قومِ لوط سے ’پرائڈ منتھ‘ تک: فطرت سے بغاوت کا حیاتیاتی اور ارتقائی انجام! – فلاسفر بلال شوکت آزاد
انسانی تاریخ میں کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو صرف “فرد” کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو پوری “نوعِ انسانی” (Human Species) کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
قومِ لوط کا عمل، جسے آج کل لبرلز LGBTQIA+ کی لبرل اصطلاحات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی “ذاتی پسند” یا “محبت” کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ “حیاتیاتی خودکشی” (Biological Suicide) کی وہ پہلی کوشش تھی جس نے انسانی ارتقاء اور بقا کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا تھا۔
آج مغرب جس چیز کو “ترقی” اور “آزادی” کہہ کر بیچ رہا ہے، بائیولوجی اسے “Evolutionary Dead-end” (ارتقائی بند گلی) کہتی ہے۔
اگر ہم جذبات اور نعروں سے ہٹ کر، خالص سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریکیں انسانیت کو آزادی دینے نہیں، بلکہ اسے “معدوم” (Extinct) کرنے آئی ہیں۔ سب سے پہلے اس “ہم جنس پرستی” (Homosexuality) کے سائنسی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ فطرت (Nature) کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ “بقا اور افزائشِ نسل” (Survival and Reproduction)۔
کائنات کا ہر جاندار، چاہے وہ ایک خلیے کا بیکٹیریا ہو یا اشرف المخلوقات انسان، اس اصول پر قائم ہے کہ اسے اپنی جینز اگلی نسل میں منتقل کرنی ہیں۔
مرد اور عورت کی تخلیق، ان کے اعضاء کا تناسب، ان کے ہارمونز کی کیمسٹری، سب کچھ “Procreation” (تولید) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جب قومِ لوط نے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا، تو انہوں نے دراصل فطرت کے اس ڈیزائن کے خلاف بغاوت کی۔
سائنس کی رو سے یہ عمل “Anatomical Mismatch” ہے۔ مرد کا فضلہ خارج کرنے والا مقام (Rectum) جنسی عمل کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔
وہاں کی جلد (Mucosa) انتہائی نازک ہوتی ہے اور وہاں خون کی شریانیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ جب اسے غیر فطری طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ “Pathogens” (جراثیم) کے لیے ہائی وے بن جاتا ہے۔
ایڈز (HIV)، ہیپاٹائٹس، اور دیگر مہلک بیماریاں، جو ہم جنس پرست کمیونٹی میں وبا کی طرح پھیلیں، یہ کوئی “مسلمانوں کی بددعائیں” نہیں تھیں، یہ “فطرت کا انتقام” تھا۔
جب آپ گاڑی کے پیٹرول ٹینک میں پانی ڈالیں گے، تو انجن تباہ ہوگا؛ بالکل اسی طرح جب آپ جسم کے اعضاء کو ان کے غیر فطری مقصد کے لیے استعمال کریں گے، تو حیاتیاتی تباہی یقینی ہے۔
پھر ایک بہت بڑا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ
“یہ لوگ ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں” (Born this way)۔
سائنسدانوں نے دہائیوں تک “Gay Gene” تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن آج تک ناکام رہے۔
2019 میں Science Magazine میں شائع ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق (جس میں 5 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا لیا گیا) نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ
“There is no single gay gene.”
یہ رویہ جینیاتی مجبوری نہیں، بلکہ یہ “ماحولیاتی، نفسیاتی اور ایپی جینیٹک عوامل” کا نتیجہ ہے۔
بچپن کے صدمات، ہارمونل عدم توازن، اور غلط صحبت انسان کے نیورل سرکٹس کو بگاڑ دیتی ہے۔
جسے یہ “پہچان” (Identity) کہتے ہیں، سائنس اسے “Behavioral Disorder” یا “Gender Dysphoria” (اپنی جنس سے نفسیاتی عدم اطمینان) کہتی ہے۔
اور ڈس آرڈر کا علاج کیا جاتا ہے، اس کا جشن (Pride) نہیں منایا جاتا۔
اب آتے ہیں “My Body My Choice” اور جدید فیمنزم کے نعرے کی طرف۔
بظاہر یہ نعرہ بہت پرکشش لگتا ہے، لیکن اس کی تہہ میں “خاندان” (Family System) کے خلاف ایک گہری سازش چھپی ہے۔
