ہندوکش کے دامن سے ۔ کیا جمہوریت آسمانی نظام ہے؟ ۔ تحریر: عبدالباقی
ملک کا نظام جیسا بھی ہو، چاہے بادشاہت ہو، آمریت ہو یا جمہوریت، عوام کو بنیادی حقوق اور سہولتیں میسر ہونی چاہئیں۔ عوام ایسی جمہوریت کا کیا کریں جس میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہ ہو، وہ بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہوں اور اظہارِ رائے کی آزادی بھی نہ ہو۔ ایسی جمہوریت سے تو وہ بادشاہت لاکھ درجے بہتر ہے جہاں عوام کو بنیادی حقوق اور سہولتیں میسر ہوں اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو۔
دنیا میں کئی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں جمہوری نظام نہیں ہے، مگر وہ ممالک جمہوریت کے بغیر بھی شاندار ترقی کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام کو بنیادی حقوق اور ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔ کسی ملک کی معاشی ترقی کے لیے جمہوریت سے وابستہ ہونا لازمی نہیں۔ پاکستان کا دوست ملک چین، جہاں ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں، مگر وہ جمہوریت کے بغیر زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ترقی کر کے معاشی طور پر دنیا کی سپر طاقت بن گیا ہے۔
برادر اسلامی ملک سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد بھی کر رہا ہے اور لاکھوں بے روزگار پاکستانیوں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ کسی ملک کی معاشی ترقی کے لیے امانت دار، دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔
جنرل ایوب خان نے اپنے دورِ حکومت میں ملک کے آبی وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے تربیلا اور منگلہ ڈیم بنائے۔ آج بھی انہی ڈیموں سے ملک کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جنرل ایوب کے دورِ اقتدار میں پاکستان خطے کا تیز ترین ترقی کرنے والا ملک بن گیا تھا۔ دورِ ایوبی میں پاکستان خطے کے سستے ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا، اور ملک میں مہنگائی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ آج بھی جنرل ایوب کے دورِ حکومت کو سنہرے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں افغان۔سوویت جنگ شروع ہوئی، لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں پناہ گزین ہوئے، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہوئی، لیکن بے روزگاری اور مہنگائی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ عوام کو ہر قسم کی سہولتیں میسر تھیں اور ملک معاشی طور پر ترقی کر رہا تھا۔ جنرل ضیاء ایک طیارہ حادثے میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوئے۔
جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد ملک میں دوبارہ جمہوریت کا آغاز ہوا، لیکن ملک معاشی ترقی کے بجائے زوال کی طرف گامزن ہو گیا۔ سیاست دانوں نے اقتدار کی جنگ میں ملک کو معاشی، سیاسی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا۔ ہر نئی آنے والی سول حکومت نے احتساب کے نام پر حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔ انتقامی سیاست کی وجہ سے ملک کے معاشی اور جمہوری نظام کمزور ہوئے، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں سیاسی وابستگی اور اقربا پروری کی بنیاد پر سرکاری اداروں میں بڑی تعداد میں نااہل افراد بھرتی کیے گئے، جس سے ملکی اداروں کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا۔ جمہوری ادوارِ حکومت میں تقرریاں، ترقیاں اور تبادلے رشوت اور سیاسی سفارش کی بنیاد پر کیے گئے، جس سے ملکی اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی۔ اس کی سزا آج بھی ملک اور قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
1999 میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار سنبھالا اور اپنے سترہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا، جس میں میرٹ کو اولین ترجیح دی گئی۔ سول حکومتوں کے دور میں خسارے میں چلنے والے بڑے قومی ادارے، جیسے پی آئی اے، ریلوے اور اسٹیل ملز، سالانہ اربوں روپے کمانے لگے۔ جنرل مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں میں میرٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا، جس سے ہر شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی اور آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا گیا۔
جنرل مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کا نظام رائج کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں ریکارڈ ترقیاتی کام انجام پائے۔ پاکستان میں فوجی ادوارِ حکومت میں ہی معاشی ترقی ہوئی ہے اور عوام کو سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
لہٰذا جمہوریت کوئی آسمانی نظام نہیں جس پر ہر حال میں عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہو۔ ملک کا نظام جیسا بھی ہو، عوام کو بنیادی حقوق اور سہولتیں میسر ہونی چاہئیں۔ عوام ایسی جمہوریت کا کیا کریں جس میں ان کی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ نہ ہوں اور وہ بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہوں۔

