ایلون مسک، 2025 میں عالمی سوچ کو بدلنے والی شخصیت اور 2026 کے لیے ہمارے سیکھنے کے اسباق ۔ اقبال عیسیٰ خان
2025 محض ایک کیلنڈر کا سال نہیں تھا بلکہ یہ انسانی سوچ، ٹیکنالوجی اور جراتِ فیصلہ کے امتحان کا سال ثابت ہوا۔ اس سال اگر کسی ایک شخصیت نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ مستقبل کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اسے تخلیق کیا جاتا ہے، تو وہ ایلون مسک ہیں۔ انہوں نے کاروبار، سائنس اور انسانی خوابوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم نہیں کیا بلکہ تقریباً ختم کر دیا۔
اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو 2025 میں ایلون مسک کو دنیا کی سب سے متاثر کن شخصیت کہنا محض جذباتی تحسین نہیں بلکہ ایک ٹھوس تجزیہ ہے۔ دسمبر 2025 تک ان کی مجموعی دولت 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، مگر اصل دولت وہ وژن ہے جس نے انہیں یہاں تک پہنچایا۔ یہ وہ دولت ہے جو ذہن، حوصلے اور مستقل مزاجی سے بنتی ہے، بینک بیلنس سے نہیں۔
مسک کی اصل طاقت یہ ہے کہ انہوں نے دولت کو مقصد نہیں بنایا بلکہ مقصد کو دولت کا ذریعہ بنا دیا۔ ٹیسلا کے ذریعے انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کا خواب نہیں بلکہ حال کی ضرورت بنا دیا۔ اسپیس ایکس کے ذریعے خلا کو چند ریاستوں کی جاگیر سے نکال کر انسانی ترقی کا اگلا میدان بنا دیا۔ نیورالنک اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ان کے خیالات نے انسان اور مشین کے تعلق پر ایک نئی فکری بحث چھیڑ دی۔
اسپیس ایکس کی ری یوزایبل راکٹ ٹیکنالوجی محض ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ سوچ کا انقلاب ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ پائیدار ترقی وہی ہے جو وسائل کو ضائع کرنے کے بجائے بار بار استعمال کا ہنر سکھائے۔ یہی فلسفہ 2026 میں دنیا کو درپیش ماحولیاتی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا حل بن سکتا ہے۔
ایلون مسک پر تنقید بھی ہوئی، سوالات بھی اٹھے، اختلافات بھی سامنے آئے، مگر قیادت ہمیشہ خاموشی سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات قیادت کا مطلب شور، تنازع اور غیر مقبول فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بدلنے والے لوگ ہمیشہ آسان نہیں ہوتے، مگر وہی لوگ راستہ دکھاتے ہیں۔؎
2026 کے دروازے پر کھڑے ہو کر اگر ہم ایلون مسک سے کچھ سیکھ سکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ خواب بڑے ہوں تو خطرات قبول کرنے پڑتے ہیں, ناکامی عیب نہیں، رک جانا عیب ہے۔ سوچ مقامی ہو سکتی ہے مگر وژن ہمیشہ عالمی ہونا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وقت کے ساتھ چلنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں، وقت سے آگے سوچنے والے تاریخ بناتے ہیں۔
ایلون مسک نے 2025 میں دنیا کو یہ سبق دیا کہ مستقبل کسی ایک قوم، ایک ادارے یا ایک فرد کی میراث نہیں، بلکہ ان لوگوں کا حق ہے جو سوال کرنے، آزمانے اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں۔ یہی پیغام 2026 کے لیے ہماری سب سے بڑی رہنمائی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایلون مسک محض ایک صنعت کار نہیں بلکہ اس دور کی سوچ کا استعارہ بن چکے ہیں۔

