ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا – اظہار رائے کی آزادی- تحریر: عبدالباقی چترالی
آج کے جدید دور میں سوشل میڈیا نے رابطوں کو عام اور تعلقات کو وسیع کرکے ہر فرد کے لیے اپنے خیالات اور حالات و واقعات کو دوسروں تک پہنچانا آسابن بنادیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں پیش آنے والے واقعے کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے چند منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ لیکن افوس ناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی خبر یا واقعے کو بغیر تحقیقات کے پوری دنیا میں نشر کی جاتی ہے۔ معلوما ت درست ہو یا غلط اس کی تحقیقات نہیں کی جاتی ہے اس لیے سوشل میڈیا پر شائع یا نشر ہونے والے کسی خبر یا واقعے کے سچ اور جھوٹ ہونے میں تمیز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
مئوثر تحقیقاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر آزادی اظہارِ رائے کے نام پر ہر کوئی دوسروں پر بغیر تحقیقات کے بہتان اور الزامات کی بوچھاڑ کرتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔ آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ جس کا جو دل چاہے وہ اس طرح بیان کرے۔ جس طرح اظہارِ رائے کی آزادی معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے اسی طرح اس کے حدود وقیود اور اصولوں کی پابندی بھی ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اظہارِ رائے ایسی نہیں ہونی چاہیے جو معاشرے کے کسی فرد کی عزت شکنی اور دل آزاری کا باعث بنے۔
معاشرے کے ہرفرد کو اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ہمارا دین اسلام بھی آزادی کے اظہار کے نام پر ہمیں بے لگام ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ بعض افراد سوشل میڈیا پر آزادی اظہار کے نام پر اپنے سیاسی اختلافات اور مفادات کی خاطر قومی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہیں جوکہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہیاور کسی بھی محبِ وطن شہری کو زیب نہیں دیتا۔ ہمیں چاہیے کہ سیاسی اختلافات ضرور رکھیں یہ ہر کسی کا حق ہے۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید بھی کریں۔ اگر بات ملکی سلامتی اور قومی مفاد کی ہو تو تمام تر سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام سیاسی اختلافات کو نظرانداز کرکے ملک کی عزت و وقار کو بلند رکھنے کے لیے سب کو مل کر کوششیں کرنی چاہیے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آج ایک پارٹی کی حکومت ہے کل کوئی دوسری پارٹی اقتدار میں آئے گی۔
کسی ایک فرد کے اقتدار کی خاطر قومی مفادات اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے۔ حکومت کو قومی اداروں کے خلاف منفی پروپیگینڈا کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے لیکن موجودہ حکومت سوشل میڈیا پر قومی اداروں کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈے کرنے والوں کے خلاف تاحال کوئی مئوثر کاروائی کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ افواجِ پاکستان قومی سلامتی کا ضامن ادارہ ہے۔ ہم بحیثیت پاکستانی قوم اللہ پاک کی مہربانی اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں سے محفوظ اور سلامت ہیں۔
افواجِ پاکستان کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈے کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر افواجِ پاکستان کمزور ہوگئیتو یہ ملک ایک دن بھی قائم اور سلامت نہیں رہ سکتا۔ افواجِ پاکستان کے بغیر سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ جس طرح افغانستان، لیبیا، عراق اور شامی افواج کمزورہوگئیں تو اسلامی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہوکر اور بیرونی حملہ آؤروں کا نشانہ بن کر کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ لاکھوں شہری ہلاک اور زخمی ہوگئے اور بچ جانے والوں کی جان ومال اور عزت و آبرو غیر محفوظ ہوگئے۔ وہ مہاجر بن کر دربدر ی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر بعض مفاد پرست عناصر ایک فرد کی چند روزہ اقتدار کی خاطر اپنے ملک کے بہادر محافظوں کی کردار کُشی کرکے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔
