The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 11 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

​انسان، زمین اور دنیا – ​پروفیسر اسرار الدین ​(قسط 2)

Chitral Times

​انسان، زمین اور دنیا – ​پروفیسر اسرار الدین ​(قسط 2)

​انسان، زمین اور دنیا – ​پروفیسر اسرار الدین ​(قسط 2)

​انسان، زمین اور دنیا – ​پروفیسر اسرار الدین ​(قسط 2)

.

​انسان کی افضلیت: انسان کون ہے؟ یہ سوال جتنا پرانا ہے، اتنا ہی نیا ہے، ہر دور کے انبیاء علیہم السلام، مفکرین، فلسفی، سائنس دانوں نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر قرآن کریم نے اس کا جو جامع جواب دیا ہے جو ان کے مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں کو سمیٹتا ہے۔

قرآنی تناظر میں انسان کی افضلیت مٹی سے شعور تک ذیل مراحل میں بیان ہوتا ہے۔

​الف۔ پہلا مرحلہ: انسان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی۔

​اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشراً من طین (ص آیت 71)

​ترجمہ: (یاد کرو) کھول کر کہا تیرے رب نے فرشتوں کو۔ میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا۔ پھر ٹھیک بنا چکوں اس میں اپنی جان (روح)۔ تو تم گر پڑو۔ اس کے آگے سجدے میں۔ (معارف القرآن)۔

و اذ قال ربک۔۔۔۔۔۔۔۔ قعود کہ ساجدین۔ (الحجر 28-29).

  • جب تیرے رب نے فرشتوں کو فرمایا۔ میں بناؤں گا ایک بشر

کھنکھناتے سڑے گارے سے۔ پھر ٹھیک  کر وں اور پھونک دوں گا۔ اس میں اپنی جان (روح) تو گر پڑو اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے۔ (معارف القرآن)

​تفسیر کا خلاصہ: امام غزالی، امام رازی اور مجموعہ صوفیہ اور فلاسفہ کا قول یہ ہے کہ روح جسم نہیں بلکہ جوہر مجرد ہے۔ جمہور علماء  روح کو ایک جسم لطیف قرار دیتے ہیں۔ نفخ کے معنی پھونک مارنے کے ہیں۔ تو اس کو پھونکنا ظاہر ہے ۔ جو اور جو جوہر مجرد مان لیا جائے۔ تو پھونکنے کے معنی میں اس کا بدن سے تعلق پیدا کر دینا ہوگا۔ (بیان القرآن)

آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے روح کو اپنی طرف منسوب کر کے من روحی اس لیے فرمایا۔ کہ تمام مخلوقات میں روحِ انسانی کا اشرف و اعلیٰ ہونا واضح ہو جائے کیونکہ وہ بغیر مادے کے امر الٰہی سے پیدا ہوئی ہے۔ تیسرا اس میں تجلیاتِ رحمانیہ کے قبول کرنے کی ایسی استعداد ہے، جو انسان کے علاوہ کسی دوسرے جاندار کی روح میں نہیں ہے۔ انسان کی پیدائش میں اگرچہ عنصر غالب مٹی کا ہے۔ اور اسی لیے قرآن عزیز میں اس کی پیدائش کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن در حقیقت یہ دس چیزوں کا جامع ہے ۔ جن میں پانچ عالم خلق کی ہیں ۔ اور پانچ عالم امر کی۔

​عالم خلق کے چار عنصر آگ، پانی, مٹی، ہوا اور پانچواں ان سے پیدا ہونے والا بخار لطیف ۔ جس کو روح سفلی یا نفس کہا جاتا ہے ۔ اور عالم امر کی پانچ چیزیں قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ۔ اسی جامعیت کے سبب انسان خلافت الٰہی کا مستحق بنا۔ اور نور معرفت اور نار عشق و محبت کا تحمل ہوا۔

انسان میں تجلیات الٰہی کی قابلیت اور نسبت الٰہی کا جو درجہ ہے اس کو حاصل ہے۔ اسی کی وجہ سے حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہوا کہ اس کو مسجود ملائکہ بنادیا جائے۔ ارشاد ہوا (آیت) فقعو لہ ساجدین (معارف القرآن)

​دوم۔ دوسرا مرحلہ: انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔

​قال یا ابلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی (ص آیت 75)

​ترجمہ فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے۔ یہ تو نے غرور کیا۔ کیا تو بڑا تھا درجہ میں؟ (معارف القرآن)

