ہار نہ ماننے والے نوجوان ہی دنیا بدلتے ہیں – اقبال عیسیٰ خان
نوجوانی کسی قوم کا حال نہیں، بلکہ اس کا مستقبل ہوتی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جہاں انسان کے سامنے سوال بھی ہوتے ہیں، خواب بھی، اور چیلنجز بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی چیلنجز کو رکاوٹ سمجھ کر رک جاتا ہے، اور کوئی انہی چیلنجز کو سیڑھی بنا کر بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی لیے نوجوان کے لیے سب سے ضروری وصف مثبت سوچ، پختہ امید اور نہ ہارنے کا حوصلہ ہے۔
دنیا کی کوئی بڑی کامیابی آسان راستوں سے ہو کر نہیں گزری۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال قید میں گزارے، مگر مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ انہوں نے جیل کی دیواروں کو اپنی سوچ کی حد نہیں بننے دیا، بلکہ ایک وسیع النظر، بردبار اور وژنری رہنما بن کر ابھرے، جنہوں نے پورے جنوبی افریقہ کی تقدیر بدل دی۔ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ چیلنج انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ تراشتے ہیں۔
اسٹریٹیجک ذہن رکھنے والا نوجوان وقتی ناکامی کو آخری فیصلہ نہیں سمجھتا۔ اسٹیو جابز کو اپنی ہی کمپنی ایپل سے نکال دیا گیا، مگر انہوں نے شکست کو انجام نہیں مانا۔ انہوں نے سیکھا، خود کو بہتر کیا، اور واپس آ کر نہ صرف ایپل بلکہ پوری دنیا میں جدت (Innovation) کا نیا معیار قائم کیا۔ یہی مثبت سوچ اور دور اندیشی ایک عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔
قیادت کا تقاضا ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی راستہ دیکھ سکے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس بار بار ناکام ہوئی، راکٹ تباہ ہوئے، سرمایہ ختم ہونے کے قریب پہنچا، مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔ آج وہی شخص خلا کو انسان کے لیے قابلِ رسائی بنانے کی بات کر رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناکامی وقتی ہوتی ہے، وژن مستقل ہوتا ہے۔
فکری اعتبار سے مضبوط نوجوان وہ ہوتا ہے جو تنگ نظری سے آزاد ہو۔ وسیع القلبی انسان کو سیکھنے، برداشت کرنے اور بہتر فیصلے کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
مقصد کے بغیر زندگی بے سمت ہو جاتی ہے۔ نوجوانو! اپنی زندگی کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہ رکھو، بلکہ کسی بڑے مقصد سے جوڑو۔ جب زندگی کا مقصد واضح ہو جائے تو انسان مشکلات سے گھبراتا نہیں، بلکہ انہیں موقع سمجھ کر قبول کرتا ہے۔
یاد رکھو، مثبت سوچ خود فریبی نہیں، بلکہ حقیقت کا باوقار سامنا ہے۔ امید کمزوروں کی تسلی نہیں، بلکہ مضبوط ذہنوں کی طاقت ہے۔ جو نوجوان چیلنجز سے سیکھنا جان لیتا ہے، وہ صرف اپنی تقدیر نہیں بدلتا، بلکہ دنیا کے نقشے پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے۔ اس لیے پُرامید رہو، مثبت رہو، اور کبھی ہار نہ مانو۔
کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی نوجوانوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں بھی کھڑے رہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

