس کریں، وہاں شدت پسند نظریات آسانی سے جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب نوجوانوں کو باعزت روزگار، تخلیقی اظہار اور خود مختار معاشی کردار ملتا ہے تو وہ تشدد نہیں، تعمیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں اسٹارٹ اپس، انٹرپرینیورشپ اور انکیوبیشن سینٹرز ان خطوں کے لیے ایک مؤثر اور دور رس حل بن سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی حساس اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں نوجوانوں پر مبنی کاروباری ماڈلز نے حالات کا رخ بدل دیا۔ شمالی افریقہ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں انکیوبیشن سینٹرز نے نہ صرف بیروزگاری کم کی بلکہ نوجوانوں کو ایک مثبت شناخت دی۔ وہاں ریاست نے نوجوانوں کو خیرات پر نہیں بلکہ مواقع پر کھڑا کیا۔ یہی اصول گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔
ان خطوں کے معاشی امکانات کسی سے کم نہیں۔ سیاحت، ماحول دوست ٹریول، زراعت، لائیو اسٹاک، ہینڈکرافٹس، معدنیات، ہائیڈرو پاور، آئی ٹی اور فری لانسنگ ایسے شعبے ہیں جہاں مقامی اسٹارٹ اپس کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر ہر ضلع میں جدید انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے جائیں، جہاں بزنس پلاننگ، مالیاتی نظم، ڈیجیٹل مہارتیں اور مارکیٹ تک رسائی فراہم ہو، تو نوجوان خود روزگار کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
انتہاپسندی کا ایک بڑا ہتھیار نوجوانوں کو مقصد اور شناخت کا جھوٹا احساس دینا ہے۔ انٹرپرینیورشپ اسی شناخت کو مثبت رخ دیتی ہے۔ ایک نوجوان جب اپنا کاروبار کھڑا کرتا ہے تو وہ خود کو معاشرے کا مفید رکن محسوس کرتا ہے۔ اس کا مفاد امن، استحکام اور قانون کی بالادستی سے جڑ جاتا ہے۔ یہی نوجوان پھر کسی نفرت انگیز بیانیے کا آسان شکار نہیں بنتا۔
اس کے لیے ریاست، صوبائی حکومتوں، مقامی قیادت، جامعات اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انکیوبیشن سینٹرز کو محض تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ انتہاپسندی کے تدارک اور قومی سلامتی کی سرمایہ کاری سمجھا جائے۔ مقامی جامعات کو صنعت سے جوڑا جائے، کامیاب کاروباری افراد کو رہنمائی کے لیے شامل کیا جائے اور نوجوانوں کو آسان فنانسنگ فراہم کی جائے۔
گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال کے نوجوان کسی مسئلے کا بوجھ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہیں۔ انہیں مواقع، اعتماد اور رہنمائی دی جائے تو یہی نوجوان نفرت کے اندھیروں میں امید کی روشنی بن سکتے ہیں۔ اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ صرف معیشت کو مضبوط نہیں کرتے، یہ معاشروں کو محفوظ اور مستقبل کو روشن بناتے ہیں۔ آج کا فیصلہ آنے والی نسلوں کے امن اور استحکام کا تعین کرے گا۔
