فری اسٹائل پولو: عروج و زوال کی ایک داستان تحریر: شمس الھدیٰ یفتالی
جہاں تک فری اسٹائل پولو کا تعلق ہے، میں باقاعدگی سے 1991 سے یہ کھیل دیکھتا آ رہا ہوں۔ نائنٹیز میں شندور فیسٹیول پر گلگت کا راج رہا، اور یہ سلسلہ تقریباً 2005 تک مسلسل جاری رہا۔ شاذ و نادر ہی ایک آدھ مرتبہ چترال جیت پایا۔ ان دنوں بلبل جان، وزیر ارسطو، راجی احمد، غلام عباس، گلاب استاد، حسن علی، درویش، اشرف گل، کلام شیر اور کئی دوسرے ایسے نام تھے جن کا چترال پر اس قدر رعب تھا کہ ہم ہر سال شندور سے انتہائی مایوسی کے ساتھ لوٹتے۔ اس زمانے میں میرے محترم انکل امیر اللہ خان یفتالی کی قیادت میں صرف لاسپور کی ٹیم امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھی، ورنہ مجموعی طور پر چترال بری طرح ہارتا تھا—حالانکہ چترال کے پاس بھی شہزادہ سکندر، مقبول علی، حکیم سرور، رضا خان اور سردار آف کوشٹ جیسے اور بھی بڑے نام موجود تھے۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ بلبل جان اور ان کے ساتھی ریٹائر ہوئے، اور دوسری طرف چترال سے نوجوان کھلاڑیوں کی ایک شاندار نسل ابھری۔ اسرار ولی، شہزادہ احمد شاہ جی، اظہار علی خان، نصیر اللہ اور امیر حمزہ جب سے چترال کی نمائندگی کے لیے شندور پہنچے، اس کے بعد چترال کی ٹیم کھیل پر حاوی ہوتی چلی گئی۔
اسرار ولی سے بڑا گول کیپر آج تک نہ چترال میں پیدا ہوا اور نہ ہی گلگت بلتستان میں۔ شہزادہ احمد شاہ جی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اظہار علی کی پھرتی، بہادری اور خاندانی وراثت، سب اپنی مثال آپ ہیں۔ نصیر اللہ آج کل دونوں اطراف کے لیے مسئلۂ کشمیر بنے ہوئے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان خود نصیر اللہ کو ہوتا ہے۔ وہ کشمیر کی طرح خوبصورت اور تکنیکی لحاظ سے نہایت ماہر کھلاڑی ہیں۔
ان کھلاڑیوں کی شاندار کمبینیشن نے تقریباً ایک دہائی تک چترال کو فتوحات سے ہمکنار رکھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ دور چترال پولو کا گولڈن پیریڈ تھا۔ ان کھلاڑیوں نے کئی بار سنگل ہینڈڈ بھی چترال کو جتوایا۔ غالباً 2007 کے بعد سے یہ امتزاج مسلسل چترال کے حق میں نتائج دیتا رہا۔
اب ایک بار پھر وقت کروٹ بدل رہا ہے۔ چترال کے یہ بڑے نام عمر کے ایک حصے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں صدام راجہ، ذوالفقار حمید، نذیر، نصر حسین، عبداللہ، شاہ اعظم اور کور کمانڈر اسلم جیسے بڑے نام سامنے آ چکے ہیں، جو آئندہ ایک دہائی تک پولو پر راج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میری رائے میں آئندہ ایک دو سال شندور میں چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان سخت مقابلے کے بعد یا گلگت یا پھر چترال جیتے گا، اس کے بعد حالات گلگت بلتستان کے حق میں پلٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیونکہ چترال میں اسرار ولی، شہزادہ احمد شاہ، اظہار علی، امیر حمزہ اور نصیر اللہ جیسے کھلاڑیوں کا فی الحال کوئی متبادل موجود نہیں، اور ان میں سے ایک دو کی کمی بھی چترال کی جیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اپر جتنی بھی گلگت اور چترال کے کھلاڑیوں کا تذکرہ ہوا یہ سب جی بی سی کے فری اسٹائل پولو کی تاریخ کے وہ عظیم کھلاڑی ہیں جنکا کوئی ثانی نہیں۔ بال کوئی بھی مار سکتا ہے، گول کوئی بھی روک بھی سکتا ہے اور کر بھی سکتا ہے، مگر جو خوبی ان کھلاڑیوں کو امتیاز بخشتی ہے وہ ان کا اخلاق ہے۔ انہوں نے دوران کھیل کبھی بد اخلاقی یا بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا، اور یہی اچھے کھلاڑی کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔
عروج و زوال انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ یہی اتار چڑھاؤ ہمیں سکھاتے ہیں، سنوارتے ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ عروج ہمیں شکر اور ذمہ داری کا سبق دیتا ہے، جبکہ زوال صبر، خود احتسابی اور نئی راہوں کی تلاش سکھاتا ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان نہ عروج میں غرور کرے اور نہ زوال میں ہمت ہارے، بلکہ ہر حال میں سیکھتا اور آگے بڑھتا رہے۔
یہ جنٹلمین گیم یونہی آباد رہے اور دونوں جانب کے شائقین کو اسی طرح محظوظ کرتا رہے ۔آمین۔


