انسان ۔ زمین اور دنیا (آخری قسط ) – پروفیسر اسرار الدین
.
دنیا اور انسانی تعلقات کی سطحیں
(قرآنی اور جغرافیائی تناظر میں)
هم زیر نظر باب میں انسان، زمین اور دنیا کے درمیاں گہرے تعلق کو سمجنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ ھم نے دیکھا کہ انسان زمین پر دنیا تعمیر کرتا ہے۔ وہ خود مٹی سے بنا مگر اس کی جیب میں آسمان کے خواب ہیں۔
لیکن ایک سوال قابل غور ہے۔ یعنی انسانی تعلقات که وہ سطحیں کیا ہیں. جو خاندان سے شروع ہو کر پوری انسانیت تک پھیلتی ہیں اور ان تعلقات کو کون سی قوتیں تشکیل دیتی ہیں. اس سوال کا جواب دو ذرائع سے لیتے ہیں ۔ قران کریم اور جدید جغرافیائی نظریات سے۔ قرآنی تناظر میں ان تعلقات کی بنیاد عدل احسان ، رحم اور تعارف کے اصولوں پر رکھی گئی ہے ۔ خواہ وہ خاندان ہو، پڑوس ہو ، قوم ہو یا پوری انسا نیت۔ جغرافیائی تناظر میں یہ تعلقات فاصلے قربت، مقام سے جذباتی بندھن، اور سما جی نٹ ورکس کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔
آئے ! ان تناظر میں ان تعلقات کا جائیزہ لیتے ہیں تاکہ اگلے باب (باب 10) میں ہم ان تعلقات کے عملی رنگوں (مملکتی ، لسانی، ہیں ۔ قومی وغیرہ) کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
پہلا حصہ: قرآنی تناظر – انسانی تعلقات کی روحانی بنیاد۔
انسان ایک سماجی وجود ہے ۔ اس کی فطرت الله تعالٰی نے ایسی بنائی ہے کہ وہ دوسروں سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ ان سے جڑتا ہے ۔ ان کے ساتھ مل کر زندگی گزارنا چا ہتا ہے ۔ یہ تعلقات ایک دائرے کی شکل میں پھلتے ہیں ۔ قریب ترین سے شروع ہوکردور ترین تک
قرآن پاک نے ان تمام سطحوں کواحسان ،عدل ، رحم اور تعاون سے جوڑا ہے ۔
(الف). خاندانی سطح : رشته داری کا نظام
- قرانی بنیاد۔
خاندان انسانی تعلقات کی سب سے بنیادی اور مظبوط سطح ہے ۔ اس کو قایم رکھنے کی کسقدر تاکید ہے۔
واتقو الله الذى تساءلون بہ والا رحام ان اللہ کان علیکم رقیبا (انساء )
ترجمہ: اور اللہ سے جس کے نام پر
ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے توڑنے سے بچو۔ بے شک اللہ تعالی تم پر نگہبان ہے ۔
( قرآن کریم بمع اردو ترجمہ و تفسیر
مولانا محمد جونا گڑھی )
تفسیر : والا رحام کا عطف اللہ ہر ہے ۔ یعنی رحموں ( رشتوں ناطوں) کو توڑنے سے بچو ۔ ارحام رحم کی جمع ہے ۔ مراد رشتے داریاں ہیں ۔ جو رحم مادر کی بنیاد پر ہی قایم ہوتی ہیں ۔ اس سے محرم اور غیر محرم دونوں رشتے مراد ہوتے ہیں ۔ رشتوں ناطوں کا توڑنا سخت گناہ کبیرہ ہے جسے قطع رحمی کھتے ہیں ۔ احادیث میں قرابت داریوں کو ہر صورت ہیں قایم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اورفضلیت بیان کی گئی ہے ۔ جسے صلہ رحمی کہتے ہیں ۔
( قرآن کریم بمع ترجمہ تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف)
(ii )خاندان میں امن کے اصول :
. والدین کے ساتھ حسن سلوک
وقضی ربک ۔۔۔۔۔۔۔۔ قولا کر یما (بنی اسرائیل (23)
ترجمہ: اور تیرا پروردگار صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پنج جائیں ، تو ان کے آگے اف تک نہ کہو نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا ۔ بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا ۔ ( مولانا جونا گڑھی ایضاً)
((iii رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی۔
* وات ذالقربی حقہ۔۔۔ – تبذر تبذیرا (بنی اسرائیل26) ترجمہ: اور رشتہ داروں ، اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو ۔ اوراسراف اور بے جا خرچے سے بچو۔
(مولانا محمد جونا گڑھی ایضاً)
* ازدواجی زندگی میں سکون و محبت.
