پری شندور پولو ٹورنامنٹ کے دوران مس کنڈکٹ کے الزام میں پانچ کھلاڑیوں پر ایک سال کےلئے پابندی عائد، ایک سال تک کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جس پر مختلف مکاتب فکر نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر سے نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔،
محترم ڈپٹی کمشنر چترال صاحب،
ہم چترال کے پولو شائقین اور کھلاڑیوں کی جانب سے حالیہ پولو ٹورنامنٹ کے دوران چند پرائیویٹ پولو پلیئرز پر عائد کی گئی یک طرفہ پابندی کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ امر قابل افسوس ہے کہ پولو جیسے روایتی اور باوقار کھیل سے وابستہ افراد کو سنے بغیر، بغیر کسی شوکاز نوٹس، تحریری الزام یا انکوائری کے، محض یک طرفہ الزامات کی بنیاد پر ایک سال کے لیے پولو کھیلنے سے روک دیا گیا۔ یہ طریقہ کار کسی بھی قانونی، اخلاقی یا انتظامی ضابطے کے مطابق نہیں ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کھلاڑی سے میس کنڈکٹ ہوا ہو تو اس کے لیے مناسب فورم، انکوائری کمیٹی، اور صفائی کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ یہ نہ صرف بنیادی انصاف کا تقاضا ہے بلکہ ایک شفاف اور باوقار نظام کی پہچان بھی۔
اس کے علاوہ، ہم یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ پولو پلئرز، جن پر پابندی عائد کی گئی ہے، پورا سال اپنی محنت سے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ وہ اپنے محدود وسائل میں سے پیسہ خرچ کرتے ہوئے، گھوڑے خریدتے ہیں، ان کی تربیت کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں تاکہ چترال کی پولو ثقافت کو زندہ رکھ سکیں۔ یہ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ان کی روزمرہ کی محنت، خواب اور ثقافت کا حصہ ہے۔ ایک کھلاڑی پورا سال گھوڑے کے ساتھ محنت کرتا ہے، اپنے ذاتی اخراجات اور خاندان کی ضروریات کو کمپرومائز کرتے ہوئے۔ اس محنت کے بعد انہیں یک طرفہ اور غیر منصفانہ فیصلے کی سزا دینا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
2. پابندی کے متاثرہ کھلاڑیوں کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔
3. ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو دونوں فریقین کا مؤقف سنے۔
پولو چترال کی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور اسے ذاتی یا ادارہ جاتی ناپسندیدگیوں کی بھینٹ چڑھنے نہیں دینا چاہیے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر انصاف پر مبنی حل نکالے گی۔
شکریہ۔
عطااللہ چترال


