ٹی ٹی آر ایف کا کاغلشٹ میں بونی بزند روڈ کے 1.9 کلومیٹر حصے کے لیے 7 کروڑ روپے کی منظوری کا خیرمقدم،
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تورکھو تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) نے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی کوششوں سے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بونی بزند روڈ کے کاغلشٹ میں 1.9 کلومیٹر حصے کو پختہ کرنے کے لیے سات کروڑ روپے کی منظوری پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
جمعے کو جاری ایک بیان میں ٹی ٹی آر ایف نے کہا کہ اس حصے کے لیے فنڈز کی منظوری میں ڈپٹی اسپیکر کی کامیاب کاوشیں قابلِ تعریف ہیں، جن پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ٹی ٹی آر ایف کے مطابق روڈ کا یہ حصہ عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا اور تقریباً ڈیڑھ سال قبل اسی حصے میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں تین قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔
فورم نے کہا کہ ہم رقم کی منظوری اور اس میں ڈپٹی اسپیکر کے کردار پر ان کے شکر گزار ہیں، تاہم ہم محترمہ ثریا بی بی سے گزارش کرتے ہیں کہ سات کروڑ روپے کی اس خطیر رقم کو فوری ٹینڈر کروا کر کام کا آغاز یقینی بنایا جائے، تاکہ دو تحصیلوں کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبادی کو درپیش مشکلات میں کچھ کمی آسکے۔ کیونکہ اس حصے کی تعمیر سے متعلق اعلانات رواں سال کے آغاز میں خود ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے کیے گئے تھے کہ کام فوراً شروع کیا جائے گا۔
اگر یہ منصوبہ مزید عرصے تک کاغذوں میں ہی محدود رہا تو عوام کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت کے بدعنوان محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور اس کے کرپٹ ایکسین کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ اس منصوبے پر ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے جلد از جلد تعمیراتی کام شروع کروائیں۔
ٹی ٹی آر ایف نے ڈپٹی اسپیکر سے درخواست کی کہ چونکہ سی اینڈ ڈبلیو کا موجودہ ایکسین انہی کی پسند پر تعینات ہوا ہے، اس لیے وہ ان سے یہ یقینی بنوائیں کہ اس حصے پر کام فوری طور پر شروع کیا جائے اور منصوبے کو معیاری انداز میں مکمل کیا جائے۔ تورکھو تریچ یوسی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ کم از کم برف باری سے قبل کمپیکشن کا کام مکمل کیا جائے، تاکہ اگر رواں سال اسفالٹ نہ ہو سکے تو اگلے موسمِ گرما میں اسفالٹ کے لیے کمپیکشن کا معیار بہتر رہے۔
پریس ریلیز میں ٹی ٹی آر ایف نے بونی بزند روڈ کے منصوبے سے متعلق بھی کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی صوبائی حکومت نے ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد برج فنانسنگ کے تحت 50 کروڑ روپے جاری کیے تھے، جو ایک مثبت قدم تھا، جس کا خیرمقدم فورم اور عوام دونوں نے کیا تھا۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان 50 کروڑ روپے سے علاقے کے عوام کو فائدہ پہنچنے کے بجائے صرف ٹھیکیدار کو فائدہ حاصل ہوا، کیونکہ اس رقم میں سے تقریباً 28 کروڑ روپے ’’کاسٹ ایسکلیشن‘‘ کے نام پر ٹھیکیدار کو دے دیے گئے۔
ٹی ٹی آر ایف کے مطابق بارہا مطالبات اور احتجاج کے باوجود ٹھیکیدار نے نہ تو مشینری میں اضافہ کیا اور نہ ہی اسفالٹ مشینیں بروقت سائیٹ پر پہنچا کر کام کا آغاز کیا۔ حالانکہ عدالت کے احکامات موجود ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ اسفالٹ کا کام مخصوص درجہ حرارت میں ہی ممکن ہوتا ہے، جو سرد موسم میں برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اب جب موسم شدید سرد ہو رہا ہے تو ڈپٹی اسپیکر کے منتخب کردہ ایکسین نیم دلی سے اسفالٹ مشینیں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور خدشہ ہے کہ چند دنوں میں سائیٹ پر مشینری سائیٹ پر دکھا کر بعد میں سردی کا بہانہ بنا کر کام روک دیا جائے گا۔ اس طرح منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوگا اور ٹھیکیدار دوبارہ ’’کاسٹ ایسکلیشن‘‘ کے نام پر رقم بٹورے گا۔
ٹی ٹی آر ایف نے ڈپٹی اسپیکر صاحبہ سے مطالبہ کیا کہ بونی بزند روڈ کے معاملے میں اپنے پسندیدہ ایکسین سی اینڈ ڈبلیو، کرپٹ صوبائی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، اور متعلقہ ٹھیکیدار کی سرزنش کریں اور کام کی رفتار و معیار کو یقینی بنائیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف ٹی ٹی آر ایف بلکہ پورا علاقہ ان کے کردار کی تعریف کرے گا اور ان کا شکر گزار ہوگا۔
پریس ریلیز میں فورم نے واضح کیا کہ ہمارا نہ تو ڈپٹی اسپیکر اور نہ ہی صوبائی حکومت سے کوئی دشمنی ہے۔ ہمارا اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لیکن 28 کلومیٹر طویل بونی بزند روڈ گزشتہ 16 سال سے مکمل نہیں ہو سکا۔ 28 کروڑ روپے کے منصوبے پر اب تک ایک ارب 54 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، لیکن ایک کلومیٹر سڑک بھی پی سی-ون کے مطابق نہیں بنی۔ کیا یہ صوبائی حکومت کے ’’گڈ گورننس‘‘ اور شفافیت کے دعووں پر سوالیہ نشان نہیں؟
ٹی ٹی آر ایف