* ومن آياته ان خلق کم۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔یتفکرون (الروم 21)
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں ہے کہ تمہاری ہی جنسیں سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان سے آرام پاو۔
اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قایم کردی – یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لیے ان میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ ( مولانا محمد جونا گڑھی ایضاً)
(iv) خاندانی امن کی اہمیت۔
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے ۔ اگر خاندان مظبوط ہوگا تو معاشرہ مظبوط ہوگا ۔ اگر خاندان میں امن ہوگا تو معشرے میں بھی امن ہوگا ۔ اگر خاندان ٹوٹے گا تو پورا سماجی ڈھانچہ کمزور ہو جاے گا ۔
(ب) محله داری – ہمسائیگی کی سطح.
(i) قرائی بنیاد
قرآن کریم نے پڑوسیوں کے حقوق کو بہت اہمیت دی ہے ۔ یہ وہ سطح ہے ۔ جہاں خاندان سے باہر پہلا با قاعده سماجی تعلق پیدا ہوتا ہے۔
- واعبد والله ولا تشر کو به شیاء۔۔۔۔۔۔ فخورا (النساء 36)
ترجمہ: اور اللہ تعالٰی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام یا کنیز ) یقینا اللہ تعالی تکبر کرنے والوں اور شیخی بازوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ (مولانا جونا گڑھی ایضاً)
یہاں دو قسم کے پڑوسی بتائے گئے ہیں ۔
الجار ذي القربى – قریبی پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہو۔
الجار الجنب ، دور کے پڑو سی ۔ جو محض پڑوسی ہو۔
(ii) محلہ داری کی اہمیت
محلہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ روزانہ ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے غموں اور خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔ اگر محلے میں امن ہوگا ۔ تو پورا معاشرہ پرامن ہوگا ۔
(ج) قومی سطح : قوم اور برادری
(1) قرآئی بنیاد۔
اللہ تعالٰی نے انسان کو مختلف قوموں اور قبائل میں تقسیم کیا ہے ۔ مگر اس تقسیم کا مقصد تعارف ہے۔ تفریق نہیں۔
* یا ایہا الناس انا خلقناکم۔۔۔۔۔۔اتقاکم (الحجرات (13)
ترجمہ : اے انسانو ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے ۔ اور اس لئے تم اپس میں ایک دوسرے کو پہچانو گے اور قبیلے بنا دہے ۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے ۔ جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے ۔
(مولانا جونا گره می , ایضاً (
(ii) قومی سطح پر امن کے اصول۔
عدل و احسان کا قیام۔
ان الله يامر بالعدل والاحسان۔۔۔۔۔ تذکروں (انحل (90)
ترجہ: اللہ تعالی عدل کا بھلائی کا اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔ اور بے حیائی کے کا موں ، ناشایسته حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے ۔ وہ خود تمہیں نصیحت کر رہا -ہے ۔ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔
(مولانا جونا گڑ هی ایضاً )
(iii) با همی تعاون.
