The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 1 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہندوکش کے دامن سے ۔ غربت اور قسمت ۔ تحریر عبد الباقی

Chitral Times

ہندوکش کے دامن سے ۔ غربت اور قسمت ۔ تحریر عبد الباقی

ہندوکش کے دامن سے ۔ غربت اور قسمت ۔ تحریر عبد الباقی

ہندوکش کے دامن سے ۔ غربت اور قسمت ۔ تحریر عبد الباقی

.
غریب لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں، اندھیرے میں گھر سے نکلتے ہیں، دھوپ میں جلتے ہیں، بارش میں بھیکتے ہیں صبح سے شام تک محنت مشقت کرکے پسینہ بہاتے ہیں، تھکن سے چور ہو کر رات گئے گھر لوٹتے ہیں۔ لیکن ان کو اتنی اجرت نہیں ملتی ہے کہ گھر کے اخراجات پورے کر سکے۔ کیا غربت ان لوگوں کی قسمت میں لکھی ہے یا نظام حکومت کی خرابیوں کا نتیجہ ہے ؟ تمام تر کوشش کے باوجود بھی گھر کے اخراجات آمدن سے بڑھ جائے تو مایوسی جنم لیتی ہے۔

یہی مایوسی خوشیوں کو چھین لیتی ہے ۔ بعض اوقات مایوسی ذہنی دباؤ بن کر خودکشیوں کے سبب بنتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خودکشیوں کے واقعات میں مسلسل اضافے دیکھنے میں آرہا ہے ۔ خودکشیوں کے کئی اسباب وجوہات اور بھی ہو سکتے ہیں لیکن غربت منہگائی اور بے روزگاری مالی پریشانی اسے کے اہم وجوہات ہیں۔ معاشی طور پر وہ شخص یا گھرانہ غریب ہے۔ جس کی آمدنی اس کی بنیادی ضروت جیسے خوراک، رہائش، لباس، تعلیم اور علاج کے لیے نا کافی ہو۔ سماجی لحاظ سے وہ شخص غریب ہے۔ جو معاشرے میں دستیاب مواقع سے محروم ہو اپنے محنت اور صلاحیت کے باو جود بہتر زندگی حاصل نہ کر سکے۔ غربت صدیوں سے دنیا کے ہر معاشرے کا بڑا مسئلہ رہا ہے۔ بعض ممالک طویل جدو جہد اور منصوبہ بندی کے ذریعے کسی حد تک غربت میں کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان ممالک میں چین سر فہرست ہے جو قلیل مدت میں اپنی عوام کو غربت سے نجات دلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ بعض ترقی پذیر ممالک غربت پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن اس ملک کے حکمرانوں کے سا منے غربت کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ گزشتہ اٹہتر سالوں میں جو بھی برسر اقتدار آئے ہیں، چاہئیے وہ سول حکمران ہو یا عسکری کسی نے بھی غربت میں کمی لانے کےلے کوئی ٹھوس عملی اقدامات نہیں کیے ۔ بلکہ وہ جھوٹے وعدوں اور دعووں سے غریب عوام کو سنہرے خواب دیکھا کر اقتدار سے رخصت ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی ترقی پذیر ممالک میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافے ہو رہا ہے جن میں نیپال ، نائجیریا ، کانگو ، یمن ، افغانستان ، شام اور پاکستان شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ہمارے حکمرانوں کےلے باعث شرم ہے کہ ایک ایٹمی طاقت رکھنے والا قدرتی وسائل سے مالا مال ملک معاشی لحاظ سے دنیا کے پس ماندہ ترین ممالک کی صف میں شمار ہوتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے سے دس گنا بڑی طاقت کو جنگ میں با آسانی شکست دے سکتا ہے۔ عالمی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرکے دنیا میں امن قائم کر آ سکتا ہے ۔ لیکن اپنی ملک کے اندورنی مسائل منہگائی، غربت ، بے روزگاری، بد آمنی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے سامنے بے بس نظر آ رہا ہے ۔

اس وقت سینئر تجر بہ کار سیاستدان برسر اقتدار ہیں، ان کے پاس تجربے کار معاشی ماہرین کی بھی کمی نہیں۔ اسٹیبلشمینٹ کے تعاون بھی ان کو حاصل ہے ان سب کے باو جود معاشی بحالی کے اثرات دور دور تک دیکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ بلکہ ہر روز سورچ منہگائی کا نیا پیغام لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ معاشی ترقی صرف حکمرانوں کے بیانات اور اعلانات میں سنائی دے رہا ہے ۔ حکمران اشرافیہ طبقے میں یہ افسوس ناک سوچ پائی جاتی ہے کہ غریب لوگ غربت کے خود زمہ دار ہیں وہ محنت مشقت نہیں کرتے ہیں۔ کاہلی اور سستی کا شکار ہیں اس لئے وہ غریب ہیں۔ یہ سوچ حقیقت کے بلکل بر عکس ہے اپنے کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

حقیقت میں غربت کسی فرد کی ذاتی نا کامی نہیں ہوتی ہے ۔ بلکہ معاشی ناہمواری ، و سائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، نا قص نظام تعلیم ، بے روزگاری ، بد عنوانی ،نا انصافی اور نا قص حکمرانی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ پاکستان میں لاکھوں غریب لوگ دن رات سخت محنت مشقت کرتے ہیں۔ ان میں مزدور ، کسان ، فیکٹری ورکر ، ڈرائیور وغیرہ شدید گرمی اور سردی میں سخت محنت مشقت کے با جود بھی بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہی ہیں ۔ اگر محنت ہی کامیابی کی واحد شرط ہوتی تو یہی لوگ معاشرے میں سب سے زیادہ خوشحال ہوتے۔ کیونکہ جسمانی محنت مشقت سب سے زیادہ یہی غریب طبقہ کرتی ہے ۔ سخت جسمانی محنت کے باوجود بھی وہ برسوں سے بنیادی حقوق اور سہولتوں سے محروم ہو کر نسل در نسل غربت کی چکی میں پس رہی ہیں۔

اس ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع چند محصوص طبقات تک محدود ہیں ۔ اس معاشی نا ہموارہ کی سب سے بڑی وجہ ہمارے نظام حکومت ہے ۔ مہذب معاشروں میں حکومت دولت مند افراد سے ٹیکس اکٹھا کرکے معاشرے کے غریب اور بے روزگار افراد کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے ۔جبکہ اس ملک میں حکومت عریب اور متوسط طبقے پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال کر ان سے حاصل ہونے والے امدنی سے اشرافیہ طبقے کے مراعات اور سہولتوں میں مذید اضافے کرتی ہے ۔ اس ملک کے عوام ایک شفاف منصفانہ اور جواب دہ نظام چاہتے ہیں ۔ جہاں معاشرے کے تمام افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی ہو اور معاشرے کے ہر فرد کو ان کے صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرنے کے مواقع میسر ہو۔ مو جودہ طبقاتی نظام میں غریب اور محروم طبقے کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ جبکہ بالادست طبقے کے مفادات اس نظام میں محفوظ ہیں ۔

حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا ۔ عوام کی طرف سے کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آئے گا ۔ حکمران اس وقت سے ڈریں ، جب مظلوم اپنے حقوق کے حصول کےلے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ پھر مظلوموں کے ہاتھ ظلموں کے گریباں تک پہنچنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گا ۔ دنیا کی تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ظلم، ناانصافی اور جبر کی بنیاد پر کھڑا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