انسان: جوہرِ فطرت اور قیدِ تربیت کے درمیان ۔ تحریر: خرم معین
۔
انسانی شخصیت کی نمو اور کردار کی تشکیل کا معمہ جتنا قدیم ہے، اس کی فکری گتھیاں اتنی ہی پیچیدہ ہیں۔ کیا انسان اپنی جبلتوں اور حیاتیاتی ساخت کا اسیر ہے، یا وہ اپنے گرد و پیش اور معاشرتی ڈھانچے کے ہاتھوں تیار ہونے والا ایک خام مال ہے؟ فکر و فلسفہ کی تاریخ میں یہ بحث ‘فطرت’ (Nature) اور ‘تربیت’ (Nurture) کے تصادم سے عبارت ہے۔ اگر ہم تاریخی افکار کا عمیق مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں مغربی مفکرین نے اس مسئلے کو سماجی جبریت اور مادی ارتقاء کے تناظر میں دیکھا، وہاں اسلامی فکر نے ‘فطرتِ سلیمہ’ اور ‘اختیارِ انسانی’ کے مابین ایک ایسا حکیمانہ توازن قائم کیا جو فرد کو اخلاقی طور پر ذمہ دار بھی ٹھہراتا ہے اور اس کے حالات کے جبر کو تسلیم بھی کرتا ہے۔
مغربی فلسفے کے افق پر تھامس ہوبز جیسے مفکرین انسانی جبلت کو فطرتاً خود غرضی اور تشدد سے منسوب کرتے ہیں، جس کی لگام تھامنے کے لیے وہ Leviathan یعنی ایک مقتدر ریاستی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ ‘خوف’ کے ذریعے نظمِ اجتماعی برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے برعکس، جان لاک انسان کو ‘لوحِ سادہ’ (Tabula Rasa) قرار دیتے ہیں، جس پر سماجی تجربات اپنے نقوش ثبت کرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر انسان محض خارجی محرکات کا ایک ‘ردِ عمل’ ہے، تو اس کے افعال کی اخلاقی بنیاد کیا ہوگی؟ ژاں پال سارتر جیسے وجودیت کے مفکر نے اگرچہ “وجود کو ماہیت پر مقدم” قرار دے کر انسان کو اپنے انتخاب کا تنہا ذمہ دار ٹھہرایا، مگر وہ بھی اس جبریت کا شافی جواب نہ دے سکے جو غربت، جہالت اور ڈھانچہ جاتی ظلم کی صورت میں انسانی ارادے کو مفلوج کر دیتی ہے۔
اسلامی مابعد الطبیعیات اس بحث میں ایک منفرد اور وقیع جہت متعارف کراتی ہے۔ قرآنِ کریم کا یہ اعلان کہ “ہم نے انسان کو بہترین تقویم پر پیدا کیا”، اس امر کی دلیل ہے کہ ہر روح میں خیر کا ایک جوہرِ لطیف ودیعت کیا گیا ہے جسے ‘فطرت’ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سرورِ کائنات ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی کہ “ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے (اپنی تربیت سے) مائلِ غیر کر دیتے ہیں”، اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ تربیت ایک طاقتور صانع تو ہے مگر وہ اصل جوہر کو مٹا نہیں سکتی، محض حجاب بن کر اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ یہاں اسلام مغربی ‘سماجی جبریت’ کے اس تصور کو مسترد کرتا ہے جو فرد کو حالات کا بے بس غلام بنا دیتا ہے۔ امام غزالیؒ جیسے جلیل القدر مفکر نے اگرچہ صحبت اور گرد و پیش کے اثرات کو نفس کی کیمیاگری کے لیے ناگزیر مانا، مگر انہوں نے کبھی انسانی ‘ارادے’ کو حالات کا تابعِ محض تسلیم نہیں کیا۔ ان کے نزدیک انسانی نفس ایک ایسی جولان گاہ ہے جہاں تربیت بیج کو نمو تو بخشتی ہے، مگر بیج کی اپنی حقیقت (جوہرِ فطرت) ناقابلِ تبدیل رہتی ہے۔
مشرقی دانش، بالخصوص حکیم الامت علامہ اقبال کے ہاں، اس کا حل ‘خودی’ کے استحکام میں مضمر ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان اپنے ماحول کا اسیرِ محض نہیں بلکہ اس کا خالق اور فاتح ہے؛ “فطرت کو اپنی خودی سے ہمکنار کر” ان کا وہ نعرۂ مستانہ ہے جو جبریت کی زنجیروں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ وہ ہوبز کے ‘خوف’ کے مقابلے میں ‘عشق’ اور ‘قوتِ ارادی’ کو اہمیت دیتے ہیں، جو مشتِ خاک کو تقدیر کا یزداں بنا دیتی ہے۔ جب ہم اس کا موازنہ قرآنی نظامِ عدل سے کرتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اسلام ‘انفرادی ذمہ داری’ اور ‘معاشرتی عدل’ کے درمیان ایک لطیف ربط پیدا کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ اٹل اصول ہے کہ “کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا”، وہیں ریاست اور معاشرے پر یہ بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ ایسے حالاتِ زیست فراہم کرے جہاں خیر کا پنپنا سہل ہو۔ فاروقِ اعظمؓ کا قحط کے ایام میں حدِ سرقہ کو معطل کرنا اسی بصیرت کا شاخسانہ ہے کہ جب ‘تربیت’ اور ‘ماحول’ کا توازن بگڑ جائے تو عدل کا تقاضا محض فرد کو تختۂ دار پر کھینچنا نہیں بلکہ حالات کی اصلاح کرنا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان نہ تو حالات کے سمندر میں بہتا ہوا ایک بے جان تنکا ہے اور نہ ہی وہ سماجی و مادی حقائق سے یکسر ماورا کوئی ہستی۔ وہ ایک ایسی برتر مخلوق ہے جسے ‘عقل’ اور ‘وحی’ کے نور سے انتخاب کی قوت بخشی گئی ہے۔ سزا کا استحقاق محض ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس ‘ارادے’ پر ہونا چاہیے جس نے متبادل راستوں کی موجودگی میں شر کو گلے لگایا۔ تاہم، ایک منصفانہ تمدن وہی ہے جو صرف ‘پھل’ کے کڑوے پن کا شکوہ نہیں کرتا بلکہ اس ‘جڑ’ اور ‘مٹی’ کی آبیاری بھی کرتا ہے جہاں سے زندگی جنم لیتی ہے۔ عدلِ حقیقی صرف مجرم کو سزا دینے میں نہیں بلکہ جرم کی نرسریوں کو ختم کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم جڑوں کو زہر دیتے رہیں گے تو محض شاخیں تراشنے سے کبھی پاکیزہ ثمر کی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی۔
تعارفِ مصنف: خرم معین ایک سوشل سائنٹسٹ، محقق اور تجزیہ نگار ہیں۔ وہ قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں اور گزشتہ تیرہ برسوں سے انتظامی و سماجی علوم کے مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تاریخ، فلسفہ اور جیوپولیٹکس ان کے خاص علمی و تحقیقی میدان ہیں، جن کی روشنی میں وہ انسانی رویوں، جوہرِ فطرت اور معاشرتی جبریت کے پیچیدہ تعلق کا ادراک کرتے ہیں۔