ولا يجبر منکم شنان قوم ۔۔۔۔ شديد العقاب (المائدہ 20)
ترجمہ: جن لوگوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم حد سے گزرجاو۔ نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم میں مدد نہ کرو ۔ اور اللہ تعالی سے سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے ۔ (مولانا جونا گڑھی ایضاً)
زیادتی سے منع فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ مثلہ مت کرو ، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو جن کا جنگ میں حصہ نہ ہو ۔ اسی طرح درخت وغیرہ جلا دینا، جانوروں کو بغیر مصلحت کے مارڈالنا بھی زیادتی ہے۔
(iii) تنوع کا احترام۔
قرآن کریم نے واضح کیا کہ قومین اللہ کی نشانیاں ہیں۔ ان کا اختلاف محض ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ ہے نہ کہ تصادم کا راستہ۔
- مذہبی سطح : عقیدے کی برادری۔
- قرانی بنیاد۔
قرآن کریم نے ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر ایک عالمگیر برادری کا تصور دیا ۔ امت واحده۔
- ھذہ امتکم امتا واحده وانا و یکم فاعبدون (الانبیاء (92)
ترجمہ: یہ تمہاری امت ہے ۔ جو حقیقت میں ایک امت ہے ۔ اور میں تم سب کا پروردگار ہوں ۔ تم میری عبادت کرو۔
(مولا نا جونا گڑھی ایضاً)
- مذہبی سطح پر امن کے اصول۔
- مذہبی آزادی۔
- لا اكره في الدين ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمیع علیم ( البقرہ 256)
ترجمہ ، دین کے بارے کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت ضلالت سے روشن ہو چکی ہے ۔ اس لئے جو شخص اللہ تعالی کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرے ۔ اُس نے مظبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا۔ اللہ تعالٰی سننے والا جانے والا ہے۔
(مولا نا جونا گڑھی ایضاً)
(iii) مسلمانوں کے درمیان اخوت.
انما المؤمنون اخوت ۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (الحجرات (10)
ترجمہ : (یاد رکھو) ۔ مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔ پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔ اور الله سے شروع تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ (مولا نا جونا گڑھی ایضاً)
(0) بین الاقوامی سطح : عالمی انسانی برادری۔
(i)قرآنی بنیاد.
قرآن کریم نے انسانیت کو ایک عالمگیر برادری قرار دیا ہے ۔ جسکی بنیاد مشتر کہ انسانی فطرت پر ہے۔
یا ایھا الناس انا خلقتكم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علیم خبیر (الحجرات (13)
ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک (ہی) مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے تم آپس میں ایک دوسرے کو بہچانو ۔ کنبے اور قبیلے بنا دیے گئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والہ ہے ۔ یقین مانو اللہ دانا او بين رباخبرہے۔
- بین الاقوامی سطح پر امن کے اصول۔
جنگ صرف دفاع کےلیے۔
- وقاتلو في سبيل الله ۔۔۔۔۔۔۔ المعتدین (البقره (190)
ترجمہ – لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑ تے ہیں ۔ اور زیادتی نہ کرو ۔ اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
(مولا نا جونا گڑھی ایضاً)
اس آیت مبارکہ میں پہلی مرتبہ ان لوگوں سے لڑنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ جو مسلمانوں سے اعادہ قتال رہتے تھے ۔ (تاہم زیادتی نہ کرنے کی تاکید ہےجس کا ذ کر پہلے گزر چکا ہے۔ )۔
(iii)معاہدے کی پابندی۔
- و اوفو بالعهد أن العہد کان مسولا (الاسرا (34)
ترجمہ: اور وعدے پورے کرو ۔ کیونکہ قول و قرار کی باز پرس ہونے والی ہے (ایضاً)
عہد سے وہ میثاق ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور وہ بھی جو انسان آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے عہدوں کا پورا کرنا ضروری ہے۔
(iv)عالمی عدل کا قیام۔
