گلگت بلتستان اور چترال کا نوجوان، پاکستان کا نظرانداز کیا گیا سب سے قیمتی سرمایہ – اقبال عیسیٰ خان

اگر پاکستان کے نوجوانوں کو محض تعداد، شور اور بڑے شہروں کی روشنی میں پرکھا جائے تو گلگت بلتستان اور چترال شاید نقشے کے کنارے پر رکھے ہوئے علاقے محسوس ہوں، مگر اگر صلاحیت کو آبادی کے تناسب، مواقع کی کمی اور وسائل کی قلت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہی خطے پاکستان کا سب سے قیمتی انسانی سرمایہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ زمینی حقائق اور تقابلی اعداد و شمار پر مبنی حقیقت ہے۔
پاکستان کی کل آبادی تقریباً 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گلگت بلتستان کی آبادی بمشکل 18 سے 20 لاکھ اور چترال کی آبادی تقریباً 5 سے 6 لاکھ کے درمیان ہے۔ یوں دونوں خطوں کی مجموعی آبادی پاکستان کا محض ڈیڑھ فیصد بنتی ہے۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات، بین الاقوامی اسکالرشپس، کھیلوں کی قومی ٹیموں، فری لانسنگ پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان علاقوں کے نوجوانوں کی نمائندگی کئی بڑے صوبوں کے تناسب سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔
اب سہولتوں کا موازنہ کیجیے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں درجنوں سرکاری و نجی یونیورسٹیاں، ٹیکنالوجی پارکس، انکیوبیشن سینٹرز، صنعتی زونز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں گلگت بلتستان اور چترال میں نہ مکمل یونیورسٹی نیٹ ورک ہے، نہ تحقیقاتی مراکز، نہ بڑی صنعتیں، اور نہ ہی مستحکم روزگار کے مواقع۔ انٹرنیٹ کی رفتار، بجلی کی دستیابی اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتیں بھی کئی علاقوں میں مسلسل چیلنج بنی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کا نوجوان قومی اوسط سے زیادہ نتائج دے رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صلاحیت وسائل کی محتاج نہیں ہوتی، مگر وسائل صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
کامیابی کی کہانیاں محض اعداد تک محدود نہیں۔ گلگت بلتستان کے نوجوان آج دنیا کے مختلف ممالک میں آئی ٹی، انجینئرنگ، میڈیکل اور ریسرچ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سینکڑوں نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے سالانہ لاکھوں ڈالر پاکستان لا رہے ہیں، بغیر کسی سرکاری سہولت یا بڑے انفراسٹرکچر کے۔ چترال کے نوجوان فٹبال، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں قومی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں، جبکہ کئی طلبہ ہارورڈ، آکسفورڈ، ایل ایس ای اور دیگر عالمی جامعات تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سب اس خطے کی اجتماعی ذہانت، نظم و ضبط اور سیکھنے کی شدید خواہش کا ثبوت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نوجوان باصلاحیت ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ریاست نے ان کی صلاحیت کے مطابق سرمایہ کاری کیوں نہیں کی۔ اگر پاکستان کی مجموعی ترقیاتی فنڈنگ کا محض چند فیصد بھی آبادی کے تناسب سے گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوانوں پر خرچ کیا جائے، اگر یہاں معیاری تعلیمی ادارے، ٹیکنالوجی پارکس اور اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں، تو یہ خطے چند ہی برسوں میں انسانی ترقی کے قومی ماڈل بن سکتے ہیں۔
یہ نوجوان شکایت کم اور ذمہ داری زیادہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں کی سختی سے صبر سیکھا، موسموں کی شدت سے برداشت سیکھی، اور محرومیوں سے خودداری۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات نہیں سنوارتے بلکہ پورے خطے کا نام روشن کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کا نوجوان دراصل پاکستان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، وژن سے بنتی ہیں، اور وژن ہمیشہ باصلاحیت انسانوں کے ذریعے حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔
اب فیصلہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ یا تو ان نوجوانوں کو نظر انداز کر کے ایک عظیم صلاحیت کو ضائع کیا جائے، یا پھر ان پر اعتماد کر کے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا، وہی قومیں آگے بڑھیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوان اس اعتماد کے مکمل طور پر اہل ہیں۔
