چترال کے طول وعرض میں شدید برفباری، سڑکیں بند، لواری اپروچ روڈ بارہ گھنٹے بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا، بجلی کا نظام درہم برہم
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال لوئیر اور اپر میں گزشتہ دن سے جاری برفباری کے نتیجے میں چترال ٹاون میں ایک فٹ سے زیادہ، دروش میں سولہ انچ، لواری ٹنل ایریا میں تین فٹ سے زیادہ برف پڑچکی ہے، اسی طرح اپرچترال کے مختلف علاقوں میں ایک فٹ سے زیادہ برف پرنے کے اطلاعات ہیں، یہ سیزن اورنئے سال کی پہلی برف باری ہے۔ جس کے نتیجے میں چترال کے تمام رابطہ سڑکیں بند ہوچکی ہیں، تاہم لواری ٹنل اپروچ روڈ کو بارہ گھنٹے بلاک رہنے کے بعد دوبارہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ، اور جمعہ کی سہ پہر کے بعد مختلف مقامات پر پھنسی ہوئی گاڑیاں اپنی منزل مقصود کیطر ف روان ہوگئے ، جبکہ گرم چشمہ روڈ اور اپرچترال روڈ جمعہ کی شام تک مکمل بند ہے، شدید برفباری کے باعث جمعہ کے دن لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ، بازار اور کاروباری مراکز اکثر بند رہے، بجلی کا نظام درہم برہم ، تمام کاروبار زندگی معطل رہی۔
دریں اثنا ڈپٹی کمشنر اپرچترال محمد عمران خان نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ شدید برفباری کے نتیجے میں رابط سڑکیں بند ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ کے افسران کی نگرانی ان سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کیلئے مشینری لگادی گئی ہے، انھوں نے مذید بتایا کہ جمعہ کے شام کڑاک کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے سے چترال بونی روڈ کوراغ کے مقام پر بھی ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے ، انھوں نے مسافروں سے غیر ضروری سفر سے کل تک گریز کرنے کی اپیل کی ہے، ڈپٹی کمشنر نے مذید بتایا کہ شدید برفباری کے نتیجے میں اپرچترال کی بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہے ، جسکی بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔
اسی طرح ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال راو محمد ہاشم نے بتایا کہ اس دفعہ لوئیر چترال کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ برفباری ہوئی، جس کے باعث تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں تاہم چترال بونی روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ ، کالاش ویلی روڈ سمیت چترال شہر کے اندر برف صاف کرنے کیلئے مشینری لگادی گئی ہے ، انھوں نے بتایا کہ بجلی کی دوبارہ بحالی کیلئے بھی ضلعی انتظامیہ کی افسران کے زیر نگرانی پیسکو اہلکار مصروف عمل ہیں ، تاہم متعد دمقاما ت پر بجلی کے پول گرنے اور تار ٹوٹنے سے بجلی کی دوبارہ بحالی میں وقت لگ سکتا ہے ،
دریں اثنا چترال سکاؤٹس کے جوان مختلف علاقوں (ارندو ،دروش چترال ٹاؤن ) میں بند راستوں کو صاف کرنے اور پھنسے ہوئے گاڑیوں کو ریسکیو کرنے میں مصروف رہے، جبکہ ریسکیو ۱۱۲۲ کے اہلکار اور مشینری بھی سڑکوں کو کھولنے میں پیش پیش رہے۔ چترال ٹریفک پولیس، چترال لیویز کے جوان ، سول ڈیفنس اہلکاروں کے ہمراہ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے گاڑیوں کو نکالنے میں پیش پیش رہے۔




