The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 28 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تجاوزات کی جنگ ۔ گل عدن

Chitral Times

تجاوزات کی جنگ ۔ گل عدن

تجاوزات کی جنگ ۔ گل عدن

تجاوزات کی جنگ ۔ گل عدن

.

نوٹ: اس تحریر کو غیر جانبدارانہ سمجھا جائے یہ کسی مخصوص افراد یا کسی مخصوص تنازعے کے متعلق نہیں لکھا گیا۔

دیکھا جائے تو چترال تنازعات کا گڑھ بن چکا ہے۔یہاں کی عدالتوں میں صدیوں سے کھبی نا ختم ہونے والی لڑائیاں لڑی جا رہی ہیں۔جن میں نوے فیصد سے زائد کیسز زمینی تنازعات کے مد میں ہیں۔جہاں کہیں سرکاری زمینوں پر مقامی افراد کا قبضہ ہے تو کہیں مقامی لوگوں کی زمینوں پر سرکار کا قبضہ ہے اور ان تنازعات کا کوئی حل نہیں ہے۔اس خطے میں زمین کی ملکیت کے معاملات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں اور اس میں بڑا ہاتھ بڑا کردار ہمارے نام نہاد عظیم آباؤ اجداد کا ہے۔جنہوں نے ان لڑائیوں کی بنیاد رکھی۔کہیں ناحق زمینوں پر قابض ہو کر تو کہیں وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم کرکے۔۔ ان بزرگوں نے قانون اور شریعت کے رو سے نا خود کھبی جائز اور ناجائز کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی نا اپنے بعد آنے والی نسلوں کو صحیح اور غلط کی پہچان دلا سکے۔یوں چترال جائز ناجائز، حق اور باطل کی جنگ میں صدیوں سے اک پنڈولم کی طرح جھولتا رہا۔

چاہے چاہے بات قانون کی ہو شریعت کی ہو یا معاشرتی اقدار کی ہم اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید میں زندگیاں قربان کرتے رہے۔ایک اینٹ برابر ذمین پر آپس کی لڑائی میں اردگرد کے عوام کا ردعمل آپکو ہمیشہ حیران کر دے گا کہ اس خطے میں کیسے پڑھے لکھے لوگ کتنے بڑے بڑے نام دو گز زمین کے معاملے میں آکر حلال حرام کا فرق سرے سے نہیں جانتے۔۔کتنی معتبر ہستیاں حق کے نام پر ناحق کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔اور اس سب میں قصور ہمارے آباؤ اجداد کا وہ تحفہ ہے جسکا نام جہالت ہے اور یہ نسل در نسل سفر کر رہا ہے۔وہ خود تو اپنے انجام کو پہنچ گئے مگر انکی موجودہ نسلیں ان کے بوئے ہوئے بیج کاٹ رہے ہیں۔

اگر بات صرف زمینی تنازعات پر کی جائے تو چترال کے ہوٹل دکانیں ریستوران تو بعد میں آتی ہیں یہاں تو گھر گھر ناجائز تجاوزات کی” زد “میں ہیں۔ہر شخص نے اپنے گھر کی دیوار پڑوسی کے گھر میں گھسائی ہوئی ہے کیونکہ شاید ہمارے باپ دادوں نے قرآن مجید ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھی تھی ورنہ انہیں پتہ ہوتا کہ دنیا میں ایک بالشت بھر زمین پر قبضہ آخرت میں آگ کا ٹکڑا ہے۔اس لئے اس خطے میں یہ بہت عام بات ہے کہ آپ کسی کے بھی زمین پر اپنا حق جتائیں اور پیشیاں بھگتاتے رہیں نسل در نسل۔۔یہاں حق وہ ہے جسکے ساتھ دینے والے زیادہ ہوں۔۔۔

بہرحال ذمین اگر آپکی ذاتی ملکیت نہیں ہے تو اس زمین سے بلا اجازت اور بغیر اطلاع کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا شرعاً حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے کے زمین پر ہوٹل دکان کھیتی باری یا کسی بھی طرح کے استعمال میں لانے کے لیے اصل مالکان سے (اصل نقل کی پہچان آپکی ذاتی ذمے داری ہے) باقاعدہ طور پر قانونی اجازت تحریری یا گواہوں کی صورت میں این او سی یا لیز لینا لازمی ہے تاکہ بعد میں نقصان سے بچا جا سکے۔ورنہ بغیر اجازت نامے کے کسی کی زمین استعمال میں لانے کے صورت میں حکام کے پاس اختیارات موجود ہیں کہ وہ کوئی بھی کاروائی کر سکتے ہیں مثلاً آپکی تعمیرات مسمار کئے جاسکتے ہیں۔آپ پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے،اور آپ پر زمین غصب کرنے کا مقدمہ بھی ہوسکتا ہے۔

المیہ صرف زمینی تنازعات نہیں ہیں چترال میں کسی بھی معاملے میں جائز ناجائز کا فرق مٹ چکا ہے۔ایک طرف یہاں دینداروں کا راج ہے تو دوسری طرف بے ایمانی غلط بیانیاں جھوٹ عروج پر ہیں۔ابھی تقریباً ایک ماہ پہلے دروش کا واقعہ آپکو یاد ہوگا کہ ایک شخص بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل ہونے کی وجہ سے مارا گیا۔ شریعت کی رو سے کسی کے گھر میں بغیر اجازت اور بغیر اطلاع داخل ہونا سخت ناپسندیدہ اور ناجائز ہے بلکہ شریعت تو یہاں تک آپکو اجازت دیتی ہے کہ کوئی بغیر اجازت کے آپکے گھر میں داخل ہو یا آپ اسے تانگ جھانک کرتے ہوئے پائیں تو جو چیز آپکے ہاتھ لگتی ہے آپ اس سے اسے ماریں چاہے اسکی آنکھ ضائع ہو۔۔۔خیر شریعت سے ہمیں کیا۔ ہمارے علاقے چترال میں تو آپکے مرد رشتے دار کسی بھی عمر کے مرد وں کا ایک دوسرے کے گھروں میں بغیر اطلاع بغیر اجازت آنا جانا بلکل عام بات ہے اور اگر آپ کسی پر اعتراض کریں تو آپکی رشتے داریاں کمزور پڑ جائیں گی۔بلکل اسی طرح خاتون رشتے دار سے مصافحہ کرنا غیر ضروری اور ناجائز ہے مگر چترال میں یہ جائز اور دیہی علاقوں میں لازمی ہے۔اعتراضات بد اخلاقی کے زمرے میں آتے ہیں لہذا اخلاق کے نام پر یہ ناجائز بد اخلاقیات ہم چترالیوں کی روزمرہ زندگی کا معمول ہیں۔

اس مثال کو دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہم اس دنیا میں اپنے آباؤ اجداد کی غلطیوں کی ریپیٹ ٹیلی کاسٹ کے لئے یقیناً نہیں آئے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی غلطیاں سدھاریں تاکہ انکی بخشش کا ذریعہ بن سکیں۔ معاملات اخلاقی ہوں یا زمینی حقائق جائز اور ناجائز کے فرق کو سمجھیں۔ قبضہ اور حق میں فرق کو سمجھیں۔کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے وقت بھی قانونی شرعی اور ضروری اقدامات کی اہمیت کو سمجھیں۔چترال کی امن کو کسی فرقے سے نقصان پہنچے نہ پہنچے لیکن جائز ناجائز حلال حرام حق اور باطل کے فرق کو مٹانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والوں سے ضرور نقصان پہنچے گا۔