چترال لوئر: بروزگاوں، سین کوڑوم اور دیگر دیہات میں سیلاب نے تباہی مچا دی، متعدد مکانات منہدم، کھڑی فصلیں اور باغات ملبے تلے دب گئے
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) منگل اور بدھ کی درمیانی شب لوئر چترال کے علاقوں بروز، ایون اور دروش میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے کئی دیہات میں تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر درجن سے زائد مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے، جبکہ درجنوں دیگر گھروں اور دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ تاہم بروقت سیلابی ریلوں کی اطلاع ملنے پر مکین محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے تھے، جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
بروز کے دیہات گولدہ، سین کوڑوم اور کوڑ، ایون کے موڑدہ اور دروش کے اوسیاک میں ندی نالوں میں شدید طغیانی آئی، جس سے وسیع پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی مکئی، دھان اور جوار کی فصلیں، نیز ناشپاتی، سیب، انگور، آڑو اور انار کے باغات سیلاب سے شدید متاثر ہوئے۔ درجنوں مویشی، جن میں گائے بھی شامل ہیں، سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔اسی طرح چار گاڑیاں ، دو موٹرسائکل بھی ملبے تلے دب گئے ہیں۔
سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ واٹر سپلائی اسکیموں کی پائپ لائنیں سیلاب سے تباہ ہو گئی ہیں، جبکہ کئی چشمے اور ندی نالے سیلابی ملبے سے بھر گئے ہیں۔ دریائے چترال کا پانی بھی گدلا ہونے کے باعث استعمال کے قابل نہیں رہا۔
سیلاب سے دو مساجد بھی شہید ہو گئیں، جبکہ دیہات کی رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ادھر سیلابی ریلوں نے بروز کے مقام پر چترال۔پشاور شاہراہ کو متعدد مقامات پر بند کر دیا، جس کے باعث دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔ تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے فوری طور پر بھاری مشینری کی مدد سے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا۔
دریں اثنا، ٹی ایم اے چترال نے بروز کے متاثرہ علاقوں میں واٹر ٹینکروں کے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی شروع کر دی ہے، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار خشک راشن لے کر متاثرہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی طرح محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی ٹیم بھی متاثرہ علاقوں میں سروے اور نقصانات کے تخمینے کے لیے موقع پر موجود ہے۔

