سستے آٹے کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کے لیےسرکاری گوداموں سے فلور ملز کوگندم کی فراہمی جاری ہے، ڈاکٹر محمد اسرار خان
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے عوام کو سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، فلور ملز کو گندم کی فراہمی کا مقصد صوبے میں آٹے کی وافر دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا ہے، عوام کو سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ نامزد ڈیلرز کے ذریعے عوام کو 20 کلوگرام آٹے کا تھیلا 2520 روپے میں فراہم کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت گندم اور آٹے کی فراہمی کے پورے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ سرکاری گوداموں سے صوبے کی فنکشنل فلور ملز کو اب تک 21 ہزار 319 میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا چکی ہے، جس میں سے 19 ہزار 319 میٹرک ٹن گندم گرائنڈ کی جا چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق، صوبے کے تمام اضلاع میں 1573 نامزد ڈیلرز کے ذریعے سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی جاری ہے، جبکہ اب تک 20 کلوگرام آٹے کے 6 لاکھ 76 ہزار 165 تھیلے عوام کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی مسلسل فراہمی کا مقصد عوام کو سستے آٹے کی بلاتعطل دستیابی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی کے عمل کی مؤثر نگرانی کی جائے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری نرخ پر فراہم کیے جانے والے آٹے کے معیار پر بھی نظر رکھیں اور آٹے کے غیر معیاری ہونے یا مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں محکمہ خوراک کو فوری اطلاع دی.
۔
۔
۔
چیف سیکرٹری کی زیرصدارت سیکرٹریز کمیٹی اجلاس
چیف سیکرٹری کی شفافیت اور شکایات کے ازالے پر توجہ دینے کی ہدایت
اجلاس میں صوبے میں پینے کے پانی کا معیار بہتر کرنے کے لئے تجایز طلب
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت منگل کے روز سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے صوبائی محکموں اور فیلڈ فارمیشنز سمیت ضلعی انتظامیہ کی سطح پر شفافیت اور عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔محکموں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوام کی شکایات کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ محکموں کا کام نہ صرف شفاف ہونا چاہیے بلکہ عوام کو بھی اس شفافیت کا احساس ملنا چاہیے۔پینے کے صاف پانی کے معیار کے حوالے سے چیف سیکرٹری نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کردار کے علاوہ بھی پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کرے۔
انہوں نے صاف پانی کے مسئلے کو صوبے کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ اس کے حل سے صوبے میں بیماریوں کے بوجھ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔چیف سیکرٹری نے مزید ہدایت کی کہ محکموں کے سربراہان روزمرہ امور کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس روڈ میپ، ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری اور امن و امان سے متعلق صوبائی ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ پر بھی توجہ دیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکموں کے سربراہان اور ضلعی انتظامیہ عوام کے لیے شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کریں، جس کے ساتھ فیڈبیک میکانزم بھی ہو تاکہ عوام کی رائے حاصل کی جا سکے، اور شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے محکموں اور ضلعی انتظامیہ تک براہِ راست رسائی حاصل ہو، نیز شہری سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی امور پر اپنی تجاویز بھی دے سکیں۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ27 محکموں کو گورننس روڈ میپ فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے جس کے تحت چار ہزار سے زائد سرگرمیاں تفویض کی گئی ہیں اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بہتر منصوبہ بندی، پیشگی تیاری اور مضبوط ہوم ورک کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ مالی وسائل کو بروقت اور مؤثر طریقے سے استعمال میں لایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکموں کے سربراہان کی منصوبہ بندی صوبے کی مجموعی حکمتِ عملی کے مطابق، ترقی میں مددگار، اور اسے اعداد و شمار کی بنیاد پر عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ، ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری اور شفافیت سے متعلق اقدامات پر محکموں کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم)، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) اور تمام انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