بائیولوجیکلی، عورت کا جسم صرف اس کا نہیں ہے؛ یہ انسانی نسل کی “امانت” ہے۔ عورت کے اندر “رحم” (Womb) کا ہونا، اس کے ہارمونز (Oxytocin/Estrogen) کا سیٹ اپ، یہ سب اسے “ماں” اور “نگہبان” بنانے کے لیے ہے۔
جب فیمنزم عورت کو یہ سکھاتا ہے کہ “ماں بننا ایک بوجھ ہے” اور “کیریئر بنانا اصل کامیابی ہے”، تو یہ دراصل عورت کو اس کی “فطری جبلت” (Biological Instinct) سے لڑا رہا ہوتا ہے۔
نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟
مغرب کی عورتیں 40 سال کی عمر میں “کامیاب” تو ہیں، مگر “اکیلی” اور “ڈپریشن” کی مریض ہیں۔
انہوں نے اپنی فطرت کو دبا کر جو “آزادی” حاصل کی، اس نے انہیں Anti-depressants کا محتاج کر دیا۔
یہ نعرہ کہ “میرا جسم میری مرضی”، دراصل اللہ کی ملکیت کو چیلنج کرنا ہے۔
یہ جسم آپ نے نہیں بنایا، یہ آپ کو ایک مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ جب آپ اس میں “اسقاطِ حمل” (Abortion) کے ذریعے ایک زندہ جان کو مارتے ہیں، تو آپ صرف ایک گناہ نہیں کرتے، آپ اپنے اندر موجود “Mammary Instinct” (مامتا) کا قتل کرتے ہیں، جس کے گہرے نفسیاتی اثرات (Post-Abortion Syndrome) عورت کو تا حیات ذہنی مریض بنا دیتے ہیں۔
لبرل ازم (Liberalism) اس سارے فساد کی جڑ ہے۔ لبرل ازم دراصل “نفس پرستی” کا جدید نام ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ “تمہاری خواہش ہی تمہارا خدا ہے۔” قومِ لوط اور آج کے لبرلز میں ایک چیز مشترک ہے:
“فوری لذت” (Instant Gratification) اور “ذمہ داری سے فرار”۔
ہم جنس پرستی ہو یا زنا، ان دونوں میں “لذت” تو ہے مگر “ذمہ داری” (بچہ پالنا، خاندان بنانا) نہیں ہے۔
فطرت ان لوگوں کو پسند نہیں کرتی جو صرف “لیتے” ہیں اور “دیتے” (نسل بڑھاتے) نہیں ہیں۔
ارتقاء (Evolution) کا اصول ہے کہ
“جو نسل بڑھائے گا، وہی باقی رہے گا۔”
آج آپ دیکھیں کہ جن معاشروں نے LGBTQ اور فیمنزم کو گلے لگایا (جیسے جاپان، یورپ)، وہاں آبادی کا بحران (Population Collapse) آ چکا ہے۔
وہ قومیں بوڑھی ہو کر مر رہی ہیں، ان کے پاس بچے نہیں ہیں۔ یہ ان کے نظریات کی “ارتقائی شکست” ہے۔
دوسری طرف وہ معاشرے (مسلم معاشرے) جو آج بھی “فطرت” (نکاح، خاندان) پر قائم ہیں، وہ پھل پھول رہے ہیں۔
قومِ لوط پر پتھروں کی بارش کیوں ہوئی؟
کیونکہ انہوں نے زمین کے “بیج” کو ضائع کیا۔انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو “عدم” (Extinction) کی طرف جاتا تھا۔
آج کا LGBTQIR+ تحریک بھی اسی انجام کی طرف گامزن ہے۔ جب ایک مرد اپنی جنس تبدیل کروا کر عورت بننے کی کوشش کرتا ہے (Transgenderism)، تو وہ ہارمونز اور سرجری کے ذریعے اپنے جسم کے ساتھ جو کھلواڑ کرتا ہے، وہ ایک “Biological Mutilation” ہے۔
لاکھوں سال کے ارتقاء نے جو XX اور XY کروموسومز بنائے، آپ انہیں “احساسات” کی بنیاد پر تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ قدرت سے لڑ رہے ہیں، اور قدرت سے لڑنے والا ہمیشہ ہارتا ہے۔
خودکشی کی سب سے زیادہ شرح اسی کمیونٹی میں ہے، اور یہ اسے “معاشرتی رویے” کا نام دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے اندر کا “حیاتیاتی خلا” (Biological Void) اور “روحانی بے چینی” ہے جو انہیں جینے نہیں دیتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں چاہے وہ فیمنزم ہو، لبرل ازم ہو یا پرائڈ موومنٹ یہ سب “انفرادیت” (Individualism) کے زہر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ یہ “میں” (Self) کو “ہم” (Family/Community) پر ترجیح دیتی ہیں۔
یہ انسان کو اس کے خالق اور اس کی فطرت سے کاٹ کر اسے “تنہا” کر دیتی ہیں۔ اسلام کا نظام “فطرت” ہے۔
یہ مرد کو مرد اور عورت کو عورت رہنے دیتا ہے۔ یہ خاندان کو اکائی مانتا ہے، فرد کو نہیں۔ قومِ لوط کا انجام ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان اپنی “حیاتیاتی حدود” (Biological Boundaries) توڑتا ہے، تو پھر پتھر آسمان سے نہیں آتے، بلکہ انسان کے اپنے جینز، اپنے ہارمونز اور اپنے خلیات اس کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔
آج کا یہ “جینیاتی اور معاشرتی کینسر” اسی قدیم گناہ کا نیا روپ ہے، اور اس کا انجام بھی وہی ہے: تباہی، معدومیت اور عبرت۔

