چترال کے اٹھارہ سالہ پسماندگی کے ذمہ دار گیارہ سیاسی نمائندے – اسدالرحمان بیگ
اگر آپ خود کو انتہا پسند، ستم گر یا عدل کی میزان بگاڑنے والا چترالی نہیں گردانتے تو آج کے اس تجزیے پر گہرا غور و فکر آپ کے وجود کی باطنی حقیقت کا آئینہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں انتہا پسند سے مراد وہ پارٹی پرست افراد ہیں جو آنکھیں بند کر کے سچائی کی پروا کیے بغیر اپنی پارٹی یا اپنے پسندیدہ سیاسی نمائندے کی کوتاہیوں اور بدعنوانیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ آئندہ کسی بھی چترالی کو ووٹ ڈالنے سے پہلے ان حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جن کا آج ہم تذکرہ کریں گے۔
جس طرح آج کے کالم کا محور ہے کہ “چترال کے اٹھارہ سالہ پسماندگی کے ذمہ دار گیارہ سیاسی افراد”، یعنی یہی وہ گیارہ سیاسی نمائندے ہیں جن کی بدولت آج چترال پچھلے اٹھارہ سالوں سے ترقیاتی انجماد کا شکار ہے۔ یہ گیارہ نمائندے چترال کی وہ سیاسی قیادت ہیں جو گزشتہ اٹھارہ سالوں پر محیط مختلف ادوارِ اقتدار کے سیاسی منظرنامے میں چترال کی نمائندگی کرتے آئے ہیں اور نت نئے عہد و پیمان کے بعد چترالیوں سے ووٹ بٹور چکے ہیں۔
پھر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ پارلیمان تک رسائی کے بعد انہوں نے چترال کو کیا دیا؟ چترال کے بنیادی ڈھانچے پر کتنا کام کیا اور کن دیگر سہولیات سے چترال کو آراستہ کیا۔ اس حوالے سے کچھ جزوی تبدیلیاں اس لیے شمار نہیں کی جا سکتیں کیونکہ بعض تبدیلیاں اور اصلاحات عالمگیر اور زمانے کا تقاضا ہوتی ہیں۔ فرض کریں سیاسی نمائندہ نالائق ہو، اس کی نالائقی موبائل نیٹ ورک کے جگہ جگہ پہنچ جانے کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی؛ پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ، سارا جہاں اس سے بہرہ مند ہوتا ہے، کیونکہ یہ کمپنی کی مجبوری ہوتی ہے۔
کچھ تعمیرات زبردستی بھی ہوتی ہیں، کوئی چاہے یا نہ چاہے، ہو ہی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر چترال شہر کو اپر چترال سے ملانے والا پل ٹوٹ جائے تو سیاسی نمائندہ خواہ کتنا ہی نااہل ہو، یہ پل بن کے رہے گا۔ لیکن ہمارے مفلس نمائندے اکثر ایسی تبدیلیوں کا ذکر چھیڑ کر اپنی نااہلی کا خلا بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ ترامیم، بہتریاں اور اپ ڈیٹس ہوئی ہیں، لیکن اٹھارہ سالوں پر محیط اس طویل عرصے کے لیے یہ ترجیحات نہایت قلیل اور چترالیوں کے ووٹ کے بدلے ناکافی ہیں۔
چترال میں ترقیاتی اور تعمیری منصوبے 2008 سے رکے ہوئے ہیں، اور اگر کہیں ہوئے بھی ہیں تو ناقص معیار، تاخیر اور کرپشن کے دلدل میں پھنس کر یا تو ادھورے چھوڑ دیے گئے ہیں یا عارضی حل کر کے جان چھڑا لی گئی ہے۔ 2008 سے پہلے کے منصوبوں میں کوالٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بہت کم نظر آتی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ہمارے سیاست دان، محکمے اور ٹھیکیدار کرپشن کے جدید اصولوں سے اتنے واقف نہیں تھے جتنے آج ہیں، جیسا کہ آج چترال تا شندور روڈ میں مقدار اور معیار کے ساتھ نظر آتا ہے۔
ایک روڈ انسپیکشن ٹیم آتی ہے، چترالی ٹوپیوں کی بھرمار ہو جاتی ہے، ان کی آمد کے ساتھ ہی سڑک پر تعمیراتی مشینیں چلنے لگتی ہیں، دھماکے ہوتے ہیں اور پہاڑوں پر ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا ہے۔ فیس بک پر کہیں “صرف پی ٹی آئی” تو کہیں “صرف مسلم لیگ ن” کے جملے سنہرے رنگوں میں جھلملاتے ہیں۔ پھر انسپیکشن ٹیم چلی جاتی ہے؛ ابھی اپر دیر پہنچے بھی نہیں ہوتے کہ ان کی آمد سے اٹھنے والا جوش ابال کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور ان کی تنبیہات ہوا بن کر اڑ جاتی ہیں۔
مشرف دورِ اقتدار سے پہلے چترال تا بونی روڈ ایک نہایت اہم منصوبہ تھا۔ اگرچہ کمیت کے حوالے سے کچھ کمزوریاں تھیں، مگر پائیداری میں کہیں کمی نظر نہیں آئی۔ پھر گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور اس کے بعد لواری ٹنل—ایک ایسا خواب جسے پانچ لاکھ چترالیوں نے تعمیر ہوتے دیکھا۔ یہ تین بڑے منصوبے صرف دس سال کے اندر بنیاد رکھے گئے۔ ایک اور بڑا منصوبہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، چترال بائی پاس روڈ ہے، جسے اے این پی کے نمائندوں نے نہایت مختصر مدت میں مکمل کروایا۔
لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد چترال دوبارہ ترقیاتی تعطل اور انجماد کے اندھیروں میں چلا گیا۔ اس بات کا اندازہ ہر پارٹی خود لگائے کہ کب اور کہاں اس کی کتنی حکومت رہی، لیکن اس بہانے کا عوامی ووٹوں سے کوئی تعلق نہیں کہ وفاق میں کون تھا اور صوبے کس کے پاس تھے۔ صوبہ اور وفاق دونوں عوامی خدمات کے لیے خودمختار اور مؤثر طاقت رکھتے ہیں، چاہے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہ بھی ہوں۔
مشرف حکومت کے بعد کیا کیا تعمیری و اصلاحی پیش رفت ہونی چاہیے تھی؟ جیسا کہ ذکر کیا گیا، 2008 کے فوراً بعد چترال میں ترقیاتی منصوبوں پر کام رک گیا۔ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں اور پیپلز پارٹی کی حکومت آئی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔ لواری ٹنل پر کام رک گیا، جو بچا کھچا فنڈ تھا وہ بھی سندھ منتقل کر دیا گیا، اور یوں چترالیوں کے ساتھ تاریخ کی ایک بڑی ناانصافی ہوئی۔
2008 سے لے کر آج تک چترال کے سیاسی افق پر کئی نااہل رہنما آئے اور گئے، جن میں پی ٹی آئی، پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب مل کر تقریباً گیارہ سیاسی نمائندے بنتے ہیں جنہوں نے چترالیوں سے ووٹ لے کر پارلیمان تک رسائی حاصل کی۔ ان کے دورِ اقتدار میں چترال کو کتنا نقصان ہوا اور ہونا کیا چاہیے تھا، یہ ایک الگ داستان ہے۔
1999 میں بننے والی چترال تا بونی روڈ چند ہی سالوں بعد، 2020 تک، متعدد موسمیاتی آفات کی وجہ سے بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی۔ جہاں جہاں یہ بے دردی سے پہاڑوں کا نشانہ بنی اور جن مقامات پر بار بار سیلابی ریلوں نے مٹی اور ریت کی تہیں جما دیں، یہی سیاسی نمائندے اٹھارہ سال انہی ریلوں کے اوپر سفر کرتے رہے۔ انہی پتھروں سے اٹے خستہ حال تارکول پر چلتے رہے، نہ کبھی ریلے ہٹانے کی ہوش آئی اور نہ کہیں ٹوٹا ہوا تارکول بھرنے کی فہم ہوئی۔
الیکشن پر الیکشن لڑتے رہے، اپر چترال سے لوئر چترال تک گیارہ رہنما ایم این اے اور ایم پی اے کے منصب پر جلوہ گر ہوتے رہے، جبکہ چترالی عوام بدترین سفری عذاب کے دن رات کاٹتے رہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جاتا، شکستہ تارکول دوبارہ بھرا جاتا، اٹھارہ بیس سال سے پڑے ریلے مکمل طور پر ہٹائے جاتے، سڑکوں پر پانی چھوڑنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتیں، سڑکوں کے تحفظ کے لیے پابندیاں عائد کی جاتیں اور ہر سال مرمت کے لیے فنڈ مختص کیے جاتے۔
اگر دوسری مرتبہ چترال تا شندور روڈ بنانے کا ارادہ تھا تو اسے 1999 میں بننے والی سڑک کے مقابلے میں کہیں زیادہ معیاری ہونا چاہیے تھا، کیونکہ ستائیس اٹھائیس سال کسی علاقے کی ترقی کے لیے ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ یورپ میں تار برقی پیغام رسانی سے جدید اسمارٹ فون تک کا سفر اس سے کم عرصے میں طے ہوا، جبکہ ہم سڑکوں کی تعمیر میں ترقی کے بجائے تیزی سے زوال کی طرف جا رہے ہیں۔
موجودہ سڑک کو شندور تک کارپیٹڈ ہو کر، دونوں اطراف پانچ پانچ فٹ سیمنٹ کے ساتھ، اعلیٰ اصولوں کے مطابق ایک سال پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر یہ آج بھی سیاسی نمائندوں، این ایچ اے اور ٹھیکیدار کی غفلت، ناقص کارکردگی، کم مقدار و معیار اور بدانتظامی کی تصویر بنی ہوئی ہے، جو آنے والے برسوں میں اپنی خرابی کا منہ بولتا ثبوت دے گی۔
اسی طرح عشریت تا چترال شہر روڈ، لواری ٹنل آر پار سڑک، ایون تا بمبوریت روڈ، تورکہو روڈ اور بونی تا مستوج روڈ، سب بدانتظامی، تاخیر اور ناقص معیار کی مثالیں ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی چالیس سال گزرنے کے باوجود وہ سہولیات آج تک چترال میں میسر نہیں جو ہونی چاہئیں تھیں، اور عوام کو آج بھی پشاور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
آخر میں سوال عوام سے ہے کہ وہ کس خوش فہمی میں پارٹی پرستی کے جنون میں اندھے ہوتے جا رہے ہیں؟ اگر یہی شدت، لگن اور جذبات زندگی کے مثبت پہلوؤں میں صرف کیے جائیں تو یقیناً فائدہ ہو۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست خدمت کے بجائے پروٹوکول اور مفاد سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں سیاست اور قیادت تعمیر و ترقی کے جذبے سے وابستہ ہوتی ہے۔

