سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی کا سلسلہ جاری، گزشتہ ہفتے 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد تھیلے فراہم
صوبہ بھر میں 1611 فعال آٹا ڈیلرز کے ذریعے شہریوں کو 20 کلوگرام آٹے کا تھیلا 2520 روپے میں فراہم کیا گیا، محکمہ خوراک
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے گزشتہ ہفتے صوبہ بھر میں سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں 1611 فعال آٹا ڈیلرز کے ذریعے مجموعی طور پر 4 لاکھ 17 ہزار 168 آٹے کے تھیلے شہریوں کو فراہم کیے گئے۔محکمہ خوراک کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے پشاور ڈویژن میں 1 لاکھ 1 ہزار 955، مردان ڈویژن میں 59 ہزار 389 جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں 1 لاکھ 20 ہزار 737 آٹے کے تھیلے فراہم کیے گئے۔اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں 38 ہزار 129، بنوں میں 12 ہزار 588، ڈی آئی خان ڈویژن میں 41 ہزار 688 جبکہ کوہاٹ ڈویژن میں 42 ہزار 682 آٹے کے تھیلے سرکاری نرخ پر فراہم کیے گئے۔محکمہ خوراک کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے صوبائی اسٹریٹجک ریزرو سے فلور ملز کو روزانہ 3 ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم کی ریلیز جاری ہے، جبکہ شہریوں کو منتخب ڈیلرز کے ذریعے 20 کلوگرام سرکاری آٹے کا تھیلا 2 ہزار 520 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے۔
محکمہ خوراک نے مزید بتایا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 8 فلور ملز پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک کی ٹیمیں گندم اور آٹے کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہی ہیں۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری گندم سے تیار کردہ آٹے کے معیار پر نظر رکھیں اور غیر معیاری آٹے کی فراہمی کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ غیر معیاری آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا سرکاری کوٹہ منسوخ کرنے کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کو معیاری اور سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ آٹے کی فراہمی، معیار اور فلور ملز کی جانب سے ایس او پیز پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
.
.
*خیبرپختونخوا بجٹ کا 8.8 فیصد پولیس کے لیے مختص، دیگر صوبوں میں شرح کم ہے، آبادی کے تناسب سے خیبرپختونخوا میں پولیس کی نفری دیگر صوبوں سے زیادہ: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم*
*پولیس بجٹ میں 3 سال کے دوران 41 فیصد اضافہ، خریداری کے لیے مختص رقم 3.4 ارب سے بڑھ کر 14.52 ارب روپے ہوگئی: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم*
.
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے خلاف سیکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے پیش کی جانے والی چارج شیٹ حقائق اور مکمل اعداد و شمار کے برعکس ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ تین برسوں کے دوران پولیس، سیکیورٹی، ٹی ڈی پیز اور لا اینڈ جسٹس کے شعبوں میں مسلسل وسائل میں اضافہ کیا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ 2024-25 میں خیبرپختونخوا پولیس کا بجٹ 123.2 ارب روپے تھا، جو 2025-26 میں بڑھا کر تقریباً 151 ارب روپے اور 2026-27 میں 173.8 ارب روپے کر دیا گیا۔ یوں تین سال میں پولیس کے بجٹ میں تقریباً 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی اسلحہ اور دیگر پروکیورمنٹ کے لیے 2024-25 میں 3.4 ارب روپے مختص تھے، جبکہ اخراجات 6.8 ارب روپے تک پہنچے۔ 2025-26 میں پروکیورمنٹ کی مختص رقم بڑھا کر 13 ارب روپے کی گئی جبکہ 2026-27 کے لیے 14.52 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو صوبائی بجٹ کا تقریباً 8.8 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب میں پولیس کا بجٹ تقریباً 213 ارب روپے یعنی صوبائی بجٹ کا 3.6 فیصد، سندھ میں 198 ارب روپے یعنی 5.5 فیصد اور بلوچستان میں 87.2 ارب روپے یعنی تقریباً 8 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تقریباً 140,000 پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں اور آبادی کے تناسب سے تقریباً 292 افراد کے لیے ایک پولیس اہلکار موجود ہے، جبکہ پنجاب میں یہ تناسب تقریباً 541 افراد فی پولیس اہلکار ہے۔ یہ اعداد و شمار خود ثابت کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا سیکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے الاؤنسز اور تنخواہوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ پولیس شہداء کے لواحقین کے لیے معاوضے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ شہید کانسٹیبل سے انسپکٹر تک 11 ملین روپے اور پلاٹ، ڈی ایس پی کے لیے 16 ملین روپے جبکہ ایس پی، ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کے لیے 21 ملین روپے تک کا پیکیج رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے ترقیاتی بجٹ کو بھی بڑھایا گیا ہے۔ رواں مالی سال پولیس کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 12.7 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جنہیں ری وائز کرکے تقریباً 22 ارب روپے کیا گیا، جبکہ تقریباً 21 ارب روپے خرچ کیے گئے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں بھی پولیس انفراسٹرکچر، تھانوں کے قیام، فورس کی تنظیم نو اور نئی بھرتیوں پر مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، حالانکہ صوبے کو ان اضلاع کے حوالے سے اپنے جائز مالی وسائل اور این ایف سی کا مکمل حصہ تاحال نہیں مل رہا۔انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی پیز اور سیکیورٹی آپریشنز کے متاثرین کے لیے بھی صوبائی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں تقریباً 55 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ 2023-24 میں 3.9 ارب روپے، 2024-25 میں 4.6 ارب روپے اور 2025-26 میں 19.84 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 2026-27 کے لیے 17 ارب روپے مختص ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ یہ اخراجات بنیادی طور پر وفاق کی ذمہ داری تھے، لیکن وفاق کی جانب سے 2022 سے ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں اس کے باوجود صوبائی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے ساتھ مؤثر عدالتی نظام بھی ناگزیر ہے، اسی لیے خیبرپختونخوا نے لاء اینڈ جسٹس کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو دیگر صوبوں اور وفاق کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے این ایف سی، بجلی کے خالص منافع اور دیگر آئینی و مالی واجبات بروقت ادا کرے تو صوبائی حکومت سیکیورٹی، ضم شدہ اضلاع، پولیس، ٹی ڈی پیز اور لا اینڈ جسٹس کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ محدود وسائل کے باوجود اس شعبے پر ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں وسائل خرچ کر رہی ہے۔