ہسپتال، میڈیکل سٹور یا بے لگام کاروبار؟ ایک درد مندانہ سوال …؟- اقبال عیسیٰ خان
میں یہ سطور ایک شہری کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے انسان کی حیثیت سے جس نے انسانی جان کو آہستہ آہستہ ایک بے رحم کاروبار میں بدلتے دیکھا ہے۔
میں بخوبی جانتا ہوں کہ اس تحریر پر میرے کئی نہایت قابل، اعلیٰ پیشہ ور اور انتہائی دیانتدار ڈاکٹر دوست ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد کسی بھی میڈیکل پروفیشنل کی دل آزاری یا تضحیک ہرگز نہیں، بلکہ متعلقہ اداروں اور ذمہ دار حلقوں کی توجہ اُن پہلوؤں کی جانب دلانا ہے جہاں بہتری کی اشد ضرورت ہے بالکل ویسے ہی جیسے دیگر شعبہ جات میں اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
آج یہ کہنا تلخ ضرور ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ ہمارے بہت سے ہسپتال اور میڈیکل اسٹورز بے لگام کاروبار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نہ دواؤں کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول باقی رہا ہے، نہ ان کے معیار پر سخت نگرانی۔ مریض، جو پہلے ہی خوف اور درد کے عالم میں ہوتا ہے، علاج کے نام پر ایسے نظام کے سامنے بے بس نظر آتا ہے جہاں شفا سے زیادہ منافع کو ترجیح دی جاتی ہے۔
دواؤں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایک ہی دوا مختلف میڈیکل اسٹورز پر مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہی ہے۔ جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کھلے عام دستیاب ہیں، مگر احتساب کا نظام کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی غفلت اور خاموش جرم ہے۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ چند ڈاکٹر اور میں یہاں دانستہ طور پر “چند” کا لفظ استعمال کر رہا ہوں، نے اس مقدس پیشے کی روح کو مجروح کیا ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، بلاجواز سرجریز، کمیشن پر دوائیں، اور مریض کو محض ایک فائل یا بل سمجھنا… یہ سب وہ عوامل ہیں جو اس عظیم پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے افراد معالج نہیں بلکہ مریض کے اعتماد کے قاتل ہیں۔
تاہم یہ بات پوری قوت سے کہنی چاہیے کہ میڈیکل کا شعبہ آج بھی دنیا کے سب سے باعزت اور مقدس پیشوں میں شامل ہے۔ ڈاکٹر بننے کے لیے نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی سال، اپنی نیند، آرام، خواہشات اور سکون قربان کر دیتا ہے۔ MBBS اور اس کے بعد کی اسپیشلائزیشن محض ڈگریاں نہیں بلکہ قربانی، محنت، خون، پسینے اور آنسوؤں سے لکھی جانے والی داستانیں ہیں۔ ہزاروں ایماندار، خدا ترس اور انسان دوست ڈاکٹر آج بھی خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
بدقسمتی سے چند “سڑے ہوئے انڈوں” نے پوری میڈیکل برادری کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ مسئلہ اکثریت کا نہیں، مگر اس کی قیمت سب کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت، پالیسی سازی اور اخلاقی جرات کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔
جب تک دواؤں کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، معیار کی شفاف جانچ، اور ہسپتالوں و ڈاکٹروں کے لیے مضبوط اور غیر جانبدار احتسابی نظام نافذ نہیں ہوگا، تب تک یہ بے لگام کاروبار انسانی جانوں کو نگلتا رہے گا۔
میرا ایک سوال یہ ہے، کیا ہم واقعی صحت جیسے مقدس شعبے کو بھی مکمل طور پر منڈی کے حوالے کر چکے ہیں؟
میری درد مند اپیل ہے کہ اس پیشے کی حرمت اور وقار کو بحال کیا جائے۔ لالچ کے خلاف کھڑے ہونے والے دیانتدار ڈاکٹروں کو تحفظ دیا جائے، اور مریض کو صرف ایک “کیس” نہیں بلکہ ایک انسان سمجھا جائے۔
مجھے امید ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر میڈیکل پروفیشنل تنظیمیں اس تحریر کو منفی نہیں بلکہ مثبت انداز میں لیں گی، اور اس مقدس پیشے میں بہتری، اصلاح اور خود احتسابی کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔
اگر آج ہم نے اصلاح کی بات نہ کی، تو کل یہ نظام ہمیں صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی بیمار کر دے گا۔
یہ جنگ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان نہیں، یہ جنگ انسانیت اور بے رحم کاروبار کے درمیان ہے۔

