The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

والد محترم ۔ تحریر۔۔میر سیما آ مان

Chitral Times

والد محترم ۔ تحریر۔۔میر سیما آ مان

والد محترم ۔ تحریر۔۔میر سیما آ مان

والد محترم ۔ تحریر۔  میر سیما آ مان

۔
میرے والد کا جب انتقال ہوا تو انکی عمر ستاسی برس تھی۔۔بیٹی کی حثیت سے باپ کی ستاسی برس عمر بھی بہت چھوٹی لگتی ہے لیکن جب آ پ کسی کے اخلاق کی مدت کو گننا چاہے تو ستاسی برس تک اس دنیا میں اخلاق حتیٰ کہ عزت کے ساتھ رہنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔۔ دیکھا جائے تو ایک مرد کے لیے بیٹھے بٹھائے باپ بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔۔ آجکل ٹین ایجر بچوں کی شادیاں ہو رہی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تین چار سالوں میں تین چار بچوں کے باپ بنے بیٹھے ہیں۔

مگر باپ حقیقتاً ہوتا کیا ہے کس چڑیے کا نام ہے یہ صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنھوں نے خود باپ کا کوئی سوفٹ امیج دیکھا ہو۔۔صرف پیسے کمانے والے صرف میراث جمع کرنے والے مشینی مرد اس معاشرے کو باپ کے نام پر اپنے جیسے مشین ہی دے سکتے ہیں کوئی اخلاقی طور پر رول ماڈل کہلانے لائق باپ نہیں۔۔اور یہی آج کے دور کا المیہ ہے۔ اج کے والدین کو دیکھ کر ماں باپ کے حقوق پر موجود احکامات بھی مضحکہ خیز لگنے لگے ہیں۔نعوذ باللہ مگر میں ایسا کہنے پر مجبور ہوں کیونکہ میں وہ کبوتر نہیں جو آنکھیں بند کرکے حقیقت سے نظریں چرا کر زندگی گزاروں۔۔۔

میرے سامنے باپ کے نام پر ایک وہ تصویر ہے جو میرے اپنے والد کی ہے جنھوں نے ستاسی برس میں میری ماں کے لیے بحیثیت شوہر ایسے شوہر ثابت کہ پچپن سالہ ازدواجی زندگی میں کبھی میری ماں سے اونچی بد نما آواز میں بات نہیں کی کبھی ان پر ہاتھ نہیں اٹھایا کبھی انھیں گالی نہیں دی ہم نے بطور اولاد اپنے والد کو کبھی اس روپ میں نہیں دیکھا۔پھر بحثیت باپ ہم نے اپنے والد کو ایسا شفیق اور انصاف کرنے والا پایا کہ اگر کھانے کے لیے انھیں ایک سیب بھی پیش کی جاتی تو وہ اسے کمرے میں موجود سب لوگوں میں بانٹ کر کھاتے۔بات خوراک کی ہو یا پہنے اوڑھنے کی کوئی بھی چیز میرے والد اور والدہ دونوں نے ہمیشہ ہر چیز اولاد میں انصاف کے ساتھ بانٹا کبھی کسی معاملے میں کوئی امتیازی رویہ نہیں رکھا۔

الحمدللہ۔ دوسری تصویر ان لوگوں کی ہے جو باپ ہونے کے بھی چارجز لیتے ہیں۔ نہ یہ بیوی کے ہمدرد نہ اولاد کہ۔ انکی ساری ہمدردی صرف اپنی ذات سے ہوتی ہے۔ چلیں اسکو بھی چھوڑ دیں پرانے وقتوں میں بھی اچھے برے ظالم ہر قسم کے باپ گزرے ہیں مگر جو المیہ ہیں جن کو دیکھ کر اولاد پر بھی ترس آ تی ہیں وہ ہیں آ ج کل کے والد۔۔پتہ نہیں وہ کونسی گھاس تھی جو خوراک کے نام پر انھوں نے کھائی۔۔ نہ انکو اولاد کے حقوق پتہ ہیں نہ انکو ایک باپ کا وقار۔۔

پرانے وقتوں میں ایک باپ عزت سے خاموشی اور وقار کے ساتھ دس دس بچے پالتے تھے۔ان کے جیپ میں اک آ نہ نہیں ہوتا تھا لیکن بچوں کو کبھی مالی تنگی کا احساس نہ ہونے دیتے تھے۔ پھر انکا اٹھنا بیٹھنا انکے طور طریقے ایسے ہوتے تھے کہ بچہ خود انکی پیروی کرتے ہوئے تمیز دار بن جاتا تھا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا مرد جسکا اٹھارہ گھنٹہ موبائیل میں فیسبوک سکرولنگ میں گزرتا ہو جو اولاد کے سامنے بیوی سے اخلاق سے بات نہ کرتا ہو جسکی زبان گالی سے خالی نہ ہو وہ اولاد کی کیا تربیت کریںگے جنکو خود تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہو۔ یاد رکھیں اولاد کو دینے والی چیز میں سب سے اعلی چیز بہترین تربیت ہے نہ کہ کوئی مہنگا کھلونہ۔ اسلیے بہتر ہے کہ اولاد کو قیمتی تحفوں مہنگے سکولوں بے جا آ ووٹنگ جیسی بکواسیات سے مالہ مال کرنے کے بجائے انکو اچھے برے کی تمیز سکھاؤ جن چیزوں سے روکنا ضروری ہے وہاں روک دو تاکہ پتہ چلے کسی انسان کا بچہ ہے۔

معذرت کے ساتھ مگر میرے پاس فادرز ڈے کے موقع پر اس سے بہتر الفاظ نہیں ہیں کیونکہ بد قسمتی سے میں نے اپنے والد اور چند اور بزرگوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی اچھا رول ماڈل بننے لائق باپ نہیں دیکھا۔ اس تمام حقیقت کے باوجود والدین کے اونچے مقام سے انکار نہیں باپ لا ہراوہ بھی ہو تو ہوتا وہ باپ ہی ہے جسکا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ خدا کرے کہ آج کے نوجوان ٹک ٹوک کی دنیا سے نکلیں اپنا مقام پہچانیں تاکہ کل کو انکے اولاد ہونے پر بھی کوئی فخر کرسکے۔