گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا گندم کی ترسیل پر پابندی اور گیس کی بندش کے معاملے پرمشترکہ پریس کانفرنس، وفاق اور پنجاب حکومتوں کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی میں گندم کی ترسیل پر پابندی اور سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی بندش کے معاملے پر ہونے والے اجلاس کے بعد گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق اور پنجاب حکومتوں کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتا، تاہم بدقسمتی سے پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور گندم کی ترسیل پر پابندی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت متعدد بار پنجاب حکومت کو خطوط لکھ چکی ہے اور وفاقی حکومت کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب حکومت کو اس اقدام سے نہیں روکا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بجلی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل فراہم کرنے کے باوجود مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جو سراسر زیادتی اور امتیازی سلوک ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ مسلسل سوتیلی ماں جیسا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی بندش کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی اپنی ضرورت تقریباً 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کی ضرورت کے مطابق گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 اور 151 دونوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور گیس کی بندش غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کسی صورت سپورٹ نہیں کرے گی۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کا ساتھ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ زیادتیاں بند نہ ہوئیں تو تمام سیاسی قوتیں اور عوام ایک آواز ہو کر سڑکوں پر نکلیں گے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبے میں خیبرپختونخوا حکومت اپنا حصہ ادا کر رہی ہے جبکہ وفاق اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی منصوبوں میں بھی برج فنانسنگ کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود وفاق تعاون نہیں کر رہا۔پشاور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ بس ٹرمینل تعمیر کیا گیا ہے مگر وفاقی حکومت تاحال اس کے لیے راستہ فراہم نہیں کر رہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے 37 ارب روپے میں سے 12 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے جس سے ضم اضلاع کے مالی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کا مالی مقدمہ موثر انداز میں لڑنے کے لیے حکومت نے اپوزیشن اراکین کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی ہے۔امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کی خرابی وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قابل عمل تجاویز دی تھیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت کی تجویز کردہ حکمت عملی پر عمل کیا جائے تو 100 دنوں کے اندر امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک مشترکہ اور مستقل پالیسی ناگزیر ہے کیونکہ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔قبل ازیں ، صوبائی اسمبلی میں منعقدہ اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کو آٹے اور گندم کی ترسیل پر عائد غیر آئینی پابندی اور وفاقی حکومت کی جانب سے قدرتی گیس کی محدود فراہمی اور صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے صوبے کو آٹے و گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی کو سالانہ تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن گندم درکار ہوتی ہے جبکہ صوبے کی اپنی پیداوار صرف 17 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث صوبہ اپنی بیشتر ضروریات پنجاب اور سندھ سے پوری کرتا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 4 لاکھ 14 ہزار میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ اس وقت ایک لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی کے باعث سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ مختلف فورمز پر اس مسئلے کو متعدد بار اٹھایا گیا تاہم تاحال اس کا کوئی مو¿ثر حل سامنے نہیں آ سکا۔قدرتی گیس کی فراہمی سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کا استعمال صرف 130 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں سی این جی سیکٹر کو فعال رکھنے کے لیے صرف 40 سے 45 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درکار ہے، تاہم اس کے باوجود سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی جس سے عوام اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے آئینی حقوق کے تحفظ اور عوامی مفادات کے دفاع کے لیے تمام آئینی، قانونی اور سیاسی فورمز پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، مختلف پارلیمانی لیڈرز، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری، ایس این جی پی ایل اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن اور سی این جی ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
<><><><><><>
۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا وزیر اعظم پاکستان کو خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی معطلی کے مسئلے پر خط ارسال کردیا
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیر اعظم پاکستان کو خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی معطلی کے مسئلے پر ایک خط ارسال کرتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی کی بندش نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خط میں نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا ایک اہم اور سرپلس صوبہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ صوبے کی اوسط کھپت تقریباً 120 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ اس کے باوجود صوبے کے سی این جی سیکٹر کو درکار 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی معطل کر کے یہ گیس کھاد کے شعبے کو منتقل کی جا رہی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ سیکٹر بڑی حد تک سی این جی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے گیس فراہمی کی بندش عوام کو مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال پر مجبور کر رہی ہے جس سے عوامی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ سی این جی سیکٹر کی مسلسل بندش سے وسیع پیمانے پر بے چینی جنم لے سکتی ہے اور صوبے میں امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی حدود میں پیدا ہونے والی گیس کے استعمال پر پہلا حق حاصل ہے، لہٰذا خیبرپختونخوا کو اس آئینی حق سے محروم رکھنا کسی طور مناسب نہیں۔
انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پشاور ہائیکورٹ اپنے فیصلے میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کو غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے اور عدالت نے سی این جی سیکٹر کو عبوری ریلیف بھی فراہم کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں مزید کہا کہ سی این جی سیکٹر کی بندش سے ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قانونی کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن کو خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر کے لیے گیس فراہمی بحال کرنے کی ہدایت جاری کریں۔ وزیراعلیٰ نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری طلب کرنے اور اس اہم معاملے کو اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ آئینی اور انتظامی سطح پر مسئلے کا مستقل اور منصفانہ حل نکالا جا سکے۔
