تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود چترال میں اشیائے ضروریہ کے نرخ برقرار، عوام کا انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بارہا نمایاں کمی کے باوجود چترال میں گیس، آٹا، چاول، گھی، چینی، سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی، جس پر عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ، فوڈ کنٹرول اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں فوری طور پر بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن جب حکومت بار بار تیل کی قیمتوں میں کمی کرتی ہے تو بازاروں میں اشیائے ضروریہ کے نرخ جوں کے توں رہتے ہیں۔ عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ صارفین تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟
عوامی حلقوں کے مطابق چترال میں سبزیوں کی قیمتیں بھی بدستور آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ٹماٹر 250 روپے فی کلو سے کم دستیاب نہیں، جبکہ پیاز 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دیگر سبزیوں کے نرخ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
شہریوں نے مزید نشاندہی کی کہ گھریلو گیس کی قیمتوں میں کمی کے باوجود چترال میں اب بھی پرانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں، مگر متعلقہ ادارے اس معاملے پر خاموش ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو پھر ہر بار تیل مہنگا ہونے پر اشیائے خوردونوش کے نرخ کس بنیاد پر بڑھائے جاتے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اس تضاد کا نوٹس لے، مارکیٹوں میں سرکاری نرخناموں پر سختی سے عمل درآمد کرائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ آٹا، گھی، چاول، چینی، سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا حقیقی فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔ عوام نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ نہ روکا گیا تو غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
