گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کی آدھی زندگی دوسروں کو ٹوپییاں، ہار پہنانے میں اور مبارکباد دینے میں گزر جاتی ہے – اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان اور چترال کے معاشرے کا ایک تلخ مگر نظرانداز کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ ہماری اجتماعی توانائی کا بڑا حصہ لوگوں کو ہار پہنانے، ٹوپیاں پہنانے اور مبارکبادیں دینے میں صرف ہو جاتا ہے۔ جیسے ہماری آدھی زندگی اسی رسم میں گزر جاتی ہو۔ کوئی عہدہ سنبھالے، کوئی پوسٹنگ لے، کوئی میٹنگ میں آئے یا کوئی تصویر کے فریم میں فٹ ہو جائے، ہم فوراً استقبال کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ عزت دینا غلط ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی مانگی؟
ایک سنجیدہ اور باشعور معاشرے میں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آپ کا کردار کیا ہے، آپ کی ذمہ داری کیا ہے، اور آپ اس ذمہ داری کو کیسے نبھائیں گے۔ مگر ہم پوچھتے ہی نہیں۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ آپ کا Vision کیا ہے، آپ کی Mission کیا ہے، آپ نے اہداف کیا طے کیے ہیں اور ان کو حاصل کرنے کی Timeline کیا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں پوچھتے کہ آپ اپنی JD کے مطابق کیا Deliver کریں گے، کس معیار پر کریں گے، اور کس کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔
یہ رویہ صرف جذباتی کمزوری نہیں، یہ ایک اسٹریٹجک ناکامی ہے۔ جب معاشرہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے تو نظام جواب دینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ہم تالیاں بجاتے رہتے ہیں اور کام رکتا رہتا ہے۔ ہم تصویریں بناتے رہتے ہیں اور فائلیں دبتی رہتی ہیں۔ ہم مبارکباد دیتے رہتے ہیں اور شفافیت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کمزور، فیصلے مبہم اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔
ایک دانشمند معاشرہ وہ ہوتا ہے جو شخصیات نہیں، کارکردگی کو منائے کرے۔ جو ہار سے پہلے روڑ میپ مانگے۔ جو ٹوپی پہنانے سے پہلے جوابدہی کا معیار طے کرے۔ جو مبارکباد سے پہلے یہ پوچھے کہ آپ ہمیں کیا دے کر جائیں گے، صرف تقریریں یا Measurable Results بھی؟ بدقسمتی سے ہم نے عزت کو سوال نہ کرنے کا لائسنس بنا لیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال جیسے باصلاحیت خطے وسائل، دماغ اور جذبے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ یہاں مسئلہ افراد کی کمی نہیں، مسئلہ سوال کی غیرموجودگی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ذمہ داری لینے والوں کو کندھوں پر بٹھا دیتے ہیں مگر ان کے کندھوں پر بوجھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سماجی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ ہار، ٹوپی اور مبارکباد اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Performance Indicators بھی ہوں۔ احترام اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Transparency بھی ہو۔ خوش آمدید اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Deliverables بھی طے ہوں۔ ورنہ ہم یہی کرتے رہیں گے، استقبال کرتے رہیں گے، اور ترقی کا انتظار کرتے کرتے ایک اور نسل قربان ہو جائے گی۔
سوال پوچھنا بدتمیزی نہیں، سوال پوچھنا بیداری ہے۔ اور جو معاشرہ سوال نہیں پوچھتا، وہ تاریخ میں صرف تصویر بن کر رہ جاتا ہے، فیصلہ ساز نہیں بنتا۔
