گرم چشمہ میں دریائے لٹکوہ میں کچرا پھینکنے کا معاملہ؛ بلدیاتی نمائندوں کے خلاف ایف آئی آر درج، ٹی ایم او کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا مطالبہ، درخواست تھانے میں جمع کردیا گیا
.
https://www.facebook.com/reel/1167180078920491
گرم چشمہ، لوئر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) گرم چشمہ کے مقام پر دریائے لٹکوہ میں کچرا پھینکنے کے الزام میں منتخب ویلج کونسل چیئرمین صاحبان کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس اقدام پر سول سوسائٹی، عوامی حلقوں اور بلدیاتی نمائندوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایف آئی آر کو صرف احتجاج کرنے والے منتخب نمائندوں تک محدود رکھنا ناانصافی ہے، جبکہ اصل ذمہ دار ادارہ یعنی تحصیل میونسپل آفیسر (ٹی ایم او) اور متعلقہ میونسپل انتظامیہ مسلسل غفلت کی مرتکب رہی ہے۔
سول سوسائٹی کے مطابق دریاؤں میں کچرا ڈالنے کا عمل کسی ایک دن یا احتجاج کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جاری ایک اجتماعی مسئلہ ہے، جس میں بازار، قصاب حضرات، دکاندار، شہری آبادی اور بلدیاتی اداروں کی ناکامی شامل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون حرکت میں آیا ہے تو اس کا اطلاق صرف احتجاج کرنے والے نمائندوں تک محدود رکھنا نہ انصاف ہے اور نہ ہی مسئلے کا دیرپا حل۔
بلدیاتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 (ترمیم شدہ 2018) کے تحت ٹھوس کچرے کی منتقلی، ڈمپنگ سائٹ کی فراہمی اور صفائی نظام کی بحالی تحصیل میونسپل آفیسر کی براہِ راست قانونی ذمہ داری تھی، جسے ڈپٹی کمشنر کے سامنے بارہا تحریری یقین دہانیوں کے باوجود پورا نہیں کیا گیا۔ اس مسلسل غفلت کے نتیجے میں عوامی پانی آلودہ ہوا، صحتِ عامہ کو شدید خطرات لاحق ہوئے اور ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 166، 269/270 اور 277 سمیت متعلقہ ماحولیاتی قوانین کا اطلاق بنتا ہے۔
ایف آئی آر کے اندراج کے ردعمل میں چیئرمین سجاد احمد پرتھوی کی قیادت میں گرم چشمہ اور لوٹکوہ کے بلدیاتی نمائندے تھانہ گرم چشمہ پہنچے، جہاں انہوں نے تحصیل میونسپل آفیسر تحصیل چترال ون (سب تحصیل کرمچشمہ) کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تحریری درخواست جمع کرا دی۔ درخواست کے ساتھ حکومتِ خیبر پختونخوا کا 29 اگست 2025 کا نوٹیفکیشن بھی منسلک کیا گیا، جس کے تحت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، ڈمپنگ یارڈ کے قیام اور صفائی مشینری کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹی ایم او نے جان بوجھ کر سرکاری احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا، صفائی کے لیے دستیاب گاڑیاں اور مشینری غیر فعال رکھی گئیں اور کوئی باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ قائم نہیں کی گئی، جس کے باعث برسوں سے کچرا دریاؤں میں پھینکا جاتا رہا۔ بلدیاتی نمائندوں کے مطابق یہ اقدامات پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 166، 188 اور 217 اور خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اسی موقع پر لوٹکوہ کی چھ ویلج کونسلز کے منتخب چیئرمین، ممبران اور عوام کی جانب سے ایک متفقہ مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں ٹی ایم او کی ناقص کارکردگی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ صفائی کے ناقص انتظامات اور انتظامیہ کی مسلسل بے توجہی کے باعث احتجاجی قدم اٹھایا گیا، تاہم مسئلے کے حل کے بجائے منتخب نمائندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا جمہوری اقدار اور انصاف کے منافی ہے۔
بلدیاتی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر منتخب چیئرمین صاحبان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس نہ لی گئی تو ٹی ایم او کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے ساتھ ساتھ بازاروں، قصاب حضرات اور تجارتی مراکز کی اجتماعی ذمہ داری کے تعین کے لیے بھی قانونی کارروائی کو پوری قوت سے آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی فرد یا ایک عہدے کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا عکاس ہے، اور اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو اس کا نفاذ بھی بلا امتیاز ہونا چاہیے۔

