The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 20 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کیا تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا جائیگا، سابق صوبائی وزیر سلیم خان 

Chitral Times

چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کیا تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا جائیگا، سابق صوبائی وزیر سلیم خان 

چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کیا تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا جائیگا، سابق صوبائی وزیر سلیم خان 

چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کیا تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا جائیگا، سابق صوبائی وزیر سلیم خان

۔

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر سلیم خان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال-گرم چشمہ-دوراہ پاس روڈ منصوبے کو رواں سال کے ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو نکالنے سے چترال کے عوام کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔چترال پریس کلب میں سہروردی خان یفتالی،نظار ولی شاہ، نادر شاہ، محمد افضل، میر دولہ جان، قاری نظام، بشیر احمد خان اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سڑک پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ چترال کو تاجکستان سے ملائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بطور ایم پی اے انہوں نے 2017 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے درخواست کرکے اسے ترقیاتی پروگرام میں شامل کروایا تھا، لیکن پی ٹی آئی حکومت کے دوران اسے نکال دیا گیا۔سلیم خان نے کہا کہ چترال شہر سے اس سڑک کی کل لمبائی 82 کلومیٹر ہے اور حکومت کے لیے اسے شامل کرنا یا اس کے لیے کچھ رقم رکھنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ یہ دفاعی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ چترال حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، اسی لیے اسے چھوڑ دیا گیا، جبکہ گزشتہ سال دورے کے دوران وزیر اعظم کو چترال کے مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وزیر اعظم کی یقین دہانی کے باوجود شندور روڈ منصوبے کے لیے صرف 1 ارب روپے اور کیلاش وادیوں کی سڑک کے لیے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں جو کہ ایک مذاق ہے۔

سابق صوبائی وزیر نے چترال کے صوبائی محکموں میں جاری کرپشن کے خلاف بھی آواز اٹھائی اور الزام لگایا کہ یہ کرپشن 53 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپر اور لوئر چترال میں زیادہ تر ترقیاتی منصوبے صرف کاغذات میں ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں، لیکن ان کی تکمیل کے نام پر خطیر رقم دکھائی گئی ہے۔ سلیم خان نے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے چند ہفتوں میں اس سڑک کے منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کیا تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے لیے متحرک کیا جائے گا۔

chitraltimes ppp chitral lower press confrence against budget allocation 4

chitraltimes ppp chitral lower press confrence against budget allocation 2

chitraltimes ppp chitral lower press confrence against budget allocation 1