* یا ایہا الذین امنو ۔۔۔۔۔۔۔ بما تعملون (المائده 8)
ترجمہ: تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاو – راستی اور انسان کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاو ۔ کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل عمل پر امادہ نہ کرے ۔ عدل کیا کرو ۔ جو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقین مانو کہ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
(و) تمام سطحوں کو جوڑ نے والا اصول۔
قرآن پاک نے ان تمام سطحوں کو ایک جامع اصول سے جوڑا ہے ۔ یعنی عدل و انصاف اور بھلایی۔ ۔
ان الله يا مر بالعدل ۔۔۔۔۔۔۔ تذکروں(النحل (90) ترجمہ : اللہ تعالٰی عدل کا ، بھلائی کا اور قرابت داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے۔ اور بے حیائی کے کاموں . ناشائستہ حرکتوں، اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے ۔ وہ خود تمہیں نصیحتیں کرتا ہے کہ تم نعمت حاصل کرو۔(ایضاً)
یہ اصول ہر سطح پر لاگو ہوتا ہے۔ یعنی
خاندان میں ۔ محلے میں ، قوم میں ، مذہب میں اوربین الاقوامی سطح پر۔
(ز) ان تعلقات کے بگڑنے کے اثرات۔
* جب ان سطحوں پر تعلقات بگڑ تے ہوں تو امن وامان تباہ ہو جاتا ہے۔
* خاندانی بگاڑ کی وجہ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں
* محلہ داری میں بگاڑ سے محلے بدامنی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
* قومی سطح پر نا انصافی اور امتیازی سلوک سے قومی کشیدگی اور خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے
* مذہبی تعصب سے دوسروں پر ظلم ، فرقہ واریت دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔
* معاہدوں کی خلاف ورزی و جارحیت سے سے عالمی جنگیں برپا ہو جاتی ہیں۔ اور دنیا کا امن تباہ ہو جاتا ہے
(ک) نتیجه۔
مندرجہ بالا تذکرہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ۔ کہ قرآن کریم نے ،خاندان ، محله ، قوم ، اور اخیر میں بین الاقوامی سطح تک تمام سطحوں کے آپسمیں تعلق کے حوالے سے اہم اصول وضع کئے ہیں ۔ البتہ ان تمام سطحوں کے لئے جو رہنما۔ اصول ہے ۔ وہ ایک ہی ہے یعنی عدل و احسان ، . اور یہی یہ وہ بنیاد ہے ۔ جس پر انسانی امن وامان کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے ۔ جب خاندان اسی اصول کے تحت مظبوط ہوں گے تو محلے مظبوط ہوں گے ۔ جب محلے مظبوط ہوں گے تو قومیں مظبوط ہوں گی ، جب قومیں مظبوط ہوں گی تو بین الاقوامی امن قائم ہوگا ۔ اور اس سب کی جڑ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ۔ کیونکہ جب انسان کا تعلق اللہ تعالٰی سے جڑے گا ۔ تو اپنے خاندان سے ، اپنے پڑوسی سے اپنی قوم اور ملت سے ، اور پوری انسانیت سے جڑے رھے گا ۔
حصہ دوم – جغرافیائی نظریات اور انسانی تعلقات کی سطحیں۔
)الف) ٹوبلر کا قانون جغرافیہ
Toblar’s First Law of geography)
Everything is related to everything else, near things are more related than distant things
ترجمہ: ہر چیز کا دوسری چیز سے تعلق ہوتا ہے ۔ لیکن نزدیکی چیز سے دور کی چیز کی بہ نسبت زیادہ تعلق ہوتا ہے ۔
(i) خاندانی تعلق قربی رشته دار (جسمانی قربت) – یہ سب سے زیادہ مظبوط تعلق ہوتا ہے۔
(ii) محله داری ، پڑوسی – قربت کی بنیاد پر روزمرہ تعامل یا انٹر ایکشن۔
(iii) قومی : ہم وطن ۔ ایک جغرافیائی حدود میں . رہنے والے، باہمی تعلق – کمزور مگر موجود (iv) بین الاقوامی : دور دراز کے لوگ کمزور ترین تعلق ۔ مگر موجود۔
یہ نظر یہ بتاتا ہے کہ جسمانی فاصلہ تعلقات کی شدت کو براہ راست متاثر کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان کے افراد کا اپسمیں تعلق اجنبیوں کی نسبت زیاد مظبوط ہوتا ہے۔
خلاصہ : قریبی رشتے زیادہ مظبوط –
ترتیب : خاندان سے محلہ سے قوم اور
بین الاقوامی ۔
(ب) خلای تعلقات کا نظریہ )Spatial Interaction کا نظریه Theory By Edward Ullman).
