The Voice of Chitral since 2004
Monday, 2 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

طبی سہولیات بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں، دور افتادہ علاقوں کو بھی معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، گورنر فیصل کریم کنڈی

Chitral Times

طبی سہولیات بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں، دور افتادہ علاقوں کو بھی معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، گورنر فیصل کریم کنڈی

طبی سہولیات بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں، دور افتادہ علاقوں کو بھی معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، گورنر فیصل کریم کنڈی

طبی سہولیات بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں، دور افتادہ علاقوں کو بھی معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، گورنر فیصل کریم کنڈی

 وفاق سے صوبے کو کچھ نہیں مل رہا، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، میڈیا سے گفتگو

.

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ طبی کانفرنسز علم و تحقیق کے فروغ، تجربات کے تبادلے اور جدید طریقہ علاج سے آگاہی کا اہم ذریعہ ہیں۔ طبی اداروں اور ماہرین کو عالمی معیار سے ہم آہنگ ہونا ہوگا تاکہ پاکستان کے مریض بھی جدید طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع، جنوبی اضلاع اور صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں معیاری اور خصوصی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، علاج کی بہتر سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں بلکہ ہر شہری کو یکساں طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید طبی آلات کی فراہمی، ڈاکٹروں کی تربیت اور طبی تحقیق کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز جیسی پیشہ ورانہ تنظیمیں ڈاکٹروں کی استعدادِ کار بڑھانے، نوجوان طبی ماہرین کی تربیت اور سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے طبی شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز مشکل حالات میں بھی انسانی جانیں بچانے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشہ ورانہ وقار کا تحفظ اور انہیں ضروری وسائل و سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں سرکاری و نجی اداروں کے درمیان تعاون اور بین الاقوامی طبی و تعلیمی روابط کو فروغ دے کر عالمی تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

گورنر نے کہا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والی علمی و تحقیقی گفتگو اور تجربات کا تبادلہ صحت کے شعبے میں عملی بہتری کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت اور آرگنائزنگ کمیٹی کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو کچھ نہیں مل رہا، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ پنجاب اور سندھ کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤس آفیسرز کو 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، جو بہت کم ہے، اس معاملے پر نظرثانی کی جائے گی۔

گورنر نے کہا کہ سابقہ حکومت کے اچھے اقدامات کو برقرار رکھا جائے گا اور صحت کے شعبے میں موجود کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہے، اسے سہارا دینا ہوگا، کیونکہ نوجوانوں کی مدد اور رہنمائی کے بغیر ترقی کی جانب پیش رفت ممکن نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے صوبے میں کوئی نیا ہسپتال تعمیر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کہا کہ سرمایہ کاروں کو مستحکم اور سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے آنے والوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور خیبرپختونخوا ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک بدلتے، نکھرتے اور مضبوط خیبرپختونخوا کی جانب بڑھنا ہے، جس کے لیے تمام شعبوں میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