​تفسیر: (آیت) لما خلقت بیدی، یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا فرمایا ہے۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے ۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے ۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے ۔ کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرتِ خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ لیکن باری تعالیٰ کسی چیز کا خصوصی طور شرف ظاہر کرنا چاہتے ہیں ۔ تو اسے خاص طور پر اپنی طرف منسوب کرتے ہیں یہاں بھی یہ نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے کہی گئی ہے۔ (معارف  القرآن)

اس طرح کئی دوسری آیات مبارکہ میں انسان کی فضیلت کا ذکر ہے جن کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے ۔ یہ آیات انسان کی تخلیق کا روحانی پہلو سامنے لاتے ہیں ۔ کہ انسان نے محض مٹی کا پتلا نہیں ۔ بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی روح پھونکی گئی ہے۔ یہی اس کی عظمت کا راز ہے۔

​(ج) تیسرا مرحلہ: انسان کو علم الاشیاء کی صفت سے نوازا۔

یہ انسان کی تخلیق کا فکری پہلو ہے۔ انسان کو علم دیا گیا۔ اشیاء کو پہچاننے، نام دینے، اور ان پر غور کرنے کی صلاحیت۔ یہی وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے فرشتوں کو انسان کے سامنے جھکنے کا حکم دیا گیا۔ آیت مبارکہ:

​وعلّم آدم الاسماء کلّها ثم عرضہم علی الملئکتہ فقال انبئونی باسماء ھؤلاء ان کنتم صادقین (البقرہ 31)

​ترجمہ: اور سکھا دیئے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے ان سب چیزوں کو فرشتوں کے سامنے کیا۔ پھر فرمایا۔ بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو۔ (معارف القرآن)

​تفسیر کا خلاصہ: خلاصہ یہ ہے کہ زمینی مخلوقات کے اسماء اور اُن کے خواص و آثار کا آدم (علیہ السلام) کو علم دیا۔ جو فرشتوں کے بس میں نہیں تھا۔ پھر ان مخلوقات کو فرشتوں کے سامنے کر کے سوال کیا۔ کہ اگر تم اس خیال میں سچے ہو کہ ہم سے زیادہ کوئی مخلوق اعلم وافضل پیدا نہیں ہوگی۔ یا یہ کہ زمین کی خلافت و نیابت کے لیے فرشتے بہ نسبت انسان زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتاؤ۔ جن پر خلیفہ زمین کو حکومت کرنا ہے۔ غرض اس واقعہ سے حق تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ جتلا دیا ۔ کہ زمین کی نیابت کے لیے معصوم ہونے کو بس نہیں دیکھنا ہے بلکہ اس کو دیکھنا ہے کہ کہ وہ زمین کی چیزوں سے پورا واقف ہو۔ ان کے استعمال کے طریقوں اور ان کے اثرات سے واقف ہو۔ (معارف القرآن)

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کہ جہاں اسماء سے مراد اشیاء کی حقیقت اور ان کے خواص کا علم ہے ۔ یہی وہ صلاحیت ہے، جس کی بدولت انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی اور تہذیب و تمدن میں ترقی دی۔ (معارف القرآن)

​علم کے حوالے سے انسان کو مزید یہ خصوصیت دی گئی ہے کہ اس کو علوم وحی عطا کیے گئے۔ علم و عقل کا کچھ نہ کچھ حصہ دوسری مخلوق کو بھی حاصل ہے ۔ لیکن انسان کی افضلیت و شرافت میں اس اعتبار سے اضافہ فرمایا گیا ۔ کہ اس کو علم شریعت عطا کیا گیا۔ جو انسان کے علاوہ کسی مخلوق میں نہیں ہے۔ وہ علم شرائع و علم احکام خداوندی ہے ۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور انسان اس علم کے ذریعے سعادت کے درجات طے کرتا ہے ۔ اور عنایت خداوندی کا مستحق ہو جاتا ہے۔

یہ علم اللہ تعالیٰ کی مرضیات و نامرضیات کے جاننے کا علم ہے ۔ بلا اس کے  بتلائے ہرگز معلوم نہیں ہوسکتی ۔ اللہ تعالیٰ کی ہرکس و ناکس کو اپنے اندر کی بات نہیں بتلاتا ۔ سواس کے لیے نوع انسانی کو مخصوص و فرمایا ۔ اور اس میں برگزیدہ تر طبقہ انبیاے کرام علیھم السّلام کا تھا ۔ تو ان کو اپنی مرضیات اور نا مرضیات سے آ گاہ کیا۔  اس امر و نہی کے قانون کو شریعت کہتے ہیں۔

یہی وہ علم وحی ہے، جو نبوت و رسالت کے ذریعے آتا ہے ۔ جو صرف انسان کو دیا گیا۔ اور وحی الٰہی اور نبوت کی دولت سے مخلوق میں بجز انسان اور کسی کا انتخاب  عمل نہیں آیا ۔ دوسرے الفاظ میں علم الٰہی کی نعمت مستقلہ انسان ہی کو دی گئی ۔ یہی جو اس کی بنیادی خصوصیت اور امتیازی شان ہے۔ کیونکہ خصوصیت کے معنی یہی ہیں۔ نہ اس کے سوا کسی دوسری  میں نہ پائی جائے۔ (حوالہ اشرف علی چشتی۔ صفحہ 82 تا 93)

​(د) چوتھا مرحلہ:  اختیار و انتخاب کی آزادی:

​ونفس وما سواها فالبهمها فجورها وتقواها (الشمس 7-10)

​ترجمہ: اور جی کی اور جیسا اس کو ٹھیک ٹھاک بنایا۔ پھر سمجھا دی اس کو ڈھٹائی کی اور بچ کر چلنے کی۔ تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اس کو سنوار لیا۔ اور نامراد ہوا جس نے اس کو خاک میں ملا دیا۔ (معارف القرآن)

​آگے یوں تشریح فرماتے ہیں (خلاصہ)

“قسم ہے انسانی جان کی ۔ اور اس کے درست و مناسب کرنے کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا۔ پھر اس کے دل میں فجور اور تقویٰ دونوں کا الہام کر دیا۔ مراد یہ ہے ۔ کہ نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور طاعت دونوں کے مادے اور استعداد رکھدی ہے۔ پھر انسان کو ایک خاص قسم کا اختیار اور قدرت دے دی۔ کہ وہ اپنے قصد و اختیار سے گناہ کی راہ اختیار کرے ۔ یا اطاعت کی۔ جب وہ اپنے قصد و اختیار سے سے ان میں سے کوئی راہ اختیار کرتا ہے ۔ تو اسی قصد و اختیار پر اس کو ثواب یا عذاب ملتا ہے۔

با مراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک کر دیا۔ اور نامراد ہوا اور محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے دھنسا دیا۔  اس آیت نے کل انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک با مراد اور دوسرا نامراد۔

​پانچواں مرحلہ:

(ہ) تخلیقی صلاحیت اور تسخیر کائنات: انسان کو کائنات پر غور کرنے اور اسے مسخر کرنے کی صلاحیت سے نوازا گیا۔

​وسخر لكم ما في السموات وما في الارض جميعاً  (الجاثیہ 13)

​ترجمہ: اور اس نے مسخر کیا تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے ۔ اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ سارے کا سارا۔ اس سے ۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہیں ۔ (معارف القرآن)

یعنی “اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں سب کو اپنی طرف سے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو دھیان رکھتے ہیں (معارف القرآن)

​اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی انسان میں یہ زبردست صلاحیت ہے ۔ کہ آج انسان نے دنیا کو مختلف پہلوؤں میں بے پناہ ترقی سے ہمکنار کر رکھا ہے۔

دوسری جگہ یہ بھی فرمایا:

​ہو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ۔ (البقرہ 29)

​ترجمہ: وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ بھی زمین میں ہے۔ سب کا سب (معارف القرآن)

یعنی وہ ہے، جس نے پیدا کیا۔ تمہارے لئے، جو کچھ زمین میں ہے۔ سب کا سب۔ یہ اس نعمت عامہ کا ذکر ہے۔ جس میں تمام انسان بلکہ حیوانات وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ اور لفظ میں تمام نعمتوں کا اجمال آگیا ۔ جو دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہوتیں ۔ یا ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ انسان کی غذا، لباس، مکان اور دوا اور راحت کے کل سامان زمین ہی کی پیداوار ہیں (معارف القرآن)

​خلاصہ: انسان ایک حیرت انگیز مخلوق ہے ساری مخلوق سے بلندو بالا حسین  و جمیل ۔

​وہ مٹی سے بنا، مگر اس میں اللہ تعالیٰ کی روح پھونکی گئی ۔

​وہ نطفے سے پیدا ہوا ۔ مگر اسے علم اشیاء سے نوازا گیا

​وہ غلطی کرتا ہے ۔ مگر اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے ۔

​وہ عارضی ہے ۔ اس کے اعمال ابدی ہیں

​وہ زمین پر ہے ، مگر اس کے دل میں آ آسمانوں کے خواب ہیں۔

  انسان کا مقصد  تخلیق و حیات: اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے ۔ کہ جب انسان کو دنیا کو مسخر کرنے کے لیے پیدا فرمایا ۔ اور دنیا کی ہر چیز اس انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے ۔  اس انسان کو خود کس لیے پیدا فرمایا گیا ہے ۔ کیا اس کا کام صرف حیوانوں کی طرح کھانا پینا ، چلنا پھرنا ، سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا ہی ہے ۔ یا پھر اس سے بلند تر کوئی اور مقصد بھی ہے۔ قرآن عزیز نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا ہے ۔ اور واضح طور پر اعلان فرمایا ۔

​وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات 56)

​ترجمہ : اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس واسطے کہ میری عبادت کریں۔ (معارف القرآن)

​ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس ا یت کی جو تشریح کی ہے اس کا خلاصہ یوں ہے۔

عبادت ایک جامع لفظ ہے اس کے اندر وہ تمام ظاہری اور باطنی اعمال اور اقوال داخل ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔اور جو اس کی خوشنودی کا باعث بنتے ہیں۔ مثلاً نماز، زکوت، روزہ، حج، راست گوئ، امانت داری صلہ رحمی، دیانت، طاعت والدین، وفاے عہد، امر با المعروف نہی عنی المنکر، جہاد فی سبیل اللہ، پڑوسیوں، یتیموں اور مسکینوں، اور مملوکوں کے ساتھ (,چاہے یہ مملوک انسان ہوں چاہے جانور ) اچھا سلوک اور دیگر اعمال صالحہ۔ “۔

(حوالہ اسلام ایک نظر میں۔ مولانا صدر الدین اصلاحی۔ ص۔281۔

اس عنوان پر اشرف چشتی کے۔ مضمون کا خلاصہ یوں ہے۔

“عبادت کے لغوی معنی عبد شدن کے ہیں۔ یعنی ایک بے اختیار بے بس غلام کی طرح اپنے  آقا اور مولا کا تابع فرمان رہنا۔ اسکی مشیت کے سپرد اپنے آپ کو کر دینا۔   کہ جو مالک کہے اسے کر ڈالنا۔ جس سے منع کرے اس سے  رک جانا۔ اس کے احکام کو اپنے عقل و فکر پر نہ جانچنا۔ اس کے حکم سے انکار، یا انحراف ، ،سرتابی یا نا فرمانی نہ کرنا، اپنی ساری زندگی اپنے خالق و مالک کی مرضی اور پسند کے مطابق گزارنا ” ( حوالہ ۔ حقیقت اِنسانیت ۔ صفحہ141)

​انسان اور کائنات کا باہمی تعلق

انسان اور کائنات کا تعلق انتہائی گہرا اور جڑواں ہے۔ کائنات انسان کے لیے ایک تجربہ گاہ اور مشاہدہ گاہ ہے۔ جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھتا ہے ۔ اور اپنے علم و عقل کے ذریعے کائنات کے اسرار و رموز کو فاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم نے بار بار انسان کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔

​ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنھار لایات لاولی الالباب (آل عمران 190)

​ترجمہ : بیشک آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے واسطے۔ (معارف القرآن)

یہ کائنات انسان کی خدمت کے لیے مسخر کی گئی ہے ۔ لیکن اس تسخیر کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اس کا بے دردی سے استعمال کرے یا اس میں بگاڑ پیدا کرے۔ بلکہ انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کائنات کے توازن کو برقرار رکھے۔ اور امانت دارانہ طریقے سے اس کے وسائل کو استعمال میں لائے۔

​انسان کی اخلاقی اور روحانی ذمہ داریاں :

انسان کی افضلیت صرف اس کے مادی یا فکری پہلو تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل حسن اس کی اخلاقی اور روحانی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھائی ہے اور اسے امانت کا حامل بنایا ہے۔

​انا عرضنا الامانۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان (الاحزاب 72)

​ترجمہ : ہم نے آگے رکھا امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے۔ پھر انہوں نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے۔ (معارف القرآن)

