The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 26 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پولیس کو کسی کے تابع نہیں ہونے دوں گا، مجوزہ پولیس ایکٹ آئین کے تناظر میں دیکھوں گا: فیصل کریم کنڈی

Chitral Times

پولیس کو کسی کے تابع نہیں ہونے دوں گا، مجوزہ پولیس ایکٹ آئین کے تناظر میں دیکھوں گا: فیصل کریم کنڈی

پولیس کو کسی کے تابع نہیں ہونے دوں گا، مجوزہ پولیس ایکٹ آئین کے تناظر میں دیکھوں گا: فیصل کریم کنڈی

پولیس کو کسی کے تابع نہیں ہونے دوں گا، مجوزہ پولیس ایکٹ آئین کے تناظر میں دیکھوں گا: فیصل کریم کنڈی

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ایکٹ کے ذریعے پولیس کو صوبائی حکومت کے تابع کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں، جبکہ کابینہ کے بعض ارکان نے بھی اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے بھی پولیس کو صوبائی حکومت کے ماتحت کرنے کی کوشش کی تھی، جسے عدالت نے روک دیا تھا۔

گورنر نے کہا کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد اگر پولیس ایکٹ میرے پاس آیا تو میں آئین کے تناظر میں اس کا جائزہ لوں گا، تاہم اب تک جو باتیں سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق میں اس ایکٹ کو مسترد کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہادر خیبرپختونخوا پولیس کو کسی کے تابع نہیں ہونے دیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحریک انصاف ہمیشہ پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے، لیکن اب پولیس کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں میں بھی ٹائیگر فورس بھرتی کی گئی، جس سے ان اداروں کو تباہ کیا گیا۔

گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کی داستان رقم کررہی ہے۔ گزشتہ روز افاق نامی پولیس اہلکار شہید ہوا، جبکہ سی ٹی ڈی نے ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ کو ہلاک کیا۔ ہماری پولیس مسلسل قربانیاں دے رہی ہے، لیکن اسے کبھی کابینہ، کبھی وزیراعلیٰ اور کبھی ہوم سیکرٹری کے ماتحت کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی پیشہ ورانہ اور محکمانہ آزادی ختم کرکے اسے اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈی ایس پیز کی بھرتی میں کوٹہ مقرر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ پولیس کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے سیاسی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس کے تفتیشی اور مالی اختیارات بھی واپس لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اگر پولیس کی مراعات دیگر صوبوں سے زیادہ نہیں کی جاسکتیں تو کم از کم دیگر صوبوں کے برابر کی جائیں۔ ایسا فنڈ ہونا چاہیے جس سے پولیس شہداء کے اہلخانہ کی تعلیم اور مکمل کفالت یقینی بنائی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے پولیس کو صدارتی ایوارڈز نہیں دیے تو صوبائی حکومت نے بھی پولیس شہداء کے بجائے من پسند بیوروکریٹس کے نام بھجوائے۔

گورنر نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں امن کی صورتحال انتہائی خراب ہے، لیکن صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ لانگ مارچ پر ہے۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم جب پارٹی رہنما لاشیں گرانے کی باتیں کریں تو یہ فساد کی باتیں ہیں۔ وزیراعلیٰ اسمبلی میں اشتعال اور توڑ پھوڑ کے اشارے دیتے ہیں، کیا اسلام آباد کی تباہی اور ملک کو نقصان پہنچانے کو پرامن احتجاج قرار دیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بانی کی سزا ٹھیک ہے اور ان کے کیسز کے ٹرائل اور علاج کی باتیں کی جارہی ہیں۔ لانگ مارچ صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں، اکثر رہنما فرمائشی گرفتاریاں کروا رہے ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور پولیس کو لانگ مارچ میں لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم یہ کوشش ناکام ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی لانگ مارچ کیے، لیکن نہ سرکاری ملازمین کو استعمال کیا، نہ سرکاری وسائل اور نہ ہی تباہی و توڑ پھوڑ کی باتیں کیں۔

گورنر نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر بھی لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف آراء اور اختلافِ رائے موجود ہے، جبکہ پنجاب اور لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ بھی انتہائی ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو احتجاج اور لانگ مارچ کے بجائے صوبے میں تعلیم اور صحت کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، یونیورسٹیوں میں ٹائیگر فورس بھرتی کرکے بجٹ ختم کیا جارہا ہے، جبکہ اساتذہ، ملازمین اور پنشنرز سراپا احتجاج ہیں۔ صوبے کے متعدد اضلاع میں ڈینگی بڑھ رہا ہے، جبکہ حالات کے باعث متعدد اضلاع میں پولیو مہم بھی شروع نہیں ہوسکی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سی آر بی سی ٹوٹ گئی، لیکن تاحال اس کی بحالی اور امدادی کام نہیں کیا گیا۔ ضم شدہ اضلاع، سابق فاٹا اور پاٹا کے حقوق پر شب خون مارا گیا ہے اور وہاں لیویز اور پولیس اہلکار سراپا احتجاج ہیں۔

گورنر نے کہا کہ بلین ٹری کی باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ دنیا میں کاربن کریڈٹ پر بات ہورہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بلین ٹری کہاں ہے؟ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (کوپ) میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے صوبوں کے حقوق کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت کو بھی اپنے صوبے کے حقوق کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہماری حکومت پانی، بجلی اور رائلٹی کا مقدمہ نہیں لڑ رہی۔ اپوزیشن صوبائی حکومت سے کہتی ہے کہ آئیں، ہم آپ کے ساتھ مل کر حقوق کے لیے لڑتے ہیں، لیکن حکومت ان حقوق پر بات کرنے کو تیار نہیں۔

گورنر نے کہا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو جدید ترین اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی جانب سے جدید ہتھیار صوبائی حکومت کے حوالے کیے جاچکے ہیں، جبکہ باقی جدید ہتھیاروں کی اگلی کھیپ بھی مقررہ اور طے شدہ وقت کے مطابق وفاق کی جانب سے صوبے کے حوالے کردی جائے گی۔

انہوں نے ارکان صوبائی اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اس ایکٹ کو پاس نہ کریں۔ سرکاری افسران ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق سرکاری ملازمین کو کسی بھی ملک دشمن یا ریاست دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے سے روکیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے باتیں کی جارہی ہیں، تاہم وفاق صوبے کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔ صرف لانگ مارچ کو متوقع گورنر راج کا بہانہ نہیں کہا جاسکتا، صوبے کے دیگر مسائل اور مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کبھی بھی کاپٹر اٹیک کے خلاف صوبائی حکومت اور اسمبلی نے قرارداد پاس نہیں کی۔ افغانستان سے مداخلت ہوتی ہے تو ہماری سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