ایڈورڈ المین (1954) نے اپنے نظریے کے حوالے سے تین شرطیں بتائیں ۔ جن کے تحت دو یا زیادہ علاقوں کے درمیان تعامل ممکن ہوسکتا ہے۔
- مکملتیا Complimentarity
یعنی ایک علاقے میں کمی ۔ دوسرے علاقے میں زیادتی ۔
- درمیان میں کوئی روکارٹ نہ ہو. قریب تر کوئی متبادل نہ ہو
No Intervening Opportunity) )۔
- انسانی تعلقات کے ساتھ اطلاق
خاندانی ، محبت اور ضرورت ) مکملتیا) – دور دراز خاندان بھی رابطے میں رہتے ہیں۔
محله داری ، روز مرہ ضروریات – پڑوسی کے ساتھ میل جول تعاون ۔
قومی تجارت سیاحت، سفارت – مختلف ممالک کے درمیان تعامل۔
خلاصہ اور تعامل کی شرائط – تعلقات قایم رہنے کے لئے وسائل اور مواقع درکار –
(ج)مقام کا احساس (Sense of Place) By Yi -Fu-Tuan)
ی تو آوان نے جو نظریہ دیا ۔ اس کا نام ٹو ٹوپوفیلیا ( Toppophilie) ہے ، یعنی انسان اور ماحول کے درمیانی جذباتی بندھن ۔ اس کے مطابق مقام صرف جغرافیائی جگہ نہیں ۔ بلکہ وہ جگہ ہے جس سے انسان شناخت، یادیں اور محبت جوڑتا ہے ۔ تو ان کے مطابق مقام کے ساتھ اپنا ییت کا احساس تین طریقوں سے قائم ہوتا ہے ۔
(i)بار بار تجربه : (اوازیں، خوشبوئیں ، مناظر
(ii) روزمرہ کی عادات: (کام کا سفر اٹھنے بیٹھنے کے معمولات)
(iii)روحانی اور خاندانی بندھن (مذہبی روایات ۔ خاندانی رسوم )
- انسانی تعلقات کے ساتھ اطلاق
خاندانی : گھر کا تصور – محض عمارت نہیں۔ بچپن کی یادیں ، ماں کی دعائیں ۔ باپ کا پیار –
محلہ داری ، محلہ کا تصور – وہ گلی جہاں بڑے ہوئے ۔ محلہ کی
مسجد یا دیگر مذہبی مقامات –
قومی : وطن کا تصور – جڑوں کا احساس – آ بای سرزمین سے محبت.
مذہبی مقدس مقامات : مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ، یروشلم، ورانسی وغیرہ۔
بین الاقوامی : انسانی مسکن – پوری زمین کا احساس (نادر مگر ممکن)
خلاصہ جگہ سے جذباتی بندھیں ۔ گھر ۔ محلہ – وطن – مقدس مقامات ہر سطح پرالگ شدت.
ج) جڑوں کالصور
)Rootedness by Yi-Fu-Tuan)
ی فوتوان مقام
(Sense of place) اور جڑیں.
