وفاقی بجٹ میں بونی بوزند روڈ، لواری ٹنل اپروچ اور گرم چشمہ روڈ ڈراپ، چترال مستوج اور کالاش ویلی روڈ ، لواری ٹنل الیکٹروفیکشن اور جامعہ چترال فنڈز مختص کردیئے گئے

File Photo: Prince Muhyiddin Former MNA Chitral inaugurates the start of the construction work of the Torkhow Roadاسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وفاقی حکومت نے چترال کے تین اہم روڈ منصوبوں بونی-بوزند تورکہو روڈ، چترال گرم چشمہ روڈ اور لواری ٹنل اپروچ روڈ کو رواں مالی سال کے بجٹ سے ڈراپ کر د یا ہے۔ جس پر چترال کے مختلف مکاتب فکر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے منتخب نمائندوں کی سستی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
زرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بونی بوزند تورکہو روڈ کیلئے وفاقی حکومت گزشتہ پندرہ برسوں سے فنڈنگ کررہی ہے مگر صوبائی حکومت کے ادارہ سی اینڈ ڈبلیو کے زریعے اب تک 28کلومیٹر روڈ مکمل نہ ہونا تعجب کی بات ہے ، لہذا اس منصوبے کو ڈراپ کیا جاتا ہے باقی کام کےلئے صوبائی حکومت خود فنڈنگ کرے ، جبکہ وفاقی حکومت سے ابتک ایک آرب سے زیادہ فنڈز ریلیز ہوچکےہیں،
اسی طرح لواری ٹنل پراجیکٹ کو اسی لئے ڈراپ کیا گیا ہے کہ لواری ٹنل کے اندر الیکٹروفیکشن کےلئے خطیر رقم مختص کیا گیا ہے لہذا مذید اس کے لئے فنڈز مہیا کرنا روان مالی سال میں ممکن نہیں ہے۔
دریں اثنا چترال گرم چشمہ روڈ کو بھی گزشتہ تین برسوں کی طرح اس سال بھی پی ایس ڈی پی سے ڈراپ کردیا گیا
تاہم چترال کے پانچ دیگر منصوبوں کےلئے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ (PSDP) میں مجموعی طور پر 6906 ملین روپے مختص کیا گیا ہے۔ زرائع کے مطابق چترال بونی مستوج شندور روڈ کےلئے 1500 ملین روپے، چترال-ایون-بمبوریت روڈ کےلئے 750 ملین روپے ، چکدرہ تاچترال روڈ کےلئے 3556 ملین روپے، لواری ٹنل کے اندر بجلی کی فراہمی کےلئے 1000 ملین روپے اور جامعہ چترال کے لئے 100 ملین روپے شامل ہیں۔


