عمران خان کو ہفتے کے روز خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا اور اہلِ خانہ کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عمران خان کی صحت کی حالت اس حد تک کیسے پہنچ گئی کہ انہیں خفیہ طور پر ہسپتال لے جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس پر نہ وہ خاموش رہ سکتے ہیں اور نہ ہی پوری قوم۔ وہ جمعرات کے روز راولپنڈی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی کابینہ کے اراکین اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قائدین بھی موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے عمران خان کی صحت اور مجموعی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ہفتے کے روز خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا اور اہلِ خانہ کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کی صحت اس قدر خراب تھی کہ ہسپتال لے جانا پڑا تو فیملی کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ یہ صورتحال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ ہفتے سے اب تک حقائق چھپانے کے مقاصد کیا ہیں، اور واضح کیا کہ پوری قوم اس طرزِ عمل کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور اس پر سخت ردعمل آئے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے فوری ملاقات کرائی جائے تاکہ اصل صورتحال قوم کے سامنے آ سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیانات پر اعتماد نہیں ہے۔ عمران خان پر ماضی میں قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے، ایسے حالات میں انہیں اچانک اور خفیہ طور پر جیل سے باہر لے جانا اور کسی کو اطلاع تک نہ دینا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خدشات بالکل حقیقی ہیں۔ وزیر اعلی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی ان کی صحت سے بے خبر رکھا گیا، جو صریحاً طبی دہشت گردی کے مترادف ہے، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے اور علاج بھی انہی معالجین سے کرایا جائے تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے بچائی جا سکے، بصورت دیگر اس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت ان کی اولین ترجیح عمران خان کی صحت ہے۔ انہوں نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے عمران خان کے لیے آواز بلند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پلیٹ لیٹس گرنے کی جعلی خبروں پر آواز اٹھائی جا سکتی ہے تو عمران خان کی حقیقی اور سنگین صورتحال پر خاموشی کیوں اختیار کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وہ آج رات بھی اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں پارلیمنٹیرینز پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر پارٹی رہنما مسلسل اڈیالہ جیل پہنچ رہے ہیں۔ یہ ان کے قائد کی زندگی کا معاملہ ہے اور وہ اس صورتحال کو کسی صورت نارملائز نہیں ہونے دیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پوری قوم کو الرٹ رہنا چاہیے، وہ آج رات یہیں گزاریں گے اور اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک عمران خان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بلاوجہ حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، بالخصوص ان عناصر پر جو ملاقات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے پرزور مطالبہ کیا کہ عمران خان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کو فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاملات احسن طریقے سے حل ہوں اور کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو، تاہم اگر ملاقات میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ان کے قائد عمران خان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور وہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی، غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔

