ہنسنا نہیں، قہقہہ منع ہے۔ تحریر: اقبال حیات اف برغذی
ہم چند ہم عصر ساتھی اتفاقیہ ملاقات پر چترال کی مرکزی گزرگاہ کے ایک طرف کھڑے محوگفتگو تھے ۔ اچانک کسی بات پر ہم سب مل کر زوردار قہقہہ لگائے۔ قریب سے گزرتے ہوئے ایک معتبر شخصیت کے حامل شخص یہ کہتے گئ کہ ” موت کی شدت،قبر کی ہیت اور محشر کے دن کی کیفیت کا احساس رکھنے والوں کو اس قسم کے منہ کھول کر ہنسنے کو دل نہیں کریگا۔ مذکورہ شخص کی زبان سے نکلنے والے ان الفاظ کی حقانیت پر مبنی ہونے کی بنیادپر ہمیں شرمندگی کا احساس ہوا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام میں محدود انداز میں ہنسی مزاح پر کوئی قد غن نہیں۔ البتہ یہ عمل کسی کی تضحیک اور دل آزاری کی خباثت سے پاک ہونے سے مشروط ہے۔ اس معیار پر تبسم اور مزاح کا رنگ ہمارے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں بھی ملتا ہے ۔ آپ صرف مسکراتے نہیں بلکہ دوسروں کو بھی ہنساتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک عمر رسیدہ خاتوں کسی دینی مسئلے کے سلسلے میں آپ کے پاس آتی ہیں۔ دوران گفتگو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں کوئی بوڑھیا داخل نہیں ہوگی۔ یہ سن کر وہ خاتون روتی ہیں ۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے خاتون کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ گھبرائیں نہیں ۔جنت میں داخل کرتے وقت تمام مرووزن کو شباب اور دوشیزگی کے رنگ میں رنگین کیا جائے گا۔ وہ خاتون یہ سن کر الحمد اللہ کہ کر مسکرا نے لگتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے عظیم پیغمبر کی خوش طبعی اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسکراتے ہوئے تشریف آوری کی روایتین کتابوں میں ملتی ہیں۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ انتہائی مشفقانہ رویہ رکھتے تھے۔ اور آج کے جابر اور ظالم حکمرانوں کی طرح تیوریوں پر بل چڑھائے نہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام کے ساتھ کھجور کھارہے تھے۔
صہیب نامی ایک صحابی کی آنکھ میں کچھ تکلیف تھی۔ اس دوران ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھتے آنکھ دکھ رہی ہےاور کھجور کھارہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صہیب کو اس معاملے پر متوجہ کرنے پر صہیب فرماتے ہیں کہ یا رسول اللہ بے فکر رہیے میں بھی اس آنکھ کی طرف کے دانتوں سے چبا رہا ہوں۔ جو تندرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کی اس بات پر مسکراتے ہیں۔
جس طرح انسانی شکل وصورت میں مماثلت نہیں ہوتی اسی طرح مزاج میں بھی ہم آہنگی نہیں ہوسکتی۔ بعض لوگ ہر وقت پھول کی طرح کھل کھلاتے نظرآتے ہیں اور بعض فطرتاً تندخو اور بدمزاج ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے تبسم نام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی اس کیفیت کو تبدیل کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ایک صاحب کشف بزرگ کی اہلیہ اس قسم کی فطرت کے حامل تھی۔ اپنے شوہر کے کرامات سے کبھی بھی متاثر ہوکر خوشی کا اظہار نہیں کرتی تھی۔ اس رنگ کو بدلتے ہوئے دیکھنے کی آرزو کرتے ہوئے بزرگ اپنے رب سے دعا گو ہوکر ہوا میں اڑنے کی کرامت سے سرفراز ہوکر جب گھر لوٹتے ہیں تو اپ کی اہلیہ طنزیہ انداز میں کہتی ہیں کہ بزرگ اس شخص کو کہتے ہیں جو آج ہوا میں پرواز کررہا تھا۔ اور ایک تم ہو جو لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہو ۔ بزرگ مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں۔ شکر ہے کہ آج میرا ایک کرشمہ تو مان لیا۔ ہوا میں اڑنے والا میں ہی تھا۔ بیوی حسب فطرت فوراً بول اٹھتی ہیں کہ میں سوچ رہی تھی کہ یہ شخص ٹیڑھا ٹیڑھا کیوں اڑ رہا ہے۔ اب پتہ چلا کہ یہ تم تھے۔
مختصر یہ کہ انسانی چہرے کی ہشاشت اور بشاشت میں چاشنی اور تندخوئی اور بدمزاجی میں تلخی ہوتی ہے۔ اس لئے بہتریں زندگی گزارنے کے لئے اللہ رب العزت کے عظیم پیغمبر کے اس ارشاد کو مشعل راہ بنانا ہوگا کہ ” مسلمان بھائی کی طرف دیکھ کرمسکرانہ بھی صدقہ ہے۔