(Rootedness) میں فرق کے بارے بتاتے ہیں کہ که احساس مقام شعوری کوشش سے پیدا کیا جاسکتا ہے۔
ا جیسے میوزیم ، یادگاریں ، محفوظ مقامات وغیرہ)
تو ان کے مطابق
جڑیں یا (Rootedness
قدرتی طور پر پیدا
ہوتا ہے ، بڑوں کا تعلق اباد اجداد کی پوجا اور تقدس سے ہے ۔ وہ لوگ جو مقامی دیوتاؤں کی عبادت کرتے ہیں۔ زیادہ جڑے ہوتے ہیں ۔ جبکہ عالمگیر
مذاہبِ (اسلام اور مسیحیت) کے ماننے والے اس لحاظ سے کم جڑے ہو تے ہیں ۔ کیونکہ ان کا تعلق ایک جگہ سے نہیں ۔ بلکہ پوری انسانیت سے ہوتا ہے ۔
جڑوں (Rootedness) کی شدت کے حوالے انسانی تعلقات
اس کا یہ نقشہ بنتا ہے بہ مطابق یہ توان۔
خاندانی : سب سے زیادہ – خاندانی قربت – آبائی گھر
محلہ داری : زیادہ – پڑوس کی مسجد – اسکول ، بازار
قومی : درمیانی ، قومی پرچم ۔ قومی تہوار مذہبی : کم (عالمگیر مذاہبِ میں ) میں ۔ ۔ کیونکہ عقیدہ مقید نیہں۔
بین الاقوامی :، بہت ہی کم ۔ عالمی شہری کا تصور زیادہ تر نظریاتی ۔
خلاصه : غیر شعوری جڑاو۔ اور خاندان اور علا قائی جڑیں سب سے گہری
عالمگیر مذاہب میں کم۔
د. نیٹ ورک تھیوری
Networks Theory
جغرافیہ دانوں نے نیٹ ورک تصورات کو انسانی تعاملات کے لئے استعمال کیا ہے۔
(1) اسٹرٹیجک نیٹ ورکس کاروباری اور سیاسی اتحاد
(11) غیر رسمی نٹ ور کس – سماجی تعلقات – دوستی خاندان
iii) علاقائی نٹ ورکس – شہری اور دیہی رابطے-
انسانی تعلقات کے حوالے ہے :
خاندانی تعلق:- غیر رسمی – خاندان کی رشتہ داری گروپ یا دیگر گروپ :-
محلہ داری: غیر رسمی + علا قائ – مقامی۔ اصلاحی کمیٹی – تمامی ترقیاتی تو کیمٹی وغیرہ
قومی : علاقائی ، اسٹرٹیجک – سیاسی جماعتیں وغیرہ
بین الاقوامی: اسٹرٹیجک – اقوام متحده ، تجارتی معاہدے ، سفارتی تعلقات
خلاصہ ، رابطوں کا ڈھانچہ ۔ ہر سطح پر مختلف قسم کے نٹ ورک کام کرتے ہیں ۔
نتجه باب کے اس سیکشن میں ہم نے دیکھا کہ انسانی تعلقات کی تشکیل میں دو جہتیں کار فرما ہیں ۔
قرآن کریم ہمیں وہ اصول دیتا ہے ، عدل، احسان، رحم اور تعارف جوان تعلقات کو درست سمت دیتے ہیں اور انہیں فساد سے بچاتے ہیں
جغرافیہ ہمیں وہ طریقے اور مادی بنیادیں بتاتا ہے ۔ یعنی فاصلے، قربت، مقام کا احساس ، نٹ ورک ۔ جن کے ذریعے یہ تعلقات عملی شکل اختیار کرتے ہیں ۔
دونوں کو ملایں تو ایک جامع فریم ورک بنتا ہے جو بتاتا ہے کہ ا انسان کس طرح اپنے خاندان سے لیکر پوری انسانیت تک تعلقات استوار کر سکتا ہے۔
ختم شد