جنگلات ہمارے قومی اثاثہ ہیں، ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے، معمولی غفلت بھی وسیع جنگلات کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ مولانا خلیق الزمان
.
چترال (نمائندہ) شاہی مسجد چترال کے خطیب مولانا خلیق الزمان نے کہا ہے کہ چترال کے سرسبز جنگلات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمت اور آنے والی نسلوں کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چترال کے جنگلات ماحول، آبی ذخائر، جنگلی حیات اور قدرتی حسن کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم بے دریغ درختوں کی کٹائی، غیر قانونی جنگل برداری اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اس قومی اثاثے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معمولی غفلت بھی وسیع جنگلات کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ اسلام بھی ماحول کے تحفظ اور درخت لگانے کی ترغیب دیتا ہے، اس لیے جنگلات کا تحفظ دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
مولانا خلیق الزمان نے سیاحوں، چرواہوں، مقامی آبادی اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ جنگلات میں آگ جلانے اور بغیر بجھائے چھوڑنے سے گریز کریں، غیر قانونی کٹائی کی حوصلہ شکنی کریں اور قدرت کی اس امانت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک درخت کی پرورش میں کئی سال لگتے ہیں، جبکہ اسے تباہ کرنے میں چند لمحے ہی کافی ہوتے ہیں، اس لیے چترال کے جنگلات کو محفوظ اور سرسبز رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
مولانا خلیق الزمان نے محکمہ جنگلات اور متعلقہ حکام سے جنگلات میں پڑے جلانے کی خشک لکڑی اور گھاس پوس کو نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر جنگلات میں خشک لکڑیوں کا ملبہ اور سوکھے ہوئے شاخ کئی برسوں سےپڑے رہنے کے باعث آگ کا باعث بنتے ہیں جبکہ ان کونکالنے سے ایک طرف جنگلات کو آگ سے بچانے میں مدد ملے گی تو دوسری طرف یہ لکڑی سیلاب کی نذر ہوکر ضائع ہونے سے بھی بچ جائیں گے ۔
