بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھنے کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے، گورنر خیبرپختونخوا
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسائل سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان، چیف پیسکو اختر حمید خان، چیف ٹیسکو زبیر خان کنڈی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، لائن لاسز، بجلی کے بلوں کی ریکوری اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ لوڈشیڈنگ کے اسباب، درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ان کا بنیادی حق ہے۔ ٹرانسفارمر کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کا ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے متعلقہ فیڈر کے دیگر صارفین متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جن فیڈرز پر بجلی کے بلوں کی ریکوری کم ہے، وہاں ریکوری بہتر بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسمارٹ ٹرانسفارمرز کی تنصیب سے بجلی چوری کی روک تھام میں نمایاں مدد ملے گی۔ گورنر نے کہا کہ بجلی چوری کے تدارک کیلئے متعلقہ محکموں پر مشتمل کمیٹیوں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ بجلی چوری اور میٹرز میں ردوبدل کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کو مزید سخت بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور لائن لاسز میں کمی کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ عوام کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، صوبے میں بجلی سے متعلق عوامی مشکلات کا حل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
۔
۔
دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے رنگ روڈ پشاور پر زیرِ تعمیر جمیل چوک انڈر پاس کا دورہ کیا اور منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مشیر بلدیات آصف رفیق، مشیر تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے گورنر کو منصوبے پر جاری تعمیراتی کام اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انڈر پاس کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ شہریوں کو درپیش ٹریفک کے مسائل اور مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جمیل چوک انڈر پاس کا تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیا جائے، منصوبے کی تکمیل سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی۔ یونیورسٹی روڈ سمیت پشاور کے دیگر مصروف مقامات پر ٹریفک کے مسائل اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے انڈر پاسز سمیت دیگر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے، متعلقہ محکموں سے منظوری کے بعد ان منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات کا احساس ہے، اسی لیے تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لینے خود موقع پر آیا ہوں۔ ناردرن بائی پاس منصوبہ بھی مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔
گورنر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ازخود تجاوزات ختم کریں کیونکہ سرکاری اراضی پر کسی کو قبضہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا ریلیف پیکج فراہم کرنے پر شکر گزار ہیں۔ وفاقی حکومت کے سامنے صوبے کے پانی کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا گیا، جسے وفاقی حکومت نے تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ملک میں مؤثر نظامِ احتساب اور سزا و جزا کے بغیر نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔#