The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 13 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کی تجویز، ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص

Chitral Times

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کی تجویز، ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کی تجویز، ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص

18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کی تجویز، ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص

.

اسلام آباد (نمائندہ چترال ٹائمز ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 6.81 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، ترقیاتی منصوبوں، کسانوں، رہائشی سہولیات اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے متوازن معاشی ترقی اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجٹ میں وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ کم آمدنی والے ملازمین کو اضافی ریلیف دینے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ملکی معیشت میں نمایاں استحکام آیا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.7 فیصد، بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ ملک کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد تک آ چکی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 38 ارب ڈالر رہیں جبکہ سال کے اختتام تک ان کے 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو چکی ہے۔ مالی خسارہ جو 2023 میں 7.8 فیصد تھا، رواں مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک محدود ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ سال کے 23.4 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 4.5 فیصد رہی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث آئندہ مہینوں میں مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے عوامی فلاح کے لیے پانچ نئے پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’زرخیز پروگرام‘‘ کے تحت ساڑھے سات لاکھ سے زائد چھوٹے کسانوں کو 300 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو 5 فیصد شرح منافع پر گھر بنانے اور خریدنے کے لیے مالی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور ای رکشوں کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا جائے گا، جبکہ بجلی کے زیادہ استعمال والے پرانے پنکھوں کی جگہ توانائی بچانے والے پنکھے فراہم کرنے کیلئے ’’وزیراعظم فین ری پلیسمنٹ پروگرام‘‘ بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں ڈیجیٹل نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں سے منسلک کاروباری مراکز کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ کر 16 لاکھ 90 ہزار ہو گئی ہے جبکہ ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ سالانہ ڈیجیٹل لین دین 6.9 ارب سے بڑھ کر 10.1 ارب ہو گیا ہے جبکہ 92 فیصد ترسیلات زر اب بینکاری نظام کے ذریعے موصول ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور رواں مالی سال کے دوران ایک لاکھ 73 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں۔ کارپوریٹ منافع میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ 11 نئی عوامی سرمایہ کاری سکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ سال کے دوران 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ متعدد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جبکہ حکومت نجکاری پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل کر لی گئی ہے جبکہ دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا، عوامی فلاح کے منصوبوں کو وسعت دینا اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کو معاشی بہتری کے ثمرات پہنچ سکیں۔