چترال میں انٹرنیٹ کا سنگین بحران؛ نظامِ زندگی درہم برہم، صارفین سراپا احتجاج
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال اور گردونواح میں انٹرنیٹ سروس کی مسلسل خراب اور غیر مستحکم صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ تین روز سے جاری انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتاری اور بار بار تعطل کے باعث نہ صرف معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں بلکہ کاروباری، تعلیمی اور سرکاری امور بھی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں انٹرنیٹ کی ناقص کارکردگی کے باعث بینکوں میں آن لائن لین دین کا نظام شدید متاثر ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری گھنٹوں انتظار کے باوجود اپنے مالی معاملات نمٹانے سے قاصر رہتے ہیں اور اکثر خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سرکاری و نجی دفاتر میں آن لائن سسٹمز ڈاؤن ہونے سے فائلوں کی پراسیسنگ رک گئی ہے جبکہ اہم سرکاری امور التواء کا شکار ہیں۔
اسی طرح پرنٹنگ پریس، فوٹو اسٹیٹ شاپس، آن لائن سروس سینٹرز اور ای کامرس سے وابستہ افراد کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کا روزگار مکمل طور پر انٹرنیٹ پر منحصر ہے اور سروس کی بندش یا سست رفتاری انہیں مالی نقصان سے دوچار کر رہی ہے۔
تعلیمی شعبہ بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہا۔ طلبہ و طالبات آن لائن کلاسز، اسائنمنٹس کی تیاری اور ریسرچ کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ بھاری قیمتوں پر انٹرنیٹ پیکجز خریدنے کے باوجود معیاری سروس فراہم نہ کرنا صارفین کے ساتھ ناانصافی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ٹیلی نار کی کارکردگی گزشتہ کئی سالوں سے چترال میں تسلی بخش نہیں رہی، جبکہ دیگر نیٹ ورکس کی سروس بھی حالیہ دنوں میں شدید متاثر ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دور افتادہ علاقوں کو جدید مواصلاتی سہولیات فراہم کرنا کمپنیوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
چترال کے سماجی، تجارتی اور عوامی حلقوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور متعلقہ سیلولر کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر انٹرنیٹ کی بحالی اور سروس کے معیار کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال میں فوری بہتری نہ لائی گئی تو صارفین احتجاجی تحریک شروع کرنے اور کنزیومر کورٹس سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
عوامی حلقوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض ایک سہولت نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، لہٰذا چترال جیسے دور افتادہ علاقے کو اس بنیادی سہولت سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔
اس حوالے سے جب پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ دیر میں روڈ پر کام ہورہا ہے جس کے باعث فائبرآپٹک لائن میں خلل پڑرہا ہے جس کی وجہ سے چترال میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
