گلگت بلتستان: براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے 3 غیر ملکی کوہ پیما جاں بحق، متعدد لاپتا، ریسکیو آپریشن خراب موسم کے باعث معطل
۔
سکردو (نمائندہ چترال ٹائمز ) دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8,047 میٹر) پر کیمپ II سے کیمپ III کی جانب پیش قدمی کے دوران تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر برفانی تودہ گرنے سے 10 رکنی بین الاقوامی کوہ پیما ٹیم حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے میں عمان، امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے تین کوہ پیماؤں کی میتیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ دیگر لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش جاری ہے۔
کمشنر بلتستان کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بین الاقوامی کوہ پیما مہم 29 جون 2026 کو ضلع شگر پہنچی تھی۔ اس مہم کا انتظام قراقرم ایکسپیڈیشنز، امیجن کلائمب پاکستان اور بلیو اسکائی ٹریک اینڈ ٹورز نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ٹیم میں امریکہ، عمان، نیپال، چین، برطانیہ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے دس کوہ پیما شامل تھے۔
30 جولائی کو صبح 9 بجے ٹور آپریٹر کا ٹیم سے آخری رابطہ ہوا، جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ اسی روز رات تقریباً 8 بجے اطلاع ملی کہ کیمپ II سے کیمپ III کے درمیان برفانی تودہ گرنے سے پوری ٹیم حادثے کا شکار ہوگئی۔
ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر 31 جولائی کی صبح پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں کے ذریعے معروف پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کی قیادت میں تین رکنی سویلین ریسکیو ٹیم، جس میں وقار اور شہزاد بھی شامل تھے، براڈ پیک بیس کیمپ پہنچائی گئی۔ ریسکیو ٹیم نے پیدل کیمپ II کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے عمان کی نضیرہ احمد عبداللہ الحارثی، امریکہ کی سارہ میلوری اور نیپال کے پور بہادر گرونگ کی میتیں برآمد کر لیں۔
برآمد ہونے والی میتوں کو پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی شناخت اور دیگر قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ڈرون فوٹیج میں مزید چند کوہ پیماؤں کی لاشیں بھی دیکھی گئی ہیں، تاہم شدید برف باری، خراب موسم اور دشوار گزار راستوں کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
کمشنر بلتستان کے دفتر کے مطابق موسم بہتر ہونے پر یکم اگست کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا، جس میں دیگر بین الاقوامی مہمات سے وابستہ تجربہ کار شیرپا بھی حصہ لیں گے۔
حکومت گلگت بلتستان نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق کوہ پیماؤں کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے اور یقین دلایا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش، ریسکیو کارروائیوں اور میتوں کو ان کے آبائی ممالک منتقل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