حافظ الپوری، اخوند سالاک اور اخوند کریمداد – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
ایک عالم تھا، دوسرا شہید ہوا
اور عجب طور پر یکتا و فرید ہو گیا
اے کانجو کے میاں کریم داد!
میں نے تمہارا دامن تھام رکھا ہے
اے ولی اخوند سالاک!
جو ظاہر اور باطن دونوں سے پاک ہو
تم نے ہمیشہ غزا کی ہے
اور میں نے تمہارا دامن تھام رکھا ہے
(پشتو اشعار کا اُردو ترجمہ)
تاریخ کے بعض کردار کتابوں کے صفحات سے زیادہ شاعری میں محفوظ رہتے ہیں۔ حافظ الپوری بھی ایسے ہی شاعر ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے علمی، مذہبی اور روحانی ماحول کو اپنی پشتو شاعری میں محفوظ کیا۔ الپور، شانگلہ سے تعلق رکھنے والے حافظ الپوری کو عموماً اٹھارہویں صدی کے اہم کلاسیکی پشتو صوفی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کے کلام میں علماء، صوفیاء اور بزرگانِ دین کا ذکر نمایاں ہے۔ اسی شعری روایت میں اخوند سالاک اور اخوند کریمداد کا تذکرۂ ایک مختصر مگر معنی خیز شعری سلسلے میں ملتا ہے۔
حافظ الپوری کا پشتو شعر دونوں شخصیات کو ایک ساتھ سامنے لاتا ہے۔ اس کا مفہوم ہے: ’’ایک عالم تھا، دُوسرا شہید ہوا اور عجیب طور پر یکتا و فرید ہوگیا۔‘‘ شعر کے مجموعی سیاق میں ’’عالم‘‘ کی نسبت اخوند سالاک اور ’’شہید‘‘ کی نسبت اخوند کریمداد کی طرف جاتی ہے۔ یوں شاعر نے ابتدا ء ہی میں دونوں شخصیات کا تعارف دو بنیادی نسبتوں سے کرا دیا: ایک علم کی علامت ہے اور دُوسرا شہادت کی۔ یہی مختصر مصرعہ پورے شعر کی معنوی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اسکے فوراً بعد پشتو شعر میں حافظ الپوری کریمداد کو نام لیکر مخاطب کرتے ہیں۔ اس حصے کا اُردو ترجمہ ہے: ’’اے کانجو کے میاں کریمداد! میں نے تمہارا دامن تھام رکھا ہے۔‘‘ یہاں کریمداد کی مقامی شناخت بھی محفوظ ہوجاتی ہے اور شاعر کی عقیدت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ ’’دامن تھامنے‘‘ کا استعارہ محض رسمی احترام نہیں بلکہ روحانی وابستگی، اعتماد اور نسبت کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پہلے شہادت اور پھر نام کے ذریعے کریمداد کی شناخت واضح ہوتی ہے، جس سے ابتدائی مصرعے میں ’’شہید‘‘ کی نسبت مزید نمایاں ہوجاتی ہے۔
اسکے بعد پشتو شعر کا خطاب اخوند سالاک کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اس حصے کا اردو مفہوم ہے: ’’اے ولی اخوند سالاک! تم ظاہر و باطن دونوں سے پاک ہو۔‘‘ یہاں ’’ولی‘‘ اور پاکیزگی کے الفاظ اخون سالاک کی روحانی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ پہلے مصرعے میں جس شخصیت کو ’’عالم‘‘ کہا گیا تھا، اگلے حصے میں اسی اخوند سالاک کو واضح طور پر ولی کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ یوں علم اور ولایت ایک ہی شخصیت کے دو نمایاں پہلو بن کر سامنے آتے ہیں۔
اخوند سالاک کے بارے میں حافظ الپوری کی پشتو شاعری کا یہ بیان یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اگلے مصرعوں کا اردو ترجمہ ہے: ’’تم نے ہمیشہ غزا کی ہے اور میں نے تمہارا دامن تھام رکھا ہے۔ٔٔ‘‘ غزا کا یہ حوالہ اخون سالاک کی شخصیت کے عملی پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ شاعر کے تصور میں وہ محض عالم یا روحانی بزرگ نہیں بلکہ عملی جدوجہد سے وابستہ شخصیت بھی ہیں۔ اس طرح علم، ولایت، پاکیزگی اور غزا کی نسبتیں ملکر اخوند سالاک کا ایک جامع شعری خاکہ تشکیل دیتی ہیں۔
حافظ الپوری کی اس شعری ترتیب کی خوب صورتی یہ ہے کہ دونوں شخصیات ایک ہی پشتو شعر میں آتی ہیں، مگر اُن کی شناخت الگ رہتی ہے۔ اخوند سالاک کیلئے علم، ولایت اور پاکیزگی نمایاں ہیں، جبکہ اخوند کریمداد کیلئے شہادت اور روحانی وابستگی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ دونوں کیلئے شاعر کا دامن تھامنے کا استعارہ مشترک ہے۔ یوں دو الگ شخصیات ایک ہی علمی و روحانی فضا میں ایک دُوسرے سے مربوط دکھائی دیتی ہیں۔
اخوند سالاک اور اخوند کریمداد کے پس منظر کو سمجھنے کیلئے اخوند درویزہ کی علمی و روحانی روایت بھی اہم ہے۔ تاریخی و ادبی روایات میں دونوں شخصیات کو اس وسیع مذہبی ماحول سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ تاہم حافظ الپوری کی شاعری کو مکمل تاریخی سوانح سمجھنا مناسب نہیں۔ شاعری کسی شخصیت کی پوری زندگی بیان نہیں کرتی بلکہ اپنے عہد کے تصور، احترام اور عقیدت کو چند مؤثر الفاظ میں محفوظ کرتی ہے۔ اسی اعتبار سے یہ شعر دونوں شخصیات کے بارے میں ایک اہم ادبی شہادت کی حیثیت رکھتا ہے۔
حافظ الپوری کا یہ شعری حوالہ ہمیں کلاسیکی پشتو ادب کی اس دُنیا سے روشناس کراتا ہے جہاں علم، ولایت، شہادت اور عملی جدوجہد ایک دُوسرے سے جدا تصورات نہیں تھے۔ ’’ایک عالم‘‘ اور ’’دوسرا شہید‘‘ کہہ کر شاعر نے دو شخصیات کو ایک ہی تاریخی و روحانی منظر میں کھڑا کیا، پھر ایک کو ولی اور پاکیزہ قرار دیکر اُسکے مقام کو نمایاں کیا، جبکہ دُوسرے کو شہادت کی نسبت سے یاد رکھا۔ چند مصرعوں میں دو الگ کرداروں کی یہ واضح شناخت شعر کو غیر معمولی معنویت عطا کرتی ہے۔
آج جب بہت سے تاریخی کردار اجتماعی یادداشت میں دھندلا رہے ہیں، حافظ الپوری کی پشتو شاعری کے یہ چند مصرعے خاص اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اخوند سالاک علم، ولایت، پاکیزگی اور غزا کی نسبت سے سامنے آتے ہیں، جبکہ اخوند کریمداد شہادت کی نسبت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ دونوں کیلئے دامن تھامنے کا استعارہ شاعر کی عقیدت کو ایک مشترکہ معنوی رشتے میں بدل دیتا ہے۔ یہی شاعری کی طاقت ہے کہ وہ تاریخ کے کرداروں کو صرف ماضی کا حصہ نہیں بننے دیتی بلکہ انہیں آنیوالی نسلوں کے حافظے میں زندہ رکھتی ہے۔