امانت سے مراد وہ عقل، اختیار اور شرعی ذمہ داریاں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو سونپی ہیں۔ کائنات کی دوسری بڑی مخلوقات (آسمان، زمین، پہاڑ) اپنی مادی عظمت کے باوجود اس بارِ امانت کو اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی تھیں، کیونکہ ان کے پاس اختیار اور ارادے کی آزادی نہیں تھی۔ انسان نے اپنی استعداد کے سبب اس ذمہ داری کو قبول کیا۔

​انسانی زندگی کے ادوار اور ارتقاء :

قرآنی تعلیمات کے مطابق انسانی زندگی صرف اس مادی دنیا تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مختلف ادوار اور عالموں سے گزر کر اپنے اصل انجام کو پہنچتی ہے۔

​عالمِ ارواح : جہاں تمام انسانی روحوں کو پیدا کیا گیا اور ان سے توحید کا عہد لیا گیا۔ (عہدِ الست)

​عالمِ بطن (ماں کا پیٹ) : جہاں مٹی کے خلاصے اور نطفے سے انسان کی مادی تشکیل ہوتی ہے اور روح پھونکی جاتی ہے۔

​عالمِ دنیا : موجودہ مادی زندگی جو امتحان اور عمل کی جگہ ہے۔ جہاں انسان کو اختیار اور شریعت کے احکام دیے گئے ہیں۔

​عالمِ برزخ : موت کے بعد سے قیامت تک کا درمیانی دور، جہاں انسان اپنے اعمال کے ابتدائی اثرات کا سامنا کرتا ہے۔

​عالمِ آخرت : ابدی زندگی جہاں جزا و سزا کا قطعی فیصلہ ہوگا اور انسان اپنے اصل مقام (جنت یا دوزخ) کو پہنچے گا۔ئیں

​ان تمام ادوار میں دنیا کی زندگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہی وہ بوائی کا وقت ہے جس کی فصل آخرت میں کاٹی جائے گی۔

​انسان کا معاشرتی پہلو اور حقوق العباد :

اسلامی تناظر میں انسان اکیلا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ ایک معاشرتی وجود ہے۔ قرآن و سنت نے انسانوں کے آپس کے تعلقات، حقوق اور فرائض کا ایک جامع نظام عطا کیا ہے۔ جسے حقوق العباد کہا جاتا ہے۔

​یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر وانثیٰ وجعلناکم شعوباً وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم (الحجرات 13)

​ترجمہ : اے لوگو! ہم نے پیدا کیا تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور برادریاں تاکہ آپس میں پہچان ہو۔ بیشک بڑا عزت والا اللہ کے یہاں وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ (معارف القرآن)

اس آیت نے رنگ, نسل، زبان اور جغرافیائی بنیادوں پر قائم تمام امتیازات کو ختم کر دیا اور انسانی برابری کا اعلان کیا۔ معاشرتی زندگی میں تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہی فضیلت کا معیار ہے۔ انسان کی افضلیت کا ایک بڑا مظہر یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے: خیر الناس من ینفع الناس (تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے)

آیندہ کسی قسط میں دنیا میں انسانی تعلقات کے سطحوں پر بات ہو گی)۔

​خاتمہ کلام اور فکری نتیجہ : اس تفصیلی تحریر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا تصورِ انسان انتہائی بلند اور متوازن ہے۔ انسان محض ایک حیوانِ ناطق یا مادی ارتقاء کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شاہکار ہے جس کی تخلیق میں مادی عناصر کے ساتھ ساتھ روحِ الٰہی شامل ہے۔

​انسان کی اس فضیلت اور مرکزی حیثیت کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

​انسان کائنات کی کسی مادی چیز کے سامنے سر نہ جھکائے کیونکہ وہ کائنات کی تمام چیزوں سے افضل اور ان کا مخدوم ہے۔

​انسان اپنی مادی خواہشات کا غلام نہ بنے بلکہ اپنے روحانی پہلو کو بیدار رکھے۔

​وہ زمین پر امن، عدل اور خلافتِ الٰہی کی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

​اگر انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو فراموش کر دے اور صرف مادی لذتوں میں گم ہو جائے، تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن نے فرمایا: اولئک کالانعام بل ھم اضل (یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ)۔ اور اگر وہ اپنے فکری اور روحانی پہلو کو پا لے تو وہ فرشتوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا ہے۔

​(جاری۔ باقی آیندہ)۔